
امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ وقت پر امریکی کانگریس کو رپورٹ پیش کریں گی کہ آیا حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دیا جائے یا نہیں۔
یہ بات انہوں نے کک آئی لینڈ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
ہلری کلنٹن نے کہا کہ کانگریس کے مطالبے کے مطابق وہ اپنی رپورٹ نو ستمبر کو پیش کریں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی ایوانوں نے ایک قراداد کے ذریعے حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
وزیرِ خارجہ ہلِری کلنٹن کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ نو ستمبر تک حقانی نیٹ ورک کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کریں تاکہ اِس گروہ کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکے اور امریکی حکومت کی طرف سے باضابطہ اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کئی سینیئر رہنماؤں کو امریکہ پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی انتظامیہ کشمکش میں ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے یا نہیں۔
اخبارات کے مطابق اس بارے میں صدر براک اوباما کی انتظامیہ تقسیم کی شکار ہو ہے۔
نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اپنے ذرائع کے توسط سے اِس کی دو بنیادی وجوہات بتائی ہیں۔ اوباما اِنتظامیہ کے کئی اراکین یہ سوالات اُٹھا رہے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد گروہ قرار دینے سے نمبر ایک پاکستان کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور نمبر دو طالبان کے ساتھ مذاکرات کس طرح متاثر ہوں گے۔
امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ جو لوگ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروہ قرار دینے کی مخالفت کر رہے ہیں اُن کے مطابق ایسا کرنے سے، پاکستان کے ساتھ تعلقات بگڑ سکتے ہیں جو حال ہی میں نیٹو کی سپلائی لائن بحال ہونے کے بعد، دوبارہ کچھ بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
امریکی اخبارات کے مطابق دوسرا مسئلہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروہ قرار دیا جاتا ہے تو طالبان اُن گروہوں کا ردعمل کیا ہو گا جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سارے مسئلے کے حل میں مدد کر رہے ہیں۔
اعتراض کرنے والے امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ وہ مذاکرات ترک کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں امریکہ کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔






























