تاریخی نوادرات عراق کے حوالے

عراق تاریخی نوادرات
،تصویر کا کیپشنپندرہ ہزار کے قریب نوادرات عراق سے چرائے گئے تھے

عراق پر امریکی فوج کے حملے کے بعد عراق سے چرائے گئے درجنوں قیمتی تاریخی نوادرات ہالینڈ کی حکومت نے عراق کو واپس کر دیئےہیں۔

بین الاقوامی ادارے انٹرپول کی طرف سے اس انکشاف کے بعد یہ نوادرات عراق سے چرائے گئے ہیں ہالینڈ کے تاریخی نوادرات کی خریدو فروخت کرنے والے ڈیلروں نے انہتر نوادرات حکام کے حوالے کر دیئے۔

ان میں دو ہزار سال پرانا عبادت میں مشغول باریش شخص کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے۔

امریکہ کے حملے کے بعد عراق میں پیدا ہونے والی لاقانونیت میں ہزاروں کی تعداد میں قیمتی تاریخی نوادرات چرا لیے گئے تھے۔

بین الاقوامی سطح پر ان تاریخی نوادرات کا کھوج لگانے کی کوششوں کے باوجود ان میں آدھے بھی بازیاب نہیں کرائے جا سکے ہیں۔

ہالینڈ کے وزیرِ ثقافت نے کہا ہے کہ دنیا کو عراق کو انسانی تہذیب کے گہوارے کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان تاریخی نوادارت کی اہمیت ان کی اصلی جگہ سے ہٹائے جانے سے ختم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کے ڈیلروں کو جب یہ بتایا کہ یہ نوادرات عراق سے چرائے گئے تھے تو انہوں نے فوراً انہیں حکام کے حوالے کر دیا۔

ان نوادرات کے عراق واپس جانے سے قبل انہیں ہالینڈ کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق سے قیمتی نوادرات کا چرایا جانا بھی ایک بہت بڑا سکینڈل ہے۔

بغداد کے عجائب گھر کے باہر موجود امریکی فوجیوں کو اس عجائب گھر کو لوٹنے والوں کو روکنے کا حکم نہیں تھا۔ اس عجائب گھر سے پندرہ ہزار نوادرات چرائے گئے۔