روس روزانہ ایک کروڑ ڈالر مالیت کی گیس جلا کر ضائع کیوں کر رہا ہے؟

    • مصنف, میٹ مکگرا
    • عہدہ, ماحولیاتی نامہ نگار

ایک ایسے وقت میں جب یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، بی بی سی نیوز کو موصول ہونے والے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ روس قدرتی گیس کی بڑی مقدار کو جلا کر ضائع کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فن لیڈ کی سرحد کے قریب روسی شہر پورٹوویا کے ایل این جی گیس پلانٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ایک کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی گیس جلا کر ضائع کی جا رہی ہے جو جرمنی برآمد کی جانی تھی۔

رسٹاڈ انرجی کی جانب سے کیے جانے والے تجزیے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر جلائی جانے والی گیس کی مقدار تقریبا ساڑھے چار ملین کیوبک میٹر ہے۔

برطانیہ میں جرمنی کے سفیر مگئیل برجر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’روس اس گیس کو اس لیے جلا رہا ہے کیوں کہ وہ اسے کہیں اور بیچ نہیں سکتے۔‘

سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ اس گیس کو جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار شامل ہو رہی ہے جو قطب شمالی کی برف کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔

اس کی نشان دہی سب سے پہلے روس اور فن لینڈ کی سرحد کے قریب بسنے والے شہریوں نے کی جنھوں نے آسمان میں بنلد ہوتا بڑا سا شعلہ دیکھا۔

واضح رہے کہ پورٹوویا کے قریب ہی ایک کمپریسر پلانٹ ہے جہاں سے نورڈ سٹریم ون نامی اس پائپ لائن کا آغاز ہوتا ہے جو سمندر کے راستے جرمنی تک روس کی گیس پہنچاتی تھی۔

تاہم جولائی سے اس پائپ لائن سے سپلائی تعطل کا شکار ہے اور روس کی جانب سے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی گئی تھی۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ دراصل یہ ایک سیاسی چال ہے۔

جون کے مہینے میں محققین نے اس پلانٹ سے خارج ہونے والی حدت میں اضافہ نوٹ کیا جو قدرتی گیس کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔

عام طور پر تکنیکی یا حفاظتی وجوہات کی بنا پر گیس جلائی جاتی ہے لیکن ماہرین کو روس کے اس پلانٹ پر جلائی جانے والی گیس کی مقدار نے حیران کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر جیسیکا مکارٹی امریکہ کی ریاست اوہائیو میں میامی یونیورسٹی کی سیٹلائیٹ ڈیٹا ایکسپرٹ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی کسی ایل این جی پلانٹ کو یوں جلتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جون کے آغاز میں ہم نے حدت میں اچانک بے انتہا اضافہ دیکھا جس میں کمی نہیں آئی اور یہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔‘

مگئیل برجر، جو برطانیہ میں جرمنی کے سفیر ہیں، کہتے ہیں کہ ’روس کی گیس پر انحصار ختم کرنے کی یورپی کوششوں کے باعث روس کی معیشت پر گہرا اثر پڑا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے پاس ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں ہے جہاں وہ گیس بیچ سکیں، اس لیے ان کو اسے جلانا پڑ رہا ہے۔‘

مارک ڈیوس کیپٹیریو کمپنی کے سی ای او ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گیس حادثاتی طور پر اس طرح نہیں جلتی بلکہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے۔‘

عام طور پر گیس پلانٹ چلانے والے اس خدشے کے تحت پلانٹ بند نہیں کرتے کہ اس کو دوبارہ چلانا تکنیکی اعتباد سے بہت مشکل ہوتا ہے یا پھر مہنگا عمل ہوتا ہے، اور شاید اس کیس میں بھی ایسا ہی کچھ ہے۔

کچھ دوسرے افراد کا ماننا ہے کہ نورڈ سٹریم پائپ لائن ون کے ذریعے سپلائی کی جانے والی گیس کے معاملے میں تکنیکی مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی کمپنی گیزپروم نے شاید اس گیس سے نئے پلانٹ پر ایل این جی بنانے کی کوشش کی ہو جس میں ناکامی کے بعد آسان ترین راستہ یہی باقی بچا ہو کہ اس گیس کو جلا دیا جائے۔

اس کی وجہ یورپ کی پابندیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

ایسا وکالینن فن لینڈ کی یونیورسٹی میں انرجی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ کچھ والو ٹوٹ گئے ہوں جو تیل اور گیس بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یورپی پابندی کی وجہ سے ان کو نہ مل رہے ہوں۔‘

روس کی سرکاری توانائی کمپنی گیز پروم نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن سائنس دان اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس پلانٹ میں گیس جلائے جانے سے معاشی اور ماحولیاتی نقصان روزانہ کی بنیاد پر بڑھتا جا رہا ہے۔