برلسکونی: ’پوتن کے بہترین دوست‘ جو متوقع اطالوی وزیر اعظم کے لیے دردسر بن چکے ہیں

    • مصنف, مارک لووین
    • عہدہ, بی بی سی نیوز نامہ نگار، روم

اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی، جو ملک کے نئی حکومتی اتحاد کا حصہ ہوں گے، کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ازسرنو تعلقات کی بحالی کے دعوے کے بعد تنقید کے طوفان کا سامنا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے روسی صدر سے خطوط کے ذریعے تعلقات بحال کیے ہیں جن میں پوتن نے ان کو اپنے ’پانچ بہترین دوستوں میں سے پہلا نمبر دیا۔‘

تین بار وزیر اعظم رہنے والے برلسکونی ایک متنازع شخصیت رہے ہیں جن کی سیکس پارٹیز اور روس سے قربت ماضی میں بھی تنقید کی وجہ بنے۔ انھوں نے حالیہ دعویٰ اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی سے گفتگو میں کیا۔

اٹلی کی خبر رساں ایجنسی ’لا پریسا‘ نے اس گفتگو کی آڈیو حاصل کی ہے جس میں برلسکونی کہتے ہیں کہ پوتن نے اُن کی سالگرہ پر ان کو واڈکا شراب کی 20 بوتلیں اور ایک ’پیار بھرا خط‘ بھیجا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے بھی ایک پیار بھرے خط اور لیمبرسکو کی بوتلوں سے جواب دیا، اور صدر پوتن سے تعلقات بحال ہو چکے ہیں، ضرورت سے کچھ زیادہ ہی۔‘

اس آڈیو میں ان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’روسی وزرا نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ہم (اٹلی) بھی ان سے جنگ کر رہے ہیں کیوں کہ ہم یوکرین کو اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کر رہے ہیں۔‘

’میں اپنی ذاتی رائے نہیں دے سکتا کیوں کہ اگر پریس کو اس کی بھنک پڑ گئی تو مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔‘

برلسکونی کی جماعت، فورزا اٹالیا، نے ان کے دھماکہ خیز بیان پر وضاحت دینے کی کوشش کی ہے اور ان کے مطابق سابق وزیر اعظم روس سے ماضی کے روابط کے بارے میں بات کر رہے تھے اور یہ کہ ’روس پر ان کا وہی موقف ہے جو یورپ اور امریکہ کا ہے۔‘

تاہم یہ حالیہ تنازعہ جیورجیا میلونی کے لیے ایک نیا سردرد ہے جو اپنی دائیں بازو کی حکومت بنانے والی ہیں، جس میں برلسکونی کی جماعت بھی بطور اتحادی شامل ہو گی۔

گذشتہ ماہ الیکشن میں فتح کے بعد سے میلونی نے مغربی اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ نیٹو کی حامی اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔

تاہم اب سلویو برلسکونی کے ساتھ ساتھ میٹیو سالوینی بھی ان کے اتحاد میں شامل ہیں اور یہ دونوں شخصیات روس نواز اور پوتن کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔

سنہ 2015 میں یوکرین نے سلویو برلسکونی پر صدر پوتن کے ہمراہ کریمیا کا دورہ کرنے کی وجہ سے تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی جسے روس نے غیر قانونی طور پر ضم کر لیا تھا۔

اٹلی کے جانے پہچانے سیاست دان برلسکونی نے ایک بار روسی صدر کو ایسی چادر تحفے میں دی تھی جس پر ان دونوں کا چہرہ بنا ہوا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران برلسکونی نے کہا تھا کہ ’صدر پوتن صرف یوکرین کے موجودہ صدر زیلینسکی کی جگہ بہتر لوگوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا تازہ ترین بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے اور اٹلی کی نئی سربراہ حکومت میلونی کے درمیان تعلقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹس کے مطابق میلونی نے برلسکونی کی جانب سے تجویز کردہ وزیر کی تعیناتی کو روک دیا جس کے بعد برلسکونی نے میلونی کے حامی کی بطور سپیکر حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک ایسی تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں اُن کا لکھا ہوا ایک نوٹ دیکھا جا سکتا ہے جس میں انھوں نے میلونی کو ’مغرور‘ اور ’بدتمیز‘ قرار دیا۔ اس کے بعد میلونی نے بھرپور جواب دیا کہ ’برلسکونی ایک بات بھول گئے، مجھے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔‘

دونوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت میں اضافے کی ایک وجہ برلسکونی کا یہ اصرار بھی ہے کہ ان کے ایک رکن اسمبلی کو وزیر انصاف بنایا جائے جبکہ میلونی اس کے حق میں نہیں ہیں۔

’کوریئر ڈیلا سیرا‘ اخبار کے مطابق میلونی نے کہا کہ ’برلسکونی ایک ایسے بچھو کی طرح ہیں جو یہ جانتے ہوئے بھی ڈنگ مارتا ہے کہ وہ مر جائے گا۔‘

طاقت کی اس کشمکش میں میلونی 86 سالہ برلسکونی پر حاوی ہوتی نظر آ رہی ہیں جس کی وجہ دائیں بازو میں ان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ ہے جس پر کبھی برلسکونی کا راج ہوا کرتا تھا۔

سنہ 2008 میں برلسکونی کی حکومت کے دوران ہی میلونی کو سیاست میں پہلا بڑا موقع ملا تھا جب ان کو 31 سال کی عمر میں اٹلی کی نوجوان ترین وزیر تعینات کیا گیا تھا۔

تین سال بعد اقتدار سے ہٹائے جانے پر ان کی قانونی مشکلات نے ان کی سیاست قوت کو رفتہ رفتہ کمزور کر دیا۔ 45 سال کی عمر میں وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے والی میلونی کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ برلسکونی پر بازی لے گئی ہیں۔ تاہم دونوں کے درمیان چپقلش ختم جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔

اور ان کے حریف اس چپقلش کا مزہ لے رہے ہیں۔ سیاست دان کارلو کالینڈا نے حال ہی میں لکھا کہ ’برلسکونی کے پاس اب میلونی کی حکومت کی پیدائش روکنے کا واحد راستہ یہ بچا ہے کہ وہ ان کی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کو بم سے اڑا دیں۔‘

تاہم یہ سیاسی ڈرامہ اٹلی کے لیے منفی اثرات رکھتا ہے۔ اٹلی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد دائیں بازو کی پہلی ممکنہ وزیر اعظم سے جڑے خدشات نے یورپی یونین میں اس ملک کی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں نئے ابہام اور خوف کو جنم دیا ہے۔

اس کشمکش سے اکتائے ہوئے اٹلی کے تھکے ہارے شہریوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والی لڑائیوں کی خبروں میں اس سیاسی استحکام کی دور دور تک کوئی نوید نہیں جس کی ان کو امید تھی۔