امریکہ: غیرملکی ماہرین کی مانگ میں کمی

- مصنف, سلیم رضوی
- عہدہ, نیویارک
امریکہ میں کام کرنے والی بھارتی کمپنی کے وینکاتیش شکلا کئی سالوں سے سافٹ وئر کے بھارتی ماہرین کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں۔
لیکن یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ اس کے لیے انہیں امریکہ میں سافٹ وئر کی ایک بڑی کمپنی مائیکرو سافٹ اور بھارتی کمپنیوں انفوسس اور وائی پرو سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔
لیکن اب ان کا خیال ہے کہ ان کی کمپنی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ویزہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہوگا کیونکہ بڑی کمپنیوں نے اب بیرون ملک سے کام کی بنیاد پر ویزہ حاصل کرنے والے افراد کو سپانسر کرنا ترک کر دیا ہے۔
اس کی ایک وجہ تو مالی بحران کی وجہ سے کم لوگوں کو ملازمتیں دینا ہے جب کہ دوسری وجہ ویزہ کے بارے میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین ہیں۔
امریکی شہریت اور امیگریشن کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے یونائٹیڈ سٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے ایچ ون بی ورک ویزہ متعارف کروایا ہے جس کا بنیادی مقصد مختلف پیشوں میں مہارت رکھنے والے افراد کو امریکہ میں کام کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
مختلف کمپنیوں کو ہر سال مخصوص کیے جانے والے کوٹے کے مطابق ان افراد کے ویزوں کے لیے درخواستیں دینے کی اجازت ہے جنہیں وہ سپانسر کرنا چاہتی ہوں۔
اس سال حد پینسٹھ ہزار ویزے مقرر کی گئی تھی۔ جبکہ سنہ دو ہزار دس کے مخصوص کوٹے کے لیے امریکی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایچ ون بی ویزہ کی درخواستیں موصول کرنی شروع کر دی ہیں تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود اب تک صرف پینتالیس ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جب کہ اس سے قبل صرف ایک ہفتےمیں کوٹے کے لیےمختص تعداد میں درخواستیں موصول ہو جاتی تھیں۔
امریکہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بھارتی ماہرین کی بہت مانگ ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ایچ ون بی ویزہ جن ماہرین کو دیا گیا ان میں سے ساٹھ فی صد کا تعلق بھارت سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس سال صورتحال مختلف ہے۔ بڑی کمپنیاں جو کہ مالی بحران کا شکار ہوئی ہیں وہ نہ تو خود غیر ملکی ماہرین کو ملازمتیں دے رہی ہیں اور نہ ہی آئی ٹی کمپنیوں کو اتنا پیسہ دے رہی ہیں تاکہ وہ ایسے ماہرین کو ملازمتیں دے سکیں۔
امریکی کانگریس نے غیر ملکی ماہرین کو ملازمتیں دینے کے لیے ایسی تمام کمپنیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو کہ مالی بحران سے متاثرہ اداروں کے لیے مخصوص ریلیف فنڈز حاصل کر رہی ہیں۔
اس پر امیگریشن کے سخت قوانین نے حالات کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
مین ہیٹن میں انڈین نژاد وکیل پراشانتی ریڈی کے زیادہ تر کلائنٹ انڈین نژاد ہیں جو کہ یا تو بھارت میں رہتے ہیں یا امریکہ میں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بھارتی ماہرین امریکہ آنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ یہاں کے مالی حالات کے بارے میں بری خبریں سنتے رہتے ہیں۔‘
امریکی سیٹیزن اور امیگریشن سروسز نے ایچ ون بی ویزہ کے لیے دستاویزات کی ایک طویل فہرست فراہم کرنے کی شرط رکھی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو یہ طریقہ کار بہت پیچیدہ ہو گیا ہے جبکہ دوسری طرف اس پر اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔
ایچ ون بی ویزہ رکھنے والے افراد جو کہ پہلے سے امریکہ میں کام کر رہے ہیں وہ بھی مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ ایک تو ان کو اپنا ویزہ بڑھانے کے لیے مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے اور دوسرا گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے سپانسرز ڈھونڈنا بھی ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
مس ریڈی کا کہنا ہے کہ ’ان مسائل کی وجہ سے وہ لوگ جو یہاں پانچ یا دس سال سے رہائش پذیر ہیں آخرکار اپنا سامان باندھ کر وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘۔
اشیش شرما جو کہ آئی ٹی کے ماہر ہیں آج سے دس سال قبل ایچ ون بی ویزہ حاصل کرکے کیلی فورنیا آئے تھے ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایسے بھارتی ماہرین کی ایک طویل فہرست ہے جو کہ گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے سے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’بے یقینی کی فضا اور ملازمتیں حاصل کرنے کے بہتر مواقع ڈھونڈنے پر پابندی اور اپنے پیشے میں آگے نہ بڑھ سکنے کا احساس آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس سے بہتر آپ کسی ایسے ملک میں جاکر کام کریں جہاں آ پ کو آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔‘







