
ریچل کوری فلسطینیوں کے کاز کے لیے امن کارکن تھیں
اسرائیل کی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی امریکی امن کارکن ریچل کوری کی ہلاکت میں اسرائیل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
ریچل کوری دو ہزار تین میں غزہ کی پٹي میں اسرائیلی فوج کے بلڈوزر کے نیچے دب کر ہلاک ہوئي تھیں۔
اسرائیلی فوج کے بلڈوزر غزہ میں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کر رہے تھے اور کوری اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بلڈوزر کے نیچے آگئی تھیں۔
محترمہ کوری کے اہل خانہ نے ان کی موت کے لیے اسرائیلی عدالت میں وزارت دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور ہرجانے کا دعوی کیا تھا۔
جج نے اپنے اہم فیصلے میں تيئس سالہ ریچل کوری کی موت کو ’قابل افسوس‘ قرار دیا لیکن کہا کہ ان کی موت کے لیے اسرائیل ذمہ دار نہیں ہے۔
جج اوڈیڈ گریشن نے حیفہ میں کہا کہ محترمہ کوری جنگ زدہ قرار دیےگئے علاقے میں شدت پسندوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
جج کے مطابق فوجیوں نے وہاں سے لوگوں کو ہٹانے کی پوری کوشش کی تھی اور بلڈوزر ڈرائیور نے انہیں نہیں دیکھا۔ ’وہ اس علاقے سے نہیں نکلیں جب کہ کوئي بھی سمجھ دار شخص ایسا ہی کرتا۔‘
قانونی اور اصولی لڑائی کے طور پر اہل خانہ نے عدالت سے علامتی طور پر اسرائیل پر ایک ڈالر کا جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی تھی لیکن جج نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیل کو کوئی بھی جرمانہ نہیں ادا کرنا ہوگا۔
"جو بھی ہم نے سنا اس سے بہت گہری تکلیف پہنچی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ بہت برا دن ہے، صرف میرے لیے نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے، قانون کی حکمرانی کے لیے اور اسرائیل ملک کے لیے بھی۔"
حیفہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ ریچل کے والدین سنڈی اور کریگ مقدمہ کے لیے امریکہ سے اسرائیل آئے تھے اور فیصلہ سننے کے بعد وہ بہت مایوس اور افسردہ دکھائی دیے۔
فیصلے کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو مزید جوابدہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ’ہم نے جو سنا اس سے ہمیں بہت صدمہ ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’میرا خیال ہے کہ یہ بہت برا دن ہے، صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے، قانون کی حکمرانی کے لیے اور اسرائیل ملک کے لیے بھی۔‘
ریچل کے اہل خانہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو اسرائیل کی سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
کوری کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے دانستہ اور غیر قانونی طور پر ان کی بیٹی کو ہلاک کیا اور پھر اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تفتیش کرانے میں ناکام رہی۔
دو ہزار تین میں ہی اسرائیل کی فوج نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا تھا کہ کہ اس ہلاکت کے لیے فوج ذمے دار نہیں ہے۔
ریچل کوری دو ہزار دو میں غزہ آئی تھیں لیکن وہ پہلے ہی سے ایک امن کارکن تھیں۔ واشنگٹن میں اپنے گھر پر بھی وہ فلسطینیوں کے لیے پر امن پروگرام کرتی تھیں اور پھر وہ انٹرنیشنل سولیڈیریٹی مومنٹ ( آئی ایس ایم) کی کارکن بن گئیں تھیں۔
اسرائیل اس واقعے کو حادثہ قرار دیتا ہے لیکن اس کے بعد سے ریچل ان لوگوں کے لیے مثال بن چکی ہیں جو مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی طریقۂ کار کی مخالفت کرتے ہیں۔






























