پینٹنگز کے چور کی تلاش

فرانسیسی پولیس ان چور یا چوروں کو ڈھونڈھ رہی ہے جو پیرس کے ایک میوزیم سے پکاسو، میٹسی اور دیگر شہرہ آفاق مصوروں کے فن پارے چورے کر کے لے گئے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ میوزیم آف ماڈرن آرٹ کا الارم کا نظام گزشتہ کئی ہفتے سے مکمل طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔
سکیورٹی کیمروں میں ایک نقاب پوش چور کو عمارت کے اندر ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے ذریعے داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
چوری ہونے والی پینٹنگز کی قیمت تقریباً چھیاسی ملین پاؤنڈ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ چوروں کو یہ پینٹنگز بیچنے میں بڑی دشواری ہو گی کیونکہ یہ سب بہت مشہور پینٹنگز ہیں۔
چوری ہونے والی پنٹنگز میں پیبلو پکاسو کی 1911 میں بنائی جانے والی ’ڈو ود گرین پیز‘، ہینری میٹسی کی ’پیسٹرل‘ (1906)، چارجز براک کی ’اولیو ٹری نیئر ایل ایسٹیک‘ (1906)، ایمیڈیو موڈیگلے کی ’وومن ود فین‘ (1919)، اور فرنارڈ لیگر کی ’سٹل لائف ود کینڈلسٹیک‘ (1922)۔
پیرس کے میئر برٹرانڈ ڈیلانو نے تسلیم کیا ہے کہ میوزیم کا ایک الارم مارچ کے اختتام سے ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا تھا اور اسے ٹھیک کیا جانا تھا کہ چوری ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ چوری پیرس کے ثقافتی ورثے پر ناقابلِ برداشت حملہ ہے۔

















