آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فینکس شہر کی نہریں جو تپتے صحرا میں زندگی کو ممکن بناتی ہیں
- مصنف, کیریڈون کونیلیس
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
180 میل کی نہریں جو فینکس، ایریزونا کو پار کرتی ہیں، لاکھوں لوگوں کو دھوپ سے پکے صحرا میں رہنے کی اجازت دیتی ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ اس کے پراسرار ماخذ کی کہانی نہیں جانتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ایریزونا کے علاقے فینکس میں 180 میل طویل نہریں پورے علاقے میں ایک جال کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ پورا علاقہ وینس اور ایمسٹرڈیم میں نہروں کی مشترکہ لمبائی سے دُگنا سے بھی زیادہ طویل ہے۔
ایک مقامی شہری یعنی فونیشین کی حیثیت سے، میں نے گھنٹوں ان نہروں کے کنارے سائیکل پر گھومنے میں گزارے ہیں۔ نہروں کے ان کنارے پر بے شمار لوگ دوڑتے اور نہروں کے اندر ماہی گیر کشتیاں چلاتے ملتے ہیں۔
میں نے موسم گرما کی ایک شام کو مرکزی ایریزونا نہر میں ٹہلتے ہوئے جنگلی حیات پر نظر رکھنے والوں میں شمولیت اختیار کی ہے تا کہ میکسیکن فری ٹیلڈ چمگادڑوں کے جھنڈوں کو ان کے بستی سے پھڑپھڑاتے ہوئے ایک ساتھ نکلتا دیکھ سکوں۔
مقامی رہائشیوں سے طویل گپ شپ میں مجھے علم ہوا کسی طرح یہ لوگ پلائی ووڈ کی پھٹیوں سے 'سکی' بنا کر اپنی گاڑیوں سے بندھی رسیوں کو تھام کر ان نہروں پر سکینگ کرتے ہوئے اور پانی اور دھول اڑاتے ہوئے ایک محلے سے دوسرے محلے میں جاتے تھے۔
نہریں پورے میٹرو علاقے میں آبپاشی اور پینے کا پانی پہنچاتی ہیں جس سے لاکھوں لوگ دھوپ سے تپتے اس صحرائی علاقے میں رہ سکتے ہیں۔ یہ فینکس کے وجود کی ایک بڑی وجہ ہیں اور شہر کا نام ان کے پراسرار ماخذ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سنہ 1867 میں شہر کے بانی والد جیک سولنگ جو خانہ جنگی کے دونوں اطراف لڑے تھے، وادی نمک کے اوپر کھڑے ہوئے اور آبپاشی کے چینلوں کی باقیات کو دیکھا۔
انھوں نے محسوس کیا کہ صدیوں پہلے کسی معاشرے نے اس صحرا میں کھیتی باڑی کی تھی۔ اس کے فوراً بعد، آبپاشی کے لیے بھل صفائی اور ملبے کو نہروں سے نکالنے کا کام شروع ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں پیشن گوئی کرتا ہوں کہ ایک نیا شہر پرانے کھنڈرات اور راکھ سے فینکس کی طرح باہر آئے گا۔
تین سال بعد، سویلنگ اور دیگر اینگلو بانیاں نے اپنی بستی کے نام پر غور کرنے کے لیے ملاقات کی۔ اکثریت کدوویل اور سٹون وال کے ناموں کے حق میں تھے۔ خوش قسمتی سے، سنکی انگریزی مہم جو "لارڈ" ڈیرل ڈوپا نے نہروں کی بحالی سے متاثر ہو کر ایک نام تجویز کیا۔
انہوں نے سوچا کہ ماضی میں یہاں عظیم لوگ آباد تھے اور مستقبل میں ایک اور عظیم نسل یہاں رہے گی۔ میں پیشن گوئی کرتا ہوں کہ پرانے کھنڈرات اور راکھ سے ایک نیا شہر فینکس کی طرح ابھرے گا۔
اس عظیم معاشرے کا نام ہوہوکم تھا۔ 100 سے 1450 عیسوی کے درمیان انہوں نے 1000 میل نہریں تعمیر کیں جو پیرو کے شمال میں امریکہ میں آبی گزرگاہوں کا سب سے بڑا نظام ہے۔ آبپاشی کے اس جدید نظام نے دریائی پانی اور سات انچ سالانہ بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا اور اسے ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال میں لانے کا نظام تخلیق کیا۔ اور انہوں نے پتھروں اور لاٹھیوں سے ہاتھوں سے کھود کر یہ نظام بنایا۔
ایریزونا میں قائم ثقافتی وسائل کے انتظام اور تحقیقی کمپنی ڈیزرٹ آرکیالوجی کی پرنسپل انویسٹی گیٹر کیتھی ہینڈرسن نے کہا کہ انجینئرنگ غیر معمولی ہے۔ "ہمیں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی جہاں وہ چھوٹی ہیں۔ یقیناً وہ پانی کو طویل فاصلے تک پہنچانے کا ہنر جانتے ہوں گے۔'"
انجینئرنگ غیر معمولی ہے ... وہ بہت دور تک پانی کی نقل و حمل کے طریقہ کار سے بہت ہم آہنگ رہے ہوں گے۔
ایریزونا یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور معاون محقق گیری ہکلبیری کے لیے پانی کے لحاظ سے ہوہوکم اور ان کے آباؤ اجداد آج بھی متعلقہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوب مغربی علاقوں میں ہمیں پانی کے حوالے سے کچھ سنگین مسائل سے نمٹنا ہے۔ "کولوراڈو دریا جنوب مغربی علاقوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہے، اور اس کا پانی کا بڑا حصہ مختص ہو چکا ہے. آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ ہم ان سے کیسے نمٹیں گے؟ میرے خیال میں ماضی کے ان معاشروں کو دیکھ کر کچھ سیکھنا ہے جنہوں نے ہزاروں سال پہلے پانی کا انتظام کیا۔'
مقامی امریکی کم از کم 3500 سال سے ایریزونا میں نہریں تعمیر کر رہے ہیں۔ قدیم ترین آبی گزرگاہوں کے ماہرین آثار قدیمہ کو 1500 قبل مسیح کی تاریخ ملی ہے اور ٹکسن میں سانتا کروز دریا سے پانی کا رخ موڑا گیا تھا۔ ہکلبیری کہتے ہیں کہ آزمائش اور غلطی کے ذریعے ان قدیم دریائی لوگوں نے علم جمع کیا جو نسل در نسل منتقل کیا جاتا تھا۔ تو، جب تک آپ ہوہوکم پہنچتے ہیں، وہ ہنرمند ہائیڈرولک انجینئر تھے۔
آج فینکس میں دریائے نمک زیادہ تر خشک ہے۔ لیکن شہر کے شمال مشرقی مضافات کا دورہ کریں
ان سادہ اوزاروں کے ساتھ، انہوں نے ہر 1.6 کلومیٹر میں 0.3 سے 0.5 میٹر کا ایک درست 'ڈاؤن ہل گریڈینٹ' یا ڈھلوان بنائی۔ نظام کے مرکز میں، دریائے نمک سے شروع ہونی والی نہروں کی چوڑائی زیادہ رکھی گئی کچھ جگہوں پر 25 میٹر سے زیادہ۔ ذیلی نہروں اور کھالوں کی چوڑائی پتلی بنائی گئی، جیسے پانی والی شریانیں اور رگیں بڑی بڑی ہوتی ہیں۔ ڈیزائن کی ان خصوصیات کی وجہ سے گاد اور کٹاؤ کو کم کرتے ہوئے بہاؤ کو ایک سطح تک رکھنے کو یقینی بنایا گیا۔
جیسے جیسے ہوہوکم نے اپنا نیٹ ورک بڑھایا، انہیں علاقے کی ناہموار اور پتھریلی زمین کا سامنا کرنا پڑا۔ میٹرو فینکس کے ارد گرد پہاڑی سلسلوں کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ہائیکنگ کے لیے یہ دنیا کا بہترین شہر ہے۔
لیکن یہ آبی گزرگاہیں بنانے والے ماہرین کے لیے ایک چیلنج ہے، خاص طور پر موسم گرما کے دوران مون سون بارش میں جب موسلا دھار بارشوں کا پانی چٹانوں سے سیلابی ریلوں کی شکل میں نیچے آتا ہے۔ سیلاب سے پشتے ٹوٹ جاتے ہوں گے اور نہریں مٹی اور گارے سے بھر جاتی ہوں گی، جس کا مطلب ہے کہ ہوہوکم کو مسلسل نہروں کی مرمت، صفائی اور ان کا رخ موڑنا پڑتا ہو گا۔ اس کے لیے ایک انتہائی مربوط معاشرے کی ضرورت تھی۔
ہینڈرسن نے کہا کہ اس کے لیے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ اس نہر سے حاصل ہونے والے پانی کے تمام صارفین کو نہ صرف نہر کی تعمیر بلکہ اس کے پانی کی تقسیم پر بھی اتفاق کرنا پڑا ہوگا۔ صارفین کے اتحاد کو پورے نظام کو چلانے کے لیے کچھ شرائط پر اتفاق کرنا پڑا ہوگا۔
مثال کے طور پر، انہوں نے وضاحت کی، تمام کسان ایک ہی وقت میں اپنے کھیتوں کے دروازے نہیں کھول سکتے تھے، کیونکہ اس صورت میں نہر کے آخری حصوں پر واقع زمینوں کو پانی نہیں ملے گا۔ چنانچہ ہوہوکم نے پانی بانٹنے اور اپنے آپ کو نظام الاوقات کا پابند رکھنے کا عہد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پانی کے حقوق کی تشریح ہوئی ہو گی۔
13ویں صدی تک تقریبا 50 ہزار ہوہوکم لوگ ان دیہات میں رہتے تھے جو نہری نظام کے ساتھ مخصوص فاصلوں پر آباد تھے۔ اس سے ماہرین آثار قدیمہ کو پتہ چلتا ہے کہ پانی اور نہری زمینیں بڑی حد تک برابر تقسیم کی گئی تھیں۔
صدیوں کے دوران نہری نظام کو متعدد بار دوبارہ بحال کیا گیا لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوا۔ تاہم 1300 کے بعد معاشرے اور نہروں میں کمی آنے لگی اور 1450 تک آبادی ڈوب چکی تھی۔ کوئی نہیں جانتا کہ کیوں۔ ہو سکتا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی نے کوئی کردار ادا کیا ہو، لیکن اس وقت خاص طور پر شدید موسمی تبدیلی واقع ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔
اور اگرچہ آبپاشی پر انحصار کرنے والی کچھ تہذیبوں کو اپنی زمینوں پر سیم اور تھور کا سامنا کرنا پڑا ہو گا، لیکن تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ہوہوکم نے سیم سے بچاؤ کا کوئی طریقہ اپنایا ہوگا۔
اگرچہ ماہرین آثار قدیمہ کا کبھی خیال تھا کہ ہوہوکم کی آبادی کسی قدرتی آفات کے نتیجے میں برباد ہوئی لیکن جدید تکنیک کے استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا یہاں آباد برادریوں میں عدم اتحاد، سیلاب، سیلابی ملبے، جنگلی غذائی وسائل میں کمی اور باہمی تنازعات کے جیسے عوامل کے پیچیدہ امتزاج کے نتیجے میں بتدریج تباہی کا شکار ہوئی۔
ہکلبیری کا کہنا ہے کہ ہوہوکم اور ان کے آباؤ اجداد سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے 3000 سال تک نہری آبپاشی کا استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ پائیداری کی تعریف ہے۔ انہوں نے سیکھایا کہ کس طرح پائیدار کھیتی باڑی کیسے کی جاتی ہے، پانی کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے، اپنی مٹی کو کس طرح تباہ نہیں کیا جاتا اور ہمیں اس بارے میں بصیرت دے سکے کہ ہم موجودہ حالت زار سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ آپ اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں ڈالتے؛ آپ بدترین حالات کے لیے تیار رہتے ہیں، اور آپ اپنی حکمت عملیوں میں تنوع پیدا کرتے ہیں۔ ‘
ہوہوکم نے شاید اپنے نہری نظام کا انتظام کرنا بند کر دیا تھا، لیکن وہ غائب نہیں ہوئے۔ ان کی کہانی ان کی نسلوں اکیمیل اودھم ("دریائی لوگ") اور توہونو اودھم ("صحرائی لوگ") کے ساتھ جاری ہے جو آج وسطی اور جنوبی ایریزونا میں رہتے ہیں۔
ان کی وراثت شہر کی جدید نہروں کی شکل میں بھی زندہ ہے جن میں سے بہت سی ہوہوکم کی مہارت کو دوبارہ تلاش کر کے تعمیر کی گئیں۔ گرینڈ کینال اب فینکس کے مشرقی اور مغربی مضافات کو مربوط منصوبے کے حصے کے طور پر تیار ہو رہی ہے۔ فینکس کی میئر کیٹ گالیگو نے 2020 میں اعلان کیا تھا کہ آج ہم نہروں کو اپنی کمیونٹیز میں ضم کر رہے ہیں تاکہ پڑوس تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
ہوہوکم کا ورثہ ان کے ایک گاؤں پوئبلو گرانڈے میں بھی محفوظ ہے جو ایک عجائب گھر اور آثار قدیمہ کا پارک ہے جہاں زائرین بال کورٹ، (رسمی گھر) اور دوبارہ ایڈوبی مکانات دیکھ سکتے ہیں۔ ہائیکرز ساؤتھ
لیکن شاید ہوہوکم کی سب سے اہم وراثت میں سے ایک کم ٹھوس ہے: یہ خیال کہ تعاون، عزم اور مشترکہ علم کے ذریعے اس دھوپ سے تپتے صحرا میں پائیدار زندگی گزارنا ممکن ہے۔