
’اب وہ ہمارے مرحومین اور قبرستانوں کے درپے کیوں ہیں‘
نیویارک سمیت امریکہ میں بسنے والی احمدی کمیونٹی میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں احمدیہ جماعت کے قبرستان میں ایک سو سے زائد قبروں کے کتبوں کی تباہی اور قبروں کی بے حرمتی پر سخت تشویش پائي جاتی ہے۔
احمدیہ جماعت شمالی امریکہ کے کئي مراکز میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں احمدیہ قبرستان میں قبروں پر ہونے والے حملوں کے سوگ میں خصوصی اجتماعات ہوئے ہیں، جن میں قبروں کی بے توقیری اور حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شدت پسند دہشتگردانہ حملہ قرار دیا گیا ہے۔ اجتماعات میں کہا گیا کہ لاہور میں قبروں پر ہونے والے حملے بھی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف پاکستان میں کئي برسوں سے جاری تشدد کا ہی تسلسل ہے۔
امریکہ میں جماعت احمدیہ کے ایک اہم مبلغ مربی امام سید شمشاد احمد ناصر نے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی مذہب و عقیدہ قبروں کی بے حرمتی اور حملوں کی اجازت نہیں دیتا جبکہ جماعت احمدیہ کے قبرستانوں پر حملے کوئي غیر ملکی طاقت یا غیر مسلموں کا کام نہیں بلکہ مقامی مذہبی شدت پسندی، تشدد اور امتیازی سلوک ہے جو گزشتہ چار دہائيوں سے جماعت احمدیہ کے خلاف تمام چھوٹ کے ساتھ پاکستان میں جاری و ساری ہے۔
واشنگٹن میں مقیم امام شمشاد احمد ناصر نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ہمیں غیر مسلم اقلیت بھی قرار دے دیا، ہمیں ہماری مسجدوں میں عبادت کرنے جیسے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا، یہاں تک کہ ہمیں ووٹ سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارے زندوں کو قتل کرنے کے ساتھ اب وہ ہمارے مرحومین اور قبرستانوں کے درپے کیوں ہیں۔‘
امام شمشاد ناصر نے جو کہ احمدیہ جماعت کلیفوررنیا کے مبلغ بھی ہیں، احمدیہ جماعت کے قبرستان پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔






























