
حالیہ برسوں میں چرچوں میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ اہم مسئلہ رہا ہے
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے رومن کیتھولک چرچ نے انیس سو تیس کی دہائی سے لے کر اب تک چھ سو سے زیادہ بچوں کے جنسی استحصال کو تسلیم کر لیا ہے۔
ملبورن کے آرچ بشپ ڈینس ہارٹ نے ان اعداد کو ’خوفناک اور شرمناک‘ قراد دیا ہے۔
یہ اعداد وشمار جنسی استحصال کے معاملے میں ریاست کی پارلیمانی تحقیق کے نتیجے میں داخل کیےگئے ہیں۔
جنسی استحصال کے خلاف مہم میں شامل کارکنوں کا خیال ہے کہ جنسی استحصال کے متاثرین کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ان اعداد کو داخل کرتے ہوئے چرچ نے کہا کہ چھ سو بیس معاملے اسی سال پرانے ہیں جن میں سے زیادہ تر معاملے انیس سو ساٹھ اور اسّی کی دہائیوں میں رونما ہوئے ہیں۔
چرچ کا کہنا ہے کہ ابھی بھی پنتالیس کیسوں کی تحقیق کی جا رہی ہے۔
عام معافی
"جولائی دو ہزار آٹھ میں جب پوپ بینڈکٹ سولہ نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے چند متاثرین سے ملاقات کی تھی اور جنسی استحصال کے لیے چرچ کی جانب سے عام معافی مانگی تھی"
آرچ بشپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ دردناک استحصال جو وکٹوریہ یا دوسری جگہوں میں ہوا ان کا سامنے آنا اہم بات ہے۔
انھوں نے کہا:’'ہم نے اس تفتیس میں اس لیے حصہ لیا کہ تاکہ جو بچےجنسی استحصال کا شکار ہوئے ہیں ان کے دکھوں کا مداوا ہو۔‘
جنسی استحصال کے خلاف مہم میں شامل کارکنوں کا خیال ہے کہ بہت سے واقعات کی شکایت نہیں کی جاتی اور وہ منظر عام پر نہیں آتے ان کے مدنظر صرف وکٹوریہ میں متاثرین کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
جولائی دو ہزار آٹھ میں جب پوپ بینڈکٹ سولہ نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے چند متاثرین سے ملاقات کی تھی اور جنسی استحصال کے لیے چرچ کی جانب سے عام معافی مانگی تھی۔






























