
سمارٹ فون کے معاملے میں سام سنگ دنیا کی نمبر ون کمپنی بن گئی ہے
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ امریکی کمپنی ایپل اور جنوبی کوریائی کمپنی سام سنگ نے ایک دوسرے کی موبائل ڈیوائسیز کے کاپی رائٹ یا پیٹنٹ کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت نے دونوں کمپنیوں کی بعض پروڈکٹس کی قومی سطح پر فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ایپل کمپنی نے سام سنگ کے دو پیٹنٹ پروڈیکٹس کی نقل کی ہے جبکہ سام سنگ نے ایپل کے ایک پروڈکٹ کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایپل کے جن پروڈکٹس کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ایپل کا آئی فون تھری جی ایس، آئی فون فار، اور آئی پیڈ ون اور آئی پیڈ ٹو شامل ہیں۔
وہیں سام سنگ کے جن پروڈکٹس کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سمارٹ فون گیلیکسی ایس ون اور اس ٹو، گیلیکسی ٹیب، گیلیکسی ٹیب 1۔10، اور ٹیبلیٹ پی سی شامل ہیں۔
عدالت نے ایپل کمپنی سے کہا ہے کہ وہ سام سنگ کو پیتینس ہزار ڈالر کا معاوضہ کے طور پر ادا کرے اور سام سنگ ایپل کو بیس ہزار ڈالر دے۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریائی عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سنایا ہے جب کیلیفورنیا کی ایک عدالت ایپل اور سام سنگ کے درمیان پیٹنٹ کے حوالے سے ایک بڑے اور اہم مقدمے پر سماعت کرنے والی ہے۔
ٹیکنالوجی کے لیے معروف دونوں ہی کمپنیاں ایک دوسرے پر انٹیلیکچؤل پراپرٹی یعنی کاپی رائٹ کے قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگاتی ہیں۔
اگر عدالت نے اس مقدمہ میں کسی ایک فریق کو قصوار پایا تو اس پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور کسی ایک کمپنی کو دوسری کمپنی کو بڑی رقم ادا کرنا پڑے گي۔
ایپل اور سام سنگ اپنے سمارٹ فون کے لیے معروف ہیں اور دنیا میں مجموعی طور پر دونوں کمپنیاں فون مارکیٹ پر قابض ہیں۔ دونوں میں بنیادی تنازعہ سمارٹ فون کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہے۔
ایپل اپنے فون یا آئی پیڈ کے بیشتر اجزاء سام سنگ سے ہی خریدتی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں میں کراس لائسنسنگ پر معاہدہ نہیں ہو پایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دونوں کمپنیوں کے مالکان کو آپس میں بیٹھ کر بات کرنے کو بھی کہا تھا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔
تکنیکی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر گزشتہ برس اپریل میں سب سے پہلے ایپل نے سام سنگ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اس کے بعد سام سنگ نے بھی ایپل کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔






























