ترکی کے صدر اردوغان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اچھے روابط کے لیے بے چین کیوں؟

    • مصنف, شکیل انور
    • عہدہ, بی بی سی بنگلہ، لندن

سنہ 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کی عمارت میں معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد صدر اردوغان نے اس قتل کے لیے براہ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف انگلی اٹھائی تھی۔

اس کے بعد مسلم دنیا کے دو انتہائی بااثر ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے خراب ہونے لگے۔ ایک سال کے اندر دونوں کے درمیان تعلقات اس قدر بگڑے کہ سعودی عرب نے سرکاری طور پر ترکی سے اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی۔

دوسری جانب صدر اردوغان سعودی شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ دونوں ممالک کے سرکاری میڈیا کے ذریعے دونوں حکومتوں کے درمیان طویل عرصے تک ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ جاری رہا۔

لیکن رواں سال اپریل میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے سعودی عرب کے اچانک دورے اور جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مصافحہ کرنے کی تصاویر کے بعد ان کے تعلقات میں تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے۔

گذشتہ چند مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی نظر آئی ہے۔ تجارت اور طیاروں کی نقل و حرکت سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں ترک ٹیلی ویژن سیریلز کی نشریات شروع ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف مہم بھی بند ہوگئی ہے۔

اس کے بعد اردوغان کی خصوصی دعوت پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ ترکی سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر پڑی برف پگھل رہی ہے۔

اردوغان نے پہل کیوں کی؟

بین الاقوامی سیاسی مبصرین کو اس میں کوئی شک نہیں کہ ترک صدر اردوغان سعودی عرب کے ساتھ نئے سرے سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی خطرات کے بارے میں لندن میں قائم ایک تحقیقی ادارے انٹرنیشنل انٹرسٹ کے سربراہ سعدی حامدی نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا: 'میرے خیال میں اردوغان نے ذرا سا ہی سہی لیکن گھٹنے ٹیکے ہیں۔ وہ گذشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں آنے والی تلخی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔'

لیکن اردوغان جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہنے والی اپنی پہچان کو چھوڑ کر آخر گھٹنے کیوں ٹیک رہے ہیں؟ حامدی کا خیال ہے کہ اس کی پہلی اور واحد وجہ ترکی کا معاشی بحران ہے۔ ترک کرنسی لیرا منہ کے بل گر گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنہ 2021 میں ایک سال کے اندر لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح بھی 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

حامدی کا کہنا ہے کہ 'انتخابات میں صرف ایک سال باقی ہے، اردوغان الیکشن سے قبل مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب سے کچھ سرمایہ کاری کر کے اقتصادی بحران کو کسی حد تک قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

اردوغان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور سعودی ولی عہد اس معاملے پر بات کریں گے کہ باہمی تعلقات کو کس بلندی تک لے جانا ممکن ہے۔

ترکی کے ایک سرکاری اہلکار نے صحافیوں کو بتایا: 'سعودی ولی عہد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان بحران سے پہلے کے فطری تعلقات کو بحال کرے گا (2018 میں خاشقجی کے قتل سے پہلے)۔'

معلومات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایندھن، تجارت اور سیکیورٹی جیسے معاملات پر معاہدے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ترکی کی سٹاک مارکیٹ میں سعودی سرمایہ کاری پر بھی بات ہو گی۔ ترکی میں تیار کیے گئے اسٹریٹجک ڈرونز کی سعودی عرب کو فروخت کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

یعنی جون سنہ 2023 میں ہونے والے انتخابات سے قبل اردوغان تجارت بڑھانے اور سعودی عرب سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے خواہشمند ہیں۔

کیا اردوغان پیچھے ہٹ رہے ہیں؟

امریکن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کونسل فار فارن ریلیشنز کی طرف سے گذشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں محقق سٹیون اے کک نے لکھا: 'اردوغان اپنی 'فطری طور پر جارحانہ' خارجہ پالیسی سے کسی حد تک پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اپنی لاحاصل جارحانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے انھوں نے امیر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ کر دیے ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں۔ اس سے ترکی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔'

اردوغان مصر کے صدر سیسی سے بہت ناراض تھے۔ واضح رہے کہ مصر کے موجودہ صدر سنہ 2013 میں محمد مرسی اور اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر برجمان ہوئے تھے۔ اس وقت سے اردوغان مصر مخالف سیاست دانوں کو پناہ اور تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، استنبول سے، وہ ان لوگوں کو سیسی حکومت کے خلاف مہم چلانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

مصر کی اس بغاوت کو سعودی عرب کی حمایت کی وجہ سے بھی اردوغان سعودی شاہی خاندان سے ناراض تھے۔

یہی وجہ ہے کہ سنہ 2017 میں جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ کے چار ممالک نے قطر پر پابندیاں عائد کیں تو ترکی قطر کی حمایت میں کود پڑا۔ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے بااثر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ ترکی کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں تلخی بڑھتی چلی گئی۔

اس کے بعد سنہ 2018 میں سعودی نژاد امریکی شہری جمال خاشقجی کے قتل کے بعد اردوغان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بہت سے محققین کا خیال ہے کہ اس معاملے میں انصاف کا مطالبہ اٹھا کر اردوغان دراصل اس واقعے کا فائدہ اٹھا کر سعودی عرب کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔

تعلقات میں دراڑ آنے سے پہلے سعودی عرب کے لوگ ترکی میں فکسڈ اثاثوں کے سب سے بڑے خریدار تھے۔ سعودی عرب میں 100 سے زائد ترک کمپنیاں کاروبار کر رہی تھیں۔ سعودی عرب میں تقریباً ایک لاکھ ترک شہری کام کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے اقتصادی تجزیہ کار امال عبدالعزیز الحجانی کے مطابق ترکی نے 2023 تک سعودی سرمایہ کاری کا ہدف 2500 ملین امریکی ڈالر مقرر کیا ہے اور وہ دو طرفہ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن یہ تمام مقاصد ادھورے رہ گئے۔

دوست کم ہوتے جا رہے ہیں، دشمن بڑھتے جا رہے ہیں

سعدی حامدی کہتے ہیں کہ ترک ووٹر کے لیے ملکی معیشت خارجہ پالیسی سے زیادہ اہم ہے۔ بہت سے لوگوں میں یہ خیال بڑھتا جا رہا ہے کہ اردوغان کی وجہ سے ترکی کے دوستوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور دشمنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

حال ہی میں ترک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بزنس کانفرنس کی ایک خاتون آرگنائزر اردوغان سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ بگڑتے تعلقات کی وجہ سے ان کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقتصادی محاذ کے علاوہ علاقائی سیاست میں بھی ترکی کا مقابلہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ بحیرہ روم میں ایندھن کی ملکیت پر ترکی کے ساتھ تنازع میں مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قبرص اور یونان کی حمایت میں آ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2020 کے موسم گرما میں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کے پائلٹوں نے یونانی فضائیہ کی ایک مشق میں حصہ لیا۔ ان واقعات کی وجہ سے ترکی کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔

سٹیون اے کک نے اپنے تجزیے میں کہا: 'اردوغان کو اب احساس ہو رہا ہے کہ وہ خطے کے ممالک پر اپنی پسند مسلط کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔'

اس پس منظر میں اب اردوغان نے مخالف سمت میں چلنا شروع کر دیا ہے۔

ترکی نے چھوٹ دی ہے

ترکی نے حال ہی میں جمال خاشقجی قتل کیس میں سماعت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر عبدالفتاح سیسی کی حکومت کے خلاف استنبول میں بعض سیاست دان جو مہم چلا رہے تھے وہ تقریباً بند ہو گئی ہے۔ ان کے زیر انتظام کئی ٹی وی چینلز بند ہو چکے ہیں۔ حکومت مخالف مصریوں کے زیر انتظام کئی سوشل میڈیا سائٹس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو ترکی چھوڑنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

تو کیا اردوغان کو اپنی خارجہ پالیسی پر افسوس ہے؟ کیا وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں؟

سعدی حامدی کا کہنا ہے کہ اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے کے باوجود اردوغان نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے جیسا چاہا تھا ویسا نہیں ہوا۔

حامدی کا کہنا ہے کہ ’اردوغان الیکشن سے پہلے ترک شہریوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ داخلی مسائل کو اہمیت دے رہے ہیں۔ لیکن میں نہیں مانتا کہ اردوغان نے اپنی خارجہ پالیسی ترک کر دی ہے۔ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ فی الحال وہ اپنی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔'

حامدی کہتے ہیں: 'اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی طرف ہاتھ بڑھانے سے اردوغان کے طاقتور امیج کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ترکی اب بھی لیبیا میں موجود ہے۔ وہ وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ بحیرہ روم میں وہ ایک بڑی طاقت ہے۔ فی الحال شام سے اس کے انخلاء کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقی ممالک سے بھی اس کے اثرورسوخ کے کم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔'

حامدی کا خیال ہے ممکنہ طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یا مصر کے رہنماؤں کو اب بھی اردوغان کی نیت پر شک ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اردوغان جب پہلی بار سعودی عرب اور یو اے ای گئے تو انھوں نے کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا اعتماد جیتنے کے لیے اردوغان نے گذشتہ چند مہینوں میں بہت سی رعایتیں دی ہیں۔ اس کے باوجود کاروبار کے معاملے میں مصر کا رویہ اب بھی سرد مہری کا شکار ہے۔'

حامدی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بہت سے تجزیہ نگار کہہ اور لکھ رہے ہیں کہ موجودہ اقتصادی بحران کے ختم ہونے اور انتخابات مکمل ہونے کے بعد اردوغان اپنی پرانی شکل میں واپس آ جائیں گے۔

سعودی عرب ترکی کو اہمیت کیوں دے رہا ہے؟

اردوغان کی نیتوں پر شکوک و شبہات کے باوجود سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات اردوغان کو اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خاشقجی کے قتل سے اپنی تصویر پر لگے داغ دھونے کے لیے بے چین ہیں۔ یہ بات معمولی ہی سہی لیکن صدر اردوغان نے انھیں ایک موقع دیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی حامدی کا خیال ہے کہ سعودی عرب موجودہ معاشی بحران میں ترکی کے ساتھ بہت سستی قیمت پر دوستی بڑھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ترکی کے معاشرے اور سیاست کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا موقع ملا ہے۔

حامدی کے مطابق: 'سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ اردوغان زیادہ دیر نہیں چل پائیں گے، اس لیے یہ ترکی میں حزب اختلاف کے سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا سنہری موقع ہے۔'