آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملکہ الزبتھ دوم کا دورہ انڈیا: ’وہ انڈیا کی مہارانی نہیں تھیں، مگر انڈیا میں کروڑوں دلوں کی ملکہ تھیں‘
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب جنوری 1961 میں ملکہ الزبتھ دوم نے پہلی مرتبہ انڈیا کا دورہ کیا تو دہلی کے ہوائی اڈے سے لے کر انڈین صدر کی سرکاری رہائش گاہ تک کے راستے پر تقریباً دس لاکھ لوگ جمع تھے۔
دی نیویارک ٹائمز نے لکھا ’اس ہفتے انڈیا کے شہری اپنے دکھ بھول گئے۔ مکمل طور پر تو نہیں مگر ایسے لگتا ہے کہ معاشی مشکلات، سیاسی جھگڑے اور کمیونسٹ چین، کانگو اور لاؤس کے بارے میں فکرمندی جیسے پسِ منظر میں چلی گئی ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم یہاں ہیں اور دارالحکومت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم دکھائی دیا۔‘
دا ٹائمز نے لکھا کہ ٹرینیں، بسیں اور بیل گاڑیاں لوگوں کو دارالحکومت لا رہی ہیں جہاں وہ شاہی جوڑے کی ایک جھلک دیکھنے کی امید میں سڑکوں اور میدانوں میں گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وہ ملکہ اور پرنس فلپ ڈیوک آف ایڈنبرا کو ایسی شخصیات کے طور پر دیکھتے ہیں جنھوں نے ان کے لیے غم بھلا کر لطف لینا ممکن بنا دیا۔‘
اخبار نے لکھا کہ ’الزبتھ ایک سلطنت کی سرپرست کے طور پر دورہ کرنے نہیں آئیں بلکہ وہ ایک ایسی حکمران کے طور پر آئیں ہیں جو برابری کی سطح پر ہے۔‘ وہ 1947 میں برطانوی راج سے انڈیا کی آزادی کے بعد تخت سنبھالنے والی پہلی برطانوی حکمران تھیں۔
اس دورے نے انڈیا کو ایک موقع فراہم کیا کہ وہ ایک برطانوی حکمران کو دکھا سکیں کہ ’برطانیہ کے ہندوستان سے نکل جانے کے بعد انڈیا اتنی بری حالت میں نہیں ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی‘ مثال کے طور پر جیٹ دور کے ہوائی اڈے، نئے طرزِ تعمیر پر بنے گھر اور دفتری عمارتیں، سٹیل ملز اور ان کے جوہری ری ایکٹر وغیرہ۔
شاہی جوڑے کے لیے برصغیر کا چھ ہفتے کا دورہ انڈیا کو جاننے کی کوشش بھی تھا۔ اس دورے کے دوران بنائی گئی برٹش پاتھ فوٹیج شاہی جوڑے کو ملنے والے پرتپاک استقبال کے بارے میں بہت دلچسپ صورتحال کی منظرکشی کرتی ہے۔
ملکہ نے ممبئی، چنئی اور کولکتہ (اس وقت کے بمبئی، مدراس اور کلکتہ) کے شہروں کا دورہ کیا اور تاریخی مقامات جیسے تاج محل، جے پور میں پنک پیلس اور وارانسی (بنارس) کے قدیم شہر کا دورہ کیا۔ انھوں نے کئی استقبالیوں میں شرکت کی اور دو دن ایک مہاراجہ کے شکار والے لاج میں گزارے اور ہاتھی کی سواری بھی کی۔
26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی شاندار پریڈ میں شاہی جوڑے نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی۔
دہلی کے وسیع و عریض رام لیلا میدان میں ملکہ نے کئی ہزار لوگوں کے پرجوش اجتماع سے خطاب کیا۔ وہ بغیر چھت والی کھلی کار میں ہجوم کے بیچ سے ہاتھ ہلاتی ہوئی آگرہ کے تاج محل تک پہنچیں۔ انھوں نے مغربی بنگال میں برطانوی امداد سے بنائے گئے سٹیل پلانٹ کا دورہ کیا اور کارکنوں سے ملاقات کی۔
کولکتہ میں انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں بنائی گئی ایک یادگار کا دورہ کیا۔
جوڑے کے لیے مقامی کورس میں گھوڑوں کی دوڑ کا اہتمام کیا گیا اور ملکہ نے جیتنے والے گھوڑے کے مالک کو کپ پیش کیا۔
ملکہ نے کولکتہ کے ہوائی اڈے سے شہر تک ایک بنا چھت والی کھلی کار میں سفر کیا جہاں سڑک کے اردگرد لوگوں کا ہجوم تھا۔ اس سفر پر رپورٹ کرنے والے سرکاری نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو کے ایک رپورٹر نے یارکشائر پوسٹ کے اداریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کی مہارانی نہیں ہیں، لیکن لوگوں کا جوش ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی انڈیا میں بسنے والے کروڑوں دلوں کی ملکہ ہیں۔
تقریباً دو دہائیوں کے بعد نومبر 1983 میں ملکہ نے دولت مشترکہ کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کا دوسرا دورہ کیا۔
یہ جوڑا شاندار صدارتی محل میں مہمانوں کے سویٹ میں ٹھہرا، جہاں سے ایک اخبار کے مطابق انڈین فرنیچر اور دیگر سامان ہٹا کر اس کی وائسرائے کی رہائش گاہ جیسی تزئین کی گئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ’دفاتروں اور عجائب گھروں میں پڑے دھول سے اٹے فرنیچر کی مرمت اور صفائی کے بعد اس سویٹ کو سجانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ بیڈ کی چادریں، پردے اور دیگر ساز و سامان کو ماضی کے ساتھ ملانے کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘
مینو میں ’پرانے مغربی طرز کے پکوان‘ شامل تھے کیونکہ بظاہر ملکہ کو ’سادہ کھانا‘ پسند تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا اور پاکستان کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر اکتوبر 1997 میں ان کا آخری دورہ ایک سانحے کے پس منظر میں ہوا۔ یہ شہزادی ڈیانا کی آخری رسومات کے بعد ملکہ کی پہلی عوامی سرگرمی تھی۔
یہ دورہ کچھ تنازعات کا شکار بھی ہوا تھا۔ جب وہ جلیانوالہ باغ کا دورہ کرنے والی تھیں تو ان سے معافی کے مطالبات سامنے آئے۔ سنہ 1919 میں اس مقام پر ایک عوامی اجلاس کے دوران برطانوی فوجیوں نے سینکڑوں ہندوستانیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
شمالی شہر امرتسر میں اس مقام کا دورہ کرنے سے ایک رات قبل ملکہ نے دہلی میں ایک ضیافت کے دوران کہا: ’یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ماضی میں کچھ تکلیف دہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جلیانوالہ باغ، جس کا میں کل دورہ کروں گی، اس تکلیف دہ ماضی کی ایک مثال ہے۔ لیکن ہم چاہے جتنی بھی خواہش اور کوشش کر لیں تاریخ میں واپس جا کر اسے بدل نہیں سکتے۔ گزرے وقت میں غم اور خوشی دونوں طرح کے لمحات ہوتے ہیں۔ ہمیں اداسی سے سبق سیکھنا چاہیے اور خوشی پر مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔‘
یہ تقریر ان سب لوگوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی جو ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے تھے البتہ مرنے والوں کے لواحقین کو اس سے تسلی ملی اور انھوں نے امرتسر کے ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک مظاہرے کو منسوخ کر دیا۔
اس کے بجائے ہوائی اڈے سے شہر تک 10 میل کا راستہ خوشگوار انداز میں پرچم لہراتے لوگوں سے بھرا تھا۔
شہر کے گولڈن ٹیمپل میں جو کہ سکھ مذہب کی سب سے مقدس عبادت گاہ ہے، ملکہ کو جوتے اتارنے کے بعد موزے پہن کر اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔
انڈین میڈیا میں شاہی لباس دلچسپی اور قیاس آرائیوں کا موضوع تھا۔ ان کے 1983 کے دورے کے دوران انڈیا ٹوڈے میگزین کے ایک نمائندے نے رپورٹ کیا کہ ملکہ کی پہنی گئی تقریباً ہر چیز کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر تھیں۔ سنیل سیٹھی نے اس دورے کے بارے میں رپورٹ کیا:
نامہ نگاروں میں سے ایک پکارا۔ ’ملکہ کا ہیٹ (ٹوپی)، یہ کس چیز سے بنا ہے؟‘
ایک انگریز نے انتہائی پرسکون انداز میں جواب دیا: ’دراصل سٹرا (نلکیوں) سے۔‘
’اور لباس؟ کون سا میٹریل؟‘
’دراصل یہ کریپ ڈی چین ہے (چینی کریپ: ہلکا پھلکا، باریک اور نرم ریشمی کپڑا جس کی سطح پر چھوٹی چھوٹی شکنیں ہوتی ہیں)‘۔
میں نے پوچھا ’کیا آپ ملکہ کے ڈیزائنر ہیں؟‘
’انھوں نے جواب دیا ’نہیں محض آپ جیسا ایک رپورٹر‘۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ ٹائمز آف لندن کے دہلی میں مقیم نامہ نگار تھے۔‘
ملکہ نے اپنے تینوں سرکاری دوروں کے دوران انڈیا میں گزرے وقت کو بہت پسند کیا۔
انھوں نے بعد میں کہا ’انڈیا کے لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی اور انڈین معاشرے کا تنوع ہم سب کی حوصلہ افزائی کا سبب بنا ہے۔‘