مجیب قاتلوں کو پھانسی سے کیا حل ہوا؟

شیخ مجیب الرحمان
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے کہاہے کہ مجیب الرحمان نے ہی آزادی کا اعلان کیا تھا

بنگلہ دیش کی آزادی کے ہیرو شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے پانچ مجرموں کو سپریم کورٹ میں اپیل مسترد ہونے کے بعد بدھ کو آدھی رات کے بعد پھانسی سے دی گئی۔

پانچوں سابق فوجیوں کی پھانسی سے قبل اپنے لواحقین سے ڈھاکہ کی سنٹرل جیل میں عجلت میں ملاقات کروائی گئی۔ اس کے بعد ان کی لاشیں رشتہ داروں کے حوالے کر دی گئیں جو انہیں ایمبولنسوں میں گھر لے گئے۔

میت لے جانے والی گاڑیوں پر راستے میں جمع لوگوں نے جوتے برسائے جو مطالبہ کر رہے تھے ان کو بنگلہ دیش کی زمین پر نہ دفنایا جائے۔

لوگ بہت جذباتی تھے۔ مجیب الرحمان کے حامیوں کو اس وقت کا بہت سالوں سے انتظار تھا۔

بنگلہ دیش کے پہلے صدر مجیب الرحمان کو باغیوں نے جو فوج میں جونیئر افسر تھے پندرہ اگست انیس سو پچھتر کی صبح سے پہلے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔باغیوں نے ان کی اہلیہ، تین بیٹوں، دو بہوں اور تقریباً بیس دیگر رشتہ داروں کو بھی ہلاک کیا تھا۔

باغیوں کی مدد سے وجود میں آنے والی فوجی حکومت نے ان کو معافی دے دی تھی۔ ان میں سے کچھ کو بعد میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات کیا گیا۔ ان کے دو سرکردہ رہنماؤں نے تو بعد میں سیاسی جماعتیں بھی بنا لی تھیں اور انتخابات میں بھی حصہ لیا۔

بغاوت کے وقت مجیب الرحمان کی دو بیٹیاں ملک سے باہر تھیں جن میں سے ایک شیخ حسینہ واجد نے قاتلوں کو سزا دلوانا زندگی کا مشن بنا لیا تھا۔

حسینہ واجد نے اپنے والد کی جماعت عوامی لیگ کی باگ ڈور سنبھال لی اور انیس سو چھیانوے میں ملک کی وزیر اعظم بھی بنیں۔انہوں نے قاتلوں کی گرفتاریوں کو یقینی بنوایا جن میں سے چھ اب بھی بیرون ملک روپوش ہیں۔

باغیوں کو مجرم قرار دے دیا گیا لیکن حسینہ واجد کی جماعت اگلے انتخابات ہار گئی اور اقتدار میں آنے والی مخالف جماعت نے اس مقدمے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

عوامی لیگ دوبارہ سن دو ہزار نو میں اقتدار میں آئی اور اس مقدمے پر دوبارہ کارروائی شروع ہو گئی۔ پھانسی کی سزا کے بعد سرکاری وکیل انیس الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کو یقین دہانی ہو گئی کہ کوئی بھی جرم کر کے بچ نہیں سکتا۔

تاہم اس جھگڑے میں مسئلہ صرف انصاف نہیں تھا۔ یہ بھی طے ہونا تھا کہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں کس کا کردار کیا ہے اور کس کا حق زیادہ ہے۔

مجیب الرحمان کا نام نصاب کی کتابوں سے تقریباً خارج ہو گیا تھا۔ ملک کی دوسری بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے بانی ضیا الرحمان کو آزادی کے ہیرو کے طور پر پیش کیا۔

مجیب الرحمان کے قتل کے وقت ضیا الرحمان فوج میں نمبر دو تھے۔ انہوں نے بعد میں ملک میں اپنی آمریت قائم لیکن پھر وہ بھی گولی کا نشانہ بن گئے۔ان کی بیوہ اب ان کی جماعت کی سربراہ ہیں۔وہ مجیب الرحمان کے قتل کے دن پندرہ اگست کو ہی اپنی سالگرہ دھوم دھام سے مناتی تھیں۔

عوامی لیگ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد نصاب کی کتابیں دوبارہ تبدیل کی گئیں اور سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ آزادی کا اعلان مجیب الرحمان نے کیا نہ کہ ضیا الرحمان نے۔

قومی عجائب گھر میں ضیا الرحمان کے بارے میں مختص حصہ بند کر دیا گیا ہے۔ سپورٹس سٹیڈیم میں ان کے مجسمے کو کسی نے خراب کر دیا اور حکومت نے ڈھاکہ کے ضیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام تبدیل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

اس ماحول میں جب صرف جیتنے والے کی خواہش کا احترام ہوتا ہے ماضی کے بارے میں آزادانہ بحث کی گنجائش نہیں رہتی۔