آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جدید دور کی غلامی: ’انھوں نے مجھے سمگل کیا، میرا ریپ کیا اور میرے مجرموں کو آزاد چھوڑ دیا گیا‘
- مصنف, ہیلی مورٹیمر، اینابل ڈیاز
- عہدہ, بی بی سی ریڈیو فور
انتباہ : یہ کہانی جسمانی تشدد اور جنسی تشدد کی عکاسی پر مشتمل ہے جو بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے۔
گذشتہ چار برس کے دوران پاکستانی نژاد مردوں کے ایک گروہ نے ایزابیل کو انگلینڈ کے متعدد علاقوں میں سمگل کیا، انھیں مختلف قصبوں اور شہروں میں لے جایا گیا تھا جہاں گلیوں، تہہ خانوں اور خالی اپارٹمنٹس میں انھیں سینکڑوں مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور ریپ کرنے والے اس کے عوض اس گروہ کے کارندوں کو پیسے دیتے جو اس کام میں ملوث تھا۔
پاکستانی نژاد مردوں کے اس گروہ نے ایزابیل کو اس دوران شدید تشدد کا نشانہ بھی بنائے رکھا۔ وہ اُن پر پٹرول چھڑکتے اور انھیں متنبہ کرتے کہ اگر انھوں نے اس بارے میں کسی کو اطلاع دینے کی کوشش کی تو انھیں جان سے مار دیا جائے گا۔
اگرچہ ایزابیل اپنے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بے چین تھیں لیکن وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے پولیس سے پوچھا کہ وہ انھیں کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور تفتیش کے دوران چھپنے کے لیے ایک محفوظ جگہ فراہم کر سکتے ہیں تو اُن (پولیس) کے پاس اس حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
اس گروہ کو معلوم تھا کہ وہ کہاں رہ رہی ہیں اور یہی وجہ تھی کہ آزاد ہونے کے باوجود وہ خوف کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور تھیں۔
پولیس انھیں مشکل میں پھنسے ایسے افراد کے لیے بنائے گئے قومی ادارے ’این آر ایم‘ یعنی نیشنل ریفرل میکانزم تک پہنچانے میں بھی ناکام رہی جو برطانوی حکومت کی جانب سے دورِ حاضر میں غلامی کا شکار افراد اور جنسی استحصال سے متاثرہ لوگوں کی امداد کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کی جانب دوبارہ لوٹ سکیں۔
غیر ملکی متاثرین کی نسبت برطانیہ کے شہریوں کی زیادہ بڑی تعداد کو این آر ایم سے رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے۔ سنہ 2021 میں 31 فیصد ممکنہ متاثرین جنھیں اس ادارے سے رجوع کرنے کا کہا گیا وہ برطانوی شہری تھے۔
سنہ 2021 میں این آر ایم سے رجوع کرنے والی ایسی خواتین اور لڑکیاں جنھیں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا ان میں سے 462 برطانوی شہری جبکہ صرف 46 غیر ملکی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ہیومن ٹریفکنگ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر آپریشنز رابن فلپس کہتے ہیں کہ ایک تاثر یہ ہے کہ سمگلنگ بین الاقوامی سطح پر ہوتی ہے اور یوں برطانوی متاثرین کو ان سہولیات تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
’مایوسی‘
گینگ کے کارندوں کو جب پتہ چلا کہ ایزابیل نے پولیس کو اطلاع دے دی ہے تو انھوں نے انھیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ایزابیل نے ان دھمکیوں کے بارے میں بھی پولیس کو آگاہ کیا لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی حفاظت کے اقدامات پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا تو وہ تفتیش سے دستبردار ہو گئیں۔
مقدمہ خارج کر دیا گیا اور اس گروہ نے انھیں اس زندگی میں واپس آنے پر مجبور کر دیا اور اس دوران وہ حاملہ ہو گئیں۔
ایزابیل نے اس گروہ کو بتایا کہ وہ حاملہ ہیں لیکن چونکہ ان میں سے ایک اس بچے کا ممکنہ باپ تھا اور اسے ڈر تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت ہو جائے گی تو اس نے ان کے پیٹ میں گھونسا مارا اور کہا ’میں اس بچے کو تجھ سے مار کر نکالوں گا، یہ شیطان کا بچہ ہو گا۔‘
ایزابیل کا اسقاطِ حمل ہوا اور انھیں فوری طور پر بحالی مرکز بھیجا گیا جہاں سے انھیں بالآخر این آر ایم سے رجوع کرنے کرنے کا کہا گیا۔
ایک رکنِ پارلیمان سے بات کرنے کے بعد ایزابیل نے دوبارہ مقدمہ دائر کرنے اور این آر ایم کے ذریعے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن اس کے بعد کے مراحل انتہائی کٹھن تھے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’جب میں نے این آر ایم کے ایک ورکر سے قانونی مدد حاصل کرنے کے بارے میں کہا تو انھوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمھیں یہ مدد فراہم نہیں کی جا سکتی کیونکہ تم غیر ملکی پناہ گزین ہو۔‘
لیبر جماعت کی رکنِ پارلیمان جیس فلپس جن سے ایزابیل نے بات کی تھی کہتی ہیں کہ ’این آر ایم کو آغاز میں غیر ملکی متاثرین کے لیے ہی تشکیل دیا گیا تھا لیکن اس قسم کے استحصال کے لیے کوئی سروسز فراہم نہیں کی جاتیں۔‘
انھوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو مختلف مراحل پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے چاہے وہ پولیس کی سطح پر ہو، یا انسانی سمگلنگ اور استحصال سے بچانے والے اداروں میں، لیکن ایزابیل کی مرتبہ تو ہر جگہ ہی خرابی تھی۔‘
’تمام مرحلوں‘ میں ناکامی
این آر ایم سے رجوع کرنے کے ایک سال بعد بھی ایزابیل کو وہ مدد نہیں ملی جس کی وہ حقدار تھیں۔
پولیس کی تفتیش، جو اُن کے اسقاط حمل کے بعد دوبارہ شروع کی گئی تھی، اس وقت ناکام ہو گئی جب پولیس دوبارہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی۔
اس انتہائی غیر محفوظ موقع پر ان کا جنسی استحصال کرنے والا یہ گروہ ایک مرتبہ پھر ان کے دروازے پر آیا اور اس مرتبہ انھیں ایک ایسے قصبے لے جایا گیا جہاں ان کا ایک گینگ ریپ کیا گیا۔
ایزابیل نے پولیس اور این آر ایم میں سماجی اہلکار کو کال کی جنھوں نے حکومت کی حمایت یافتہ اور دورِ حاضر میں غلامی کا شکار افراد کی مدد کرنے والی ’سالویشن آرمی‘ کو مطلع کیا۔
ایزابیل کا کہنا ہے کہ سالویشن آرمی نے انھیں ایک محفوظ مقام آفر کیا لیکن اس کے بدلے میں انھوں نے ایزابیل کو بتایا کہ انھیں اپنا فون وہیں چھوڑنا ہو گا۔
انھوں نے شروعات میں تو ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن جب انھوں نے دوبارہ کال کر کے بتایا کہ انھوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے تو انھیں کہا گیا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
سالویشن آرمی کی ایمیلی مارٹن کہتی ہیں کہ یہ عام پریکٹس نہیں ہے کہ کسی سے ان کا موبائل فون مانگا جائے لیکن ایسا کیا جاتا ہے تو اس کا متبادل فراہم کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ این آر ایم ’غیرملکی باشندوں کو بھی وہی سہولیات فراہم کرتا ہے جو برطانوی باشندوں کو کی جاتی ہیں۔‘
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ’دور حاضر کی غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پُرعزم ہیں اور متاثرین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں‘ اور یہ کہ انھیں امید ہے کہ ’پولیس فورسز جنسی استحصال کے متاثرین کے مقدمات کے بارے میں تفتیش کریں، مجرمان کو کٹہرے میں لائیں اور متاثرین کی امداد کریں۔‘
نیشنل کونسل آف پولیس چیفس نے کہا ہے کہ پولیس کے ردعمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک قومی ٹیم تشکیل دی گئی ہے کہ ’بے رحم مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
امتیازی سلوک
تاہم گریٹر مانچسٹر پولیس کی ایک سابق جاسوس میگی اولیور کہتی ہیں کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے برطانوی متاثرین کو ملک میں سمگل کیے جانے والوں سے مختلف نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام یہ نہیں سمجھتے کہ متاثرین کو تحفظ کی ضرورت ہے، وہ جہاں سے بھی آئے۔ ’اگر یہ میری بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے، تو میں پولیس کو اطلاع دینے کے بارے میں کئی بار سوچوں گی، کیونکہ میرے خیال میں متاثرین کو پہنچنے والے نقصان سے اکثر دس گنا زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب انھیں مایوس کر دیتے ہیں۔‘
ایزابیل کا مستقبل غیر واضح ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ مسلسل اس خوف میں مبتلا رہتی ہیں کہ آیا کوئی ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا اور جب وہ اپنے ساتھ ریپ کرنے والوں کو جیل میں بند دیکھنا چاہتی ہیں تو وہ پولیس پر بھروسہ نہیں کرتیں کیونکہ ’انھوں نے مجھے پہلے دن سے ہی ناکام کیا ہے۔‘
ان کے لیے کسی بھی چیز سے زیادہ تحفظ کا احساس قیمتی ہے۔