جب سوویت یونین نے 269 مسافروں والے کورین طیارے کو میزائل سے مار گرایا

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

31 اگست سنہ 1983 کی رات نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر نیلی آنکھوں والی 23 سالہ ایلس ایفرایمسن ایبٹ نے کورین ایئر لائنز کی سیول جانے والی پرواز 007 میں بیٹھنے سے پہلے اپنے والد ہنس ایفرایمسن ایبٹ کو گلے لگایا۔

جب طیارہ الاسکا کے اینکریج میں ایندھن کے لیے رُکا تو ایلس نے فون پر اپنے والد سے بات بھی کی۔ امریکی رکن کانگریس لیری میکڈونلڈ بھی طیارے میں سوار 61 امریکیوں میں شامل تھے۔

جب طیارے نے اینکریج سے صبح چار بجے سیول کے لیے پرواز بھری تو جہاز کے عملے نے طیارے کو آٹو پائلٹ موڈ پر ڈال دیا۔ عملے کو اندازہ نہیں تھا کہ اس دن جہاز کا آٹو پائلٹ کام نہیں کرے گا۔

تھوڑی دیر بعد طیارہ اپنے مقررہ راستے سے ہٹ گیا اور سوویت سرزمین کی طرف بڑھنے لگا۔ سیول جانے کے بجائے طیارہ تیر کی طرح سوویت یونین کے مشرقی ساحل کی طرف بڑھتا ہوا 245 ڈگری کا زاویہ بنا رہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد، مسافروں نے ایڈریس سسٹم پر ہوائی جہاز کے عملے کی آواز سنی کہ ’خواتین و حضرات، ہم تین گھنٹے کے اندر سیول کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتریں گے۔ ابھی سیول میں صبح کے تین بج رہے ہیں۔ لینڈ کرنے سے پہلے ہم آپ کو ناشتہ پیش کریں گے‘ لیکن یہ طیارہ کبھی بھی سیول نہیں پہنچ سکا۔

طیارہ اپنے راستے سے 200 کلومیٹر دور بھٹک گیا

26 منٹ بعد ہوائی جہاز کے کپتان چون بیونگ نے ’ہنگامی ڈیسنٹ‘ کا اعلان کیا اور عملے کو آکسیجن ماسک پہننے کا حکم دیا۔ جیسے ہی طیارہ سوویت سرحد کے قریب پہنچا، سوویت فوجی اڈوں سے اس کی نگرانی کی جانے لگی۔

امریکی جاسوس طیارہ بوئنگ آر سی 135 پہلے ہی اس علاقے میں جاسوسی والی پروازیں کر رہا تھا۔ یہ طیارے بالکل سویلین طیاروں کی طرح نظر آتے تھے۔

ان پر الیکٹرانک جاسوسی گیئر لگے ہوتے تھے اور یہ صرف مسافر طیاروں کے راستوں پر پرواز کرتے تھے۔ جب کورین ایئر لائنز کی پرواز 007 سوویت سرحد میں داخل ہوئی تو یہ اپنے مطلوبہ راستے سے تقریباً 200 کلومیٹر دور بھٹک چکی تھی۔ روس کے ڈولِنسک سوکول ایئر بیس کے کمانڈروں کو فوری طور پر دو لڑاکا طیاروں کو کورین طیارے کو روکنے کے لیے روانہ کیا گیا۔

سوویت پائلٹ کرنل گینادی اوسیپووچ نے سنہ 1988 میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں نے ایک بوئنگ 747 طیارہ دیکھا جس میں ڈبل ڈیکر کھڑکیاں تھیں۔ فوجی کارگو طیاروں میں ایسی کھڑکیاں نہیں ہوتیں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کس طرح کا طیارہ ہے لیکن میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا، مجھے اپنا کام کرنا تھا۔‘

’میں نے اس طیارے کے پائلٹ کو بین الاقوامی ضابطے کا اشارہ کیا کہ اس نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔‘

امریکی جاسوس طیارہ RC 135 پہلے ہی فعال

ایک اور سوویت لیفٹیننٹ جنرل ویلنٹن ویرینیکوف نے کہا کہ سوویت فضائیہ نے چمکتے ہوئے ٹریسر فائر کر کے کورین پائلٹ کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایوی ایشن کے ماہر پیٹر گریئر نے یکم جنوری سنہ 2013 کے ایئر فورس ميگزن میں شائع اپنے مضمون The Death of Korean Airlines Flight 007 میں لکھا کہ ’تقریباً اسی وقت امریکی فضائیہ کا RC-135 طیارہ بھی اسی علاقے میں پرواز کر رہا تھا۔ الیکٹرانک آلات سے لیس اس طیارے کو کامچاٹکا کے علاقے میں سوویت دفاعی نظام کی جاسوسی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

’اس طرح کے مشنز میں، امریکی طیارے سوویت سرحد تک تو جاتے تھے لیکن احتیاط کرتے تھے کہ اسے عبور نہ کریں۔ ایک موقع پر سوویت ایئر ٹریفک کنٹرولر کو غلط فہمی ہوئی کہ کوریا کا مسافر طیارہ بھی امریکی جاسوس ہو سکتا ہے۔ پہلے سوویت یونین نے اس طیارے کو روکنے کے لیے چار مِگ 23 طیارے بھیجے لیکن ان طیاروں کے پاس اتنا ایندھن نہیں تھا، اس لیے انھیں اپنے اڈوں پر واپس آنا پڑا۔‘

کورین ہوائی جہاز کا ریڈیو سے رابطہ مگر دو الگ الگ بیان

دوسری طرف 007 کے کاک پٹ میں موجود پائلٹس کو اندازہ نہیں تھا کہ سوویت طیارے ان کے ساتھ ساتھ پرواز کر رہے ہیں۔ پہلے کورین طیارہ کامچاٹکا کے علاقے کو عبور کر کے بین الاقوامی سمندری حدود میں داخل ہوا لیکن جب یہ دوسری بار سوویت کے زیر کنٹرول سخالین کے علاقے میں داخل ہوا تو سوویت فضائیہ کو لگا کہ یہ طیارہ کسی فوجی مشن پر ہے۔

سوویت فضائیہ پہلے ہی سے اس علاقے میں امریکی بحریہ کے جہازوں کی مشقوں سے پریشان تھی اور اسی دن اس علاقے میں کچھ میزائلوں کا تجربہ کیا جانا تھا، اس لیے سوویت فوجی ’پہلے گولی مارو، بعد میں سوال کرو‘ کے موڈ میں چلے گئے۔

بعد میں بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’سوویت طیارے نے کورین طیارے سے ریڈیو پر رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سوویت پائلٹس نے طیاروں کو روکنے کے لیے آئی سی اے او کے رہنما اصولوں کی پیروی نہیں کی‘ لیکن سوویت پائلٹ نے کہا کہ اس نے ایمرجنسی کے لیے ریزرو ریڈیو فریکوئنسی پر کورین طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کورین طیارے کے کاک پٹ میں موجود کوئی بھی اسے سن نہیں رہا تھا۔

جب ٹوکیو کے ایئر ٹریفک کنٹرول نے کورین طیارے کو 35000 فٹ کی بلندی پر جانے کے لیے کہا اور اس نے اس پر عمل کیا تو سوویت حکام کو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ طیارہ ان کی پہنچ سے بچنے کے لیے اوپر کی طرف جا رہا تھا۔ اسی وقت یہ طے ہو گیا کہ اسے سوویت سرحد سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اوسیپووچ نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے جہاز کو تباہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ میں نے اپنے ہدف کو پورا کیا۔‘

ایک سوویت کمانڈر نے بعد میں اعتراف کیا کہ انھیں ہر قیمت پر طیارے کو مار گرانے کا حکم تھا، چاہے وہ سوویت سرحد سے نکل کر بین الاقوامی سرحد میں داخل کیوں نہ ہو جائے۔‘

کورین طیارہ میزائل کا نشانہ بننے کے بعد بھی 12 منٹ تک پرواز کرتا رہا

9 ستمبر کو مارشل نکولائی اوگرکوف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ’ایک طیارہ سوویت یونین کے علاقے میں مار گرایا گیا ہے لیکن اس کے پاس اسے مار گرانے کی کافی وجہ تھی۔ وہ طیارہ آر سی 135 ہو یا بوئنگ 747 یہ یقینی طور پر ایک فوجی مشن پر تھا۔‘

اس کے بعد سوویت یونین نے کبھی بیرونی دنیا کو یہ نہیں بتایا کہ اسے طیارے کا ملبہ، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر یا مرنے والوں کی لاشیں ملی یا نہیں۔

طیارے میں سوار افراد کے رشتہ داروں کو ان کی آخری رسومات ادا کیے بغیر ان کا سوگ منانے پر مجبور کیا گیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تو 007 کی پرواز کی چند تفصیلات سامنے آئیں۔

1992 میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد روس نے کاک پٹ وائس ریکارڈر کی گفتگو کی تفصیلات جاری کیں۔ اس کے بعد ہی لوگوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ کوریا کا طیارہ ’ہوا میں تباہ نہیں ہوا تھا۔‘

اوسیپووچ نے ٹوکیو کے وقت کے مطابق صبح 3:26 بجے ایک کوریائی ہوائی جہاز پر فضا سے فضا میں مار کرنے والے دو اے اے تھری میزائل داغے۔ سوویت میزائل کے ٹکڑے طیارے کے عقب میں لگے تھے، جس سے طیارے کے چار ہائیڈرولک نظاموں میں سے تین تباہ ہو گئے لیکن اس کے باوجود کیبن میں دباؤ کم نہیں ہوا اور طیارے کے چاروں انجن چلتے رہے۔

اوسیپووچ نے نیچے کنٹرول روم کو پیغام بھیجا کہ ’ٹارگٹ تباہ ہو گیا ہے‘ لیکن اس وقت تک یہ طیارہ تباہ نہیں ہوا تھا۔ تباہ ہونے والا طیارہ اگلے 12 منٹ تک پرواز کرتا رہا۔ اس کے پائلٹس نے طیارے کو قابو میں کرنے کی پوری کوشش کی لیکن جہاز سخالین کے مغرب میں واقع مونیران جزیرے سے دور سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار تمام مسافروں کے یا تو پرخچے اُڑ گئے یا سمندر کی لہروں میں سما گئے۔

طیارہ 1600 فٹ تک نیچے آگیا

لیکن 12 منٹ تک خطروں سے نبرد آزما ہونے کے باوجود کورین طیارے نے ’مے ڈے‘ کا کوئی اشارہ نہیں بھیجا۔

سیمر ہرش اپنی کتاب The Target Is Destroyed میں لکھتے ہیں کہ ’میزائل حملے کے 40 سیکنڈ بعد فلائٹ 007 نے ٹوکیو ایئر ٹریفک کنٹرول کو ایک پیغام بھیجا، جس میں صرف چند الفاظ واضح طور پر سنے گئے کہ ہم طیارے کو 10000 فٹ کی بلندی پر لے جا رہے ہیں جہاں مسافر ہوا میں سانس لے سکتے ہیں۔‘

لیکن اس وقت بھی ایسا کوئی اظہار نہیں کیا گیا کہ پائلٹ کو معلوم ہو کہ ان کا طیارہ میزائل کا نشانہ بنا ہے۔ جاپان کی ریڈار ٹریکنگ سے پتا چلتا ہے کہ کے اے ایل 007 اگلے چار منٹ تک 16,000 فٹ کی بلندی پر آ چکا تھا۔

اس بلندی پر شاید پائلٹ نے نیچے آنے والے طیارے کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک طیارہ ان کے قابو سے باہر ہو چکا تھا۔ اپنے آخری مرحلے میں طیارہ اپنی پیٹھ کے بل لڑھک گیا اور پائلٹ نے انجن کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حادثے کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

امریکہ کی شدید مذمت

طیارے کے گرائے جانے کی خبر جب امریکہ پہنچی تو اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اسے ’نسل کشی‘ اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ امریکی وزیر خارجہ جارج شولز نے ایک پریس کانفرنس میں سوویت یونین کی کارروائی کی شدید مذمت کی۔

صدر ریگن نے قوم کے نام ایک پیغام نشر کیا اور سوویت پائلٹ اوسیپووچ کی ایک آڈیو ٹیپ سنائی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ طیارے کی مدھم روشنیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے فوراً بعد ایک سوویت سفارتکار امریکی محکمہ خارجہ پہنچا اور جارج شولز کو بتایا کہ انھوں نے طیارے کو سوویت علاقے میں داخل ہونے پر متنبہ کیا تھا۔

اس کے بعد ممکنہ طور پر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ سوویت رہنما یوری اندروپوف نے اس کے برعکس امریکہ پر کورین طیاروں کو خفیہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اس واقعے کو سرد جنگ کے آخری مرحلے کا سب سے خطرناک واقعہ کہا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوویت یونین کے میزائلوں نے اس مسافر طیارے کو کیوں نشانہ بنایا؟

پیٹر گرئیر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’قومی سلامتی ایجنسی کی طرف سے ملنے والے انٹرسیپٹس سے پتا چلتا ہے کہ سوویت یونین کا خیال تھا کہ یہ طیارہ ایک جاسوس طیارہ RC-135 تھا جو ان دنوں سخالین کے ساحل سے دور چاروں طرف چکر لگا رہا تھا۔‘

انٹیلیجنس امور کے مورخ میتھیو ایم ایڈ کا بھی خیال ہے کہ ان دنوں سوویت فضائی دفاعی نظام کی سطح بہت گر گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کئی سازشی نظریات منظر عام پر آئے

اس واقعے کے 30 سال بعد اس سے متعلق تقریباً تمام سوالات کا جواب مل گیا سوائے ایک سوال کے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کا کیا ہوا؟

روسی آج تک دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں ایک بھی لاش نہیں ملی۔ اس دوران کچھ سازشی نظریوں میں کہا گیا کہ سوویت یونین نے اس طیارے میں سوار لوگوں کو بچایا اور برسوں تک یرغمال بنائے رکھا۔

سنہ 2001 میں شائع ہونے والی برٹ شلاسبرگ کی کتاب ’ریسکیو 007‘ میں کچھ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان مسافروں کو سائبیریا کی جیل میں دیکھا تھا۔

لیکن کئی دہائیوں تک فلائٹ 007 میں مسافروں کی نمائندگی کرنے والی وکیل ہوانیتا مڈول نے کہا کہ بہت سے لوگ اپنے پیاروں کی کہانی پر یقین کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں اس کے اور شواہد نہیں ملے۔

دوسری تھیوری میں کہا گیا کہ سوویت یونین نے جان بوجھ کر ان لوگوں کی لاشوں کو تباہ کر دیا تاکہ اس واقعے کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے لیکن مڈول نے کہا کہ یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں۔

پائلٹ کی غلطی

سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی رپورٹ میں کورین ایئر لائنز کے پائلٹ کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گی لیکن اس طیارے کے پائلٹ چون بیونگ تجربہ کار پائلٹ تھے اور سنہ 1972 سے کورین ایئر لائنز کا طیارہ اُڑا رہا تھا۔

مشہور صحافی سیمر ایم ہرش اپنی کتاب The Target Is Destroyed میں لکھتے ہیں کہ ان کا سیفٹی ریکارڈ اچھا تھا۔ اس سے قبل انھیں تین بار جنوبی کوریا کے صدر چن دو ہوان کے سرکاری دورے میں بیک اپ پائلٹ کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

’ان کے ساتھی پائلٹ سن ڈون ہیون کی عمر اس وقت 47 سال تھی اور وہ گذشتہ چار برس سے کورین ایئر لائنز کے ساتھ تھے اور بوئنگ 747 طیارے میں 3500 گھنٹے گزار چکے تھے۔‘

آٹو پائلٹ کی خرابی

کاک پٹ انفارمیشن سسٹمز کے ناسا کے سابق ماہر آصف دیگانی اپنی کتابTaming HAL Designing Interfaces Beyond 2001 میں لکھتے ہیں کہ ’آٹو پائلٹ شاید ’ہیڈنگ‘ موڈ میں تھا۔ یہ ترتیب طیارے کو مقناطیسی کمپاس کے مطابق پرواز کرنے کی ہدایت کرتی ہے جس کی اونچائی پر درستگی 15 ڈگری تک مختلف ہو سکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس آٹو پائلٹ موڈ نے طیارے کو سوویت فضائی حدود میں پہنچا دیا۔‘

’اگر آٹو پائلٹ ’کمپیوٹرائزڈ انرشل نیویگیشن سسٹم (INS)‘ کے تحت اُڑ رہا ہوتا تو اس طیارے نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ یہ سوویت فضائی حدود کے قریب پہنچ جاتا لیکن اس میں داخل نہیں ہوتا۔ شاید کورین ایئر لائنز کے پائلٹس سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ INS موڈ میں پرواز کر رہے ہیں۔‘

ہلاک ہونے والوں کے لیے یادگار

اس واقعے کے پانچ سال بعد اسی طرح کے ایک واقعے میں امریکہ کے یو ایس ایس ونسینس طیارے نے تہران سے دبئی جانے والے ایران ایئر لائنز کے ایئربس اے 300 طیارے کو مار گرایا تھا۔

امریکی بحریہ نے غلطی سے اس طیارے کو لڑاکا طیارہ سمجھ کر اس پر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں 290 مسافر ہلاک اور ہوائی جہاز تباہ ہو گيا۔

روسی جزیرے سخالین پر کے اے ایل طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اعزاز میں ایک چھوٹی یادگار تعمیر کی گئی ہے۔

اسی طرح جاپان میں واکنائی میں ان کی یاد میں 90 فٹ اونچا ٹاور بنایا گیا جہاں ساحل سے ملنے والا ان کا کچھ ذاتی سامان رکھا گیا۔

اس ٹاور میں مرنے والے 269 افراد کی یاد میں سفید پتھر کے 269 ٹکڑے اور سیاہ سنگ مرمر کے دو ٹکڑے نصب کیے گئے تھے جن پر ان تمام مسافروں کے نام لکھے گئے تھے۔

کورین طیارے 007 کی باقیات اب بھی سخالین کے قریب سمندری فرش میں دفن ہیں۔