
عرشے کے نیچے زیادہ تر عورتیں اور بچے پھنسے ہوئے تھے جو ڈوب گئے
مغربی ترکی کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے ساٹھ کے قریب افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں تقریباً نصف عورتیں اور بچے تھے۔
حکام کے مطابق کشتی پر سوار دوسرے پینتالیس افراد پچاس میٹر تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو کشتی ڈوبتے وقت عرشے کے نیچے دب گئے تھے۔
کشتی میں عراقی، شامی اور فلسطینی باشندے سوار تھے اور یہ یورپ جا رہی تھی۔
بحیرۂ ایجیئن سے اکثر ایسے تارکینِ وطن گزرتے رہتے ہیں جو سمگلروں کو پیسے دے کر ترکی سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان مقامی ہوٹلوں میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کا ارادہ برطانیہ جانے کا تھا۔
ماہی گیر کشتی مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے ازمیر صوبے کے ایک گاؤں کے قریب پتھروں سے ٹکرا کر ڈوبی۔
الارم بجنے کے بعد غوطہ خوروں اور محافظوں نے کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جو اب بھی کشتی پر پھنسے ہوئے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق کیپٹن اور اس کے نائب تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے البتہ انہیں ساحل پر پہنچنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
ترکی کے ایک اخبار نے خبر دی ہے کہ مرنے والوں میں اٹھائیس بچے اور اٹھارہ عورتیں شامل ہیں۔ تاہم ایک مقامی عہدے دار تحسین کرت بے یوگلو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اکتیس بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
افریقہ اور ایشیا سے یورپ جانے کے متمنی اکثر ترکی سے ہو کر گزرتے ہیں۔






























