
بمباری صبح سویرے شروع ہوئی
شام کے شہر حمص سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق فوج نے شہر کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔
تنظیم ’دا سیریئن آبزرواٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہناہے کہ حمص میں خالدیہ کے علاقے پر فضائی بمباری کے علاوہ آرٹلری حملے بھی کیے گئے۔
حمص میں صدر بشار الاسد کے مخالفین میں سے ایک ابو رامی نے خبر رساں ادرے اے پی کو بتایا کہ یہ بمباری صبح فجر کے وقت شروع ہوئی اور بہت شدت سے کی گئی۔
فوج حمص پر پہلے بھی کئی مرتبہ بمباری کر چکی ہے لیکن اپریل کے بعد ان حملوں میں کمی آئی تھی اور فوج کی توجہ شام کے دوسرے شہروں کی جانب منتقل ہو گئی تھی۔
جمعہ کوحمص پر حملوں کے بارے میں وہاں مقیم باغیوں نے بتایا کہ یہ پانچ مہینوں میں ہونے والے شدید ترین حملے ہیں۔
جمعہ کو حمص کے علاوہ دمشق، حلب، حما اور ادلب پر بھی حملے کیے گئے۔ حلب میں باغی ٹھکانوں پر بھاری بمباری کی گئی۔
شام کے سرکاری ٹیلی وئژن نے خبروں میں ان حملوں کو ایسی کارروائی بتایا جو کہ حکومت ’دہشت گردوں اور کرائے کے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے کر رہی ہے۔‘
شام میں حکومت مخالف گروپوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو کئی احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
باغیوں نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ وہ دمشق کے قریب ایک فضائی بیس پر قابض ہونے میں کامیاب ہو ئے ہیں جہاں سے ان کو میزائل راکٹوں کی بڑی تعددا ملی ہے۔آ






























