
حال ہی میں اس اسرائیلی بچے کو ایک فلسطینی بچی پرحملے کے جرم مین گرفتار کیا گيا تھا
اسرائیلی پولیس نے غزہ کے مغربی کنارے پر فلسطینیوں کی ایک ٹیکسی پر فائر بم کے حملے کے شبہ میں تین اسرائیلی بچوں کو گرفتار کیا ہے۔
مغربی کنارے کے علاقے میں سپر بازار جانے والے افراد کی کار پر حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی روزین فیلڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پولیس نے بارہ سے تیرہ برس کے تین مشتبہ افراد کو دو ہفتے قبل ہوئے واقعے میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتا رکیا ہے۔ اس واقعے میں مولوٹو کاک ٹیل کو فلسطینی ٹیکسی پر پھینکا گيا تھا‘۔
امریکی صدر بارک اوبامہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے اس حملے کی مذمت کی تھی۔
پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں اتوار کے روز ہوئی تھیں اور پیر کو پوچھ گچھ کے بعد انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے وکیل ڈیوڈ ہالوے کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس اس سلسلے میں کوئي ثبوت نہیں ہے۔
اس سلسلے میں جن تین بچوں کو گرفتار کیا گیا ہےان کا تعلق جنوبی یوروشلم کے مقبوضہ علاقے بیت عین میں آباد یہودیوں کی بستی سے ہے۔
"پولیس نے بارہ سے تیرہ برس کے تین مشتبہہ افراد کو دو ہفتے قبل ہوئے واقعے میں ملوث ہونے کے شببہ میں گرفتا رکیا ہے۔ اس واقعے میں مولوٹو کوکٹیل کو فلسطینی ٹیکسی پر پھینکا گيا تھا۔"
حملے کا یہ واقعہ چھ اگست کا ہے اور جس کار پر حملہ ہوا اس میں دو بچے بھی سوار تھے۔ حملے کے بعد کار آگ کے شعلوں میں گھری دیکھی گئي تھی۔
اس ماہ فلسطینیوں پر حملے کا یہ دوسرا اہم معاملہ ہے جس میں عربوں پر حملے کے لیے اسرائیلی بچوں پر الزام عائد کیا گيا۔
ٹیکسی پر حملے کے بعد ہی مرکزی یروشلم میں یہودی بچوں کے ہجوم نے ایک فلسطینی نو عمر لڑکے پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید پر زخمی ہوا تھا۔
حالیہ دنوں میں دیکھا گيا ہے کہ سخت گیر یہودیوں نے مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیوں میں حکومتی کارروائی کے رد عمل میں فلسطینیوں پر کئی حملے کیے ہیں۔






























