آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روس یوکرین جنگ: یوکرین کی فوج نے ایک جوابی کارروائی میں روسی افواج پر آٹھ گنا زیادہ فوجیوں سے حملہ کیا
- مصنف, میریلن تھامس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
یوکرین میں موجود روس کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے گزشتہ ہفتے خارخیو خطے میں یوکرین کے جوابی حملے میں دونوں افواج کی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں ایک روسی فوجی کے مقابلے میں آٹھ یوکرینی فوجی تھے۔
ویٹالی گنچیف نے روسی ٹی وی کو بتایا کہ یوکرین کی فوج شمال میں کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور روسی صفوں میں روس کی سرحد تک ایک دراڈ ڈال دی ہے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے چھ ماہ کی جنگ میں ممکنہ پیش رفت میں 3000 مربع کلومیٹر (1158 مربع میل) علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے شمال مشرق میں مسلسل جوابی حملے میں صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 دیہات واپس لے لیے ہیں۔
اس نے یہ بھی کہا کہ اس کی افواج نے ملک کے جنوبی کھیرسن خطے میں تقریبا 500 مربع کلومیٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
برطانیہ کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج کی کامیابیوں کے روس کے مجموعی آپریشنل ڈیزائن پر ’اہم اثرات‘ مرتب ہوں گے۔
تاہم روس کے ایوان صدر کریملین کے ترجمان نے یہ کہا ہے کہ یوکرین میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ ابتدائی طور پر طے کیے گئے تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ صدر ولادیمیر یوتن تازہ ترین پیشرفت سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔
روس نے کہا کہ اس کی افواج ان علاقوں میں حملے کر رہی ہیں جن پر یوکرین نے حال ہی میں دوبارہ قبضہ کیا تھا۔
اس میں ازیوم اور کوپیانسک کے اہداف بھی شامل تھے جہاں ہفتے کے روز یوکرین نے روسی افواج کو پسپا کر دیا تھا۔ روس نے دونوں قصبوں سے اپنی افواج کی پسپائی کی تصدیق کی جس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس پسپائی سے انھیں اپنی قوت دوبارہ مجتمع کرنے کا موقع ملے گا۔
روس پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے میدان جنگ میں ناکامیوں کا بدلہ لینے کے لیے بنیادی سماجی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اتوار کے روز میزائل حملوں کی لہر کی وجہ سے پورے خطے میں بجلی فراہمی مطعل ہو گئی۔
ڈونیسک کے علاقوں میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
خارخیو شہر کے میئر اہور ٹیریخوف نے اسے یوکرینی فوج کی حالیہ کامیابیوں کا بدلہ لینے کی ایک گھٹیا کوشش قرار دیا ہے۔
یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف نے کہا کہ اب ترجیح خارخیو خطے میں تیزی سے پیشرفت کے ایک ہفتے میں حاصل ہونے والے علاقائی فوائد کو مستحکم بنانا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ روسی فوج نے جنگ کے پہلے ہفتوں سے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ہونے کے بعد بڑی مقدار میں سازوسامان اور گولہ بارود ترک کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک روسی جنگی ٹینک بنانے والی کمپنی نے ان ناکامیوں کے بعد ’چوبیس گھنٹے‘ پیداوار شروع کر دی ہے۔
روس کی سب سے بڑی بکتر بند گاڑیوں کی مینوفیکچرر نیزنی تاگل میں یورالواگونزاوڈ کے کارکنوں کو مبینہ طور پر ’پیداواری ضرورت‘ کی وجہ سے چھٹیوں پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار از ہیوگو باچیگا نے کہا ہے کہ یوکرین افواج کی تیز رفتار پیش قدمی نے روس کو حیران کر دیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یوکرین کی تیز رفتار پیش قدمی نے روس کو دنگ کر دیا ہے۔ کریملین کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی دوبارہ جمع ہو رہے ہیں لیکن خارخیو کے علاقے میں کچھ آزاد کرائے گئے علاقوں کی تصاویر حملہ آور افواج کی جلد بازی میں روانگی کا اشارہ دیتی ہیں اور فوجی گاڑیاں، گولہ بارود اور سازوسامان پیچھے رہ گیا ہے۔
اگر فوائد کی تصدیق ہو جاتی ہے اور اگر ان کے پاس ہے تو یہ پانچ ماہ قبل روسی فوجیوں کے کیو خطے سے نکلنے کے بعد اگلے محاذوں پر سب سے اہم تبدیلی ہے۔ یہ غیر معمولی پیش رفت روس کے لیے ذلت آمیز دھچکا ثابت ہوگی اور یوکرین کے اس موقف کو فروغ دے گی کہ وہ مزید مغربی ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے ہوئے روسیوں کو باہر دھکیل سکتا ہے۔
صدر زیلنسکی نے ایک ممکنہ پیش رفت کے بارے میں بات کی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ موسم سرما سے پہلے مزید پیش رفت ہوسکتی ہے۔ لیکن ملک کو اب بھی بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کا تقریباً پانچواں حصہ قبضے میں ہے اور جنوب میں یوکرینی فوجیوں کو مبینہ طور پر شدید مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ روس نے اپنے ٹھکانے مضبوط کر لیے ہیں۔
یوکرین کو لگتا ہے کہ اس میں رفتار ہے اور وہ آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھائے جا رہے ہیں کہ یوکرین کی افواج کہاں تک جا سکتی ہیں.
یہ بھی پڑھیے