
اگر کتاب میں خفیہ راز افشا کیے گئے تو اس کے مصنف مشکل میں پڑ سکتے ہیں
امریکی نیوی سیلز کی اس ٹیم کے ایک سابق رکن نے مئی دو ہزار گیارہ کو ہونے والی اس کارروائی کا آنکھوں دیکھا احوال لکھا ہے جس میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔
نیوی سیلز امریکی فوج کے اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈو ہوتے ہیں جو خصوصی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ پینٹاگان نے کتاب کا جائزہ نہیں لیا۔ یہ جائزہ عمومی ضابطۂ کار کا حصہ ہوتا ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کوئی خفیہ معلومات افشا نہ ہونے پائیں۔
اس کتاب کا نام ’نو ایزی ڈے‘ ہے اور یہ گیارہ ستمبر کو مارک اوون کے فرضی نام سے شائع ہو رہی ہے۔
پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’میرے علم میں نہیں ہے کہ وزارتِ دفاع کی طرف سے کسی نے اس کتاب کا جائزہ لیا ہو۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے بھی کتاب کا جائزہ نہیں لیا۔
اس کتاب کو پینگوئن کا ذیلی اشاعتی ادارہ ڈٹن شائع کر رہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مصنف نے اب فوج کو خیرباد کہہ دیا ہے اور کتاب لکھنے کا مقصد امریکی فوجی تاریخ کے اہم ترین مشنوں میں سے ایک کے بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ہے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ کتاب اس کے ساتھیوں اور ان قربانیوں کے بارے میں ہے جو فوجی اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کتاب سے نوجوانوں میں نیوی سیل بننے کی لگن پیدا ہو گی۔
ناشر نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک سابقہ سپیشل آپریشنز کے وکیل نے اس مقصد کی خاطر کتاب پر نظرِثانی کی تھی کہ ’کہیں اس کے اندر خفیہ تکنیکی معلومات تو نہیں ہیں، اور اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ کتاب سے ملک کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں۔‘
پینٹاگان کے حکام نے کہا ہے کہ اگر کتاب میں ملکی سلامتی کے بارے میں خفیہ معلومات کو افشا کیا گیا تو وہ اس معاملے کو وزارتِ قانون پر چھوڑ دیں گے۔
"کتاب لکھنے کا مقصد امریکی فوجی تاریخ کے اہم ترین مشنوں میں سے ایک کے بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ہے"
ناشر
اگر کوئی شخص خفیہ راز غیر مناسب طریقے سے ظاہر کرے تو اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے کچھ ریٹائرڈ نیوی سیلز اور قومی سلامتی کے عہدے داروں نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں صدر اوباما پر یہ کہہ کر اعتراض کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو مارنے کے آپریشن کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا اور اس دوران خفیہ راز افشا کیے۔
تاہم چیرمین آف دی جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی اور دوسرے سپیشل آپریشنز کے حکام نے ویڈیو پرتنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو غیر پیشہ ورانہ ہے اور اس سے فوج پر لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔






























