آسٹریلوی سینیٹ میں حجاب پہننے والی پہلی مسلمان خاتون رکن فاطمہ پیمان کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہFatima Payman
آسٹریلیا کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایک افغان نژاد اور تارک وطن مسلمان خاتون آسٹریلوی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ٹوئٹر پر فاطمہ پیمان کو سینیٹ کی رکن بننے پر مبارکباد دی۔
آسٹریلوی الیکشن کمیشن نے فاطمہ پیمان کی سینیٹ انتخاب میں جیت کا اعلان 20 جون کو کیا۔ جو کہ رواں برس بین الاقوامی یوم پناہ گزین کے طور پر بھی منایا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اسٹریلیا میں افغان سفارت خانے کی جانب سے بھی فاطمہ پیمان کے رکن سینیٹ منختب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

،تصویر کا ذریعہFatima Payman
فاطمہ پیمان کون ہیں؟
فاطمہ پیمان نے آسٹریلوی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑنے سے قبل آسٹریلیا کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کی ویب سائٹ پر اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھا تھا کہ 'میرا نام فاطمہ پیمان ہے، میں ایک افغانی نژاد آسٹریلوی مسلمان ہوں اور میری ثقافتی جڑیں افغانستان سے ہیں، میں اپنے والدین کے چار بچوں میں سے سب سے بڑی ہوں اور آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے شمالی مضافات میں پلی بڑھی ہوں۔'
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق 'ویسٹرن آسٹریلیا' کے علاقے پرتھ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ فاطمہ پیمان سینیٹ میں پہلی مسلمان اور حجاب پہننے والی خاتون رکن ہیں۔
فاطمہ پیمان آٹھ برس کی تھیں جب وہ اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ آسٹریلیا آئیں تھیں۔ان کے والد آسٹریلیا میں پناہ گزین کے طور پر کام کرتے تھے۔
فاطمہ پیمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے محنت کرنا اور ثابت قدم رہنا اپنے والد سے سیکھا اور یونین کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ '2019 میں والد کی کینسر سے موت کے بعد، میں نے اپنے والد جیسے لوگوں اور محنتی آسٹریلوی لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے جو روزی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے آسٹریلوی سینیٹ میں نمائندگی اور اپنے کام کے بارے میں لکھا کہ وہ آسٹریلوی معاشرے کو ان بہت سی چیزوں کے بدلے میں عزت دینا چاہتی ہیں جو انھیں اس معاشرے سے ملی ہیں۔
فاطمہ پیمان سینیٹ کی رکن منتخب ہونےسے قبل ایک ہائی سکول کے طلباء کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک خیراتی ادارے کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام بھی کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے یوتھ اینڈ پولیس سکلز ڈیولپمنٹ سینٹر کے لیے بھی کام کیا ہے۔
فاطمہ پیمان نے آسٹریلوی ریڈیو اے بی سی کو بتایا کہ ان کے والد نے 1999 میں کشتی کے ذریعے بحر ہند کو عبور کیا تھا اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے پناہ گزین کے طور پر آسٹریلیا پہنچے تھے۔
فاطمہ پیمان آسٹریلیوی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑنے سے متعلق کہا کہ ' دو سو افراد کے گروپ میں صرف میں ہی تھی جس نے سینیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے حجاب پہنا تھا، اور یہ ایک 'عظیم کامیابی' ہے۔'
یہ پوچھے جانے پر کہ وہ آسٹریلوی پارلیمنٹ کی پہلی باپردہ رکن ہونے کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں، انھوں نے کہا: 'میں چاہتی ہوں کہ جو نوجوان لڑکیاں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی ہیں وہ واقعی قابل فخر ہوں اور جانتی ہوں کہ انھیں حجاب پہننے کا پورا حق ہے۔ جب میں حجاب پہنتی ہوں تو یہ بالکل میرے لباس کا ویسے ہی حصہ ہے جیسےلوگ باہر نکلتے وقت چپل یا شارٹس پہنتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFATIMA PAYMAN
سوشل میڈیا پر ردعمل
آسٹریلوی پارلیمنٹ میں ایک افغان نژاد حجاب پہننے والی مسلم خاتون کے رکن بننے کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں بسنے والے افغان شہریوں اور مسلم سوشل میڈیا صارفین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں حجاب پہننے والی عورتوں کے لیے ایک مثال، مسلمان خواتین کی نمائندہ قرار دیا ہے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے سید یاسین رضوی نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے فاطمہ پیمان کی کامیابی پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'ان کے خاندان اور میرے وطن افغانستان سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کو پہلی افغان تارک وطن مسلم خاتون کے رکن سینیٹ بننے پر مبارک ہو۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
حبیب اکبری نامی صارف نے لکھا ' فاطمہ پیمان کو بہت مبارک، پناہ گزینوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والی ایک پناہ گزین خاتون ویسٹرن آسٹریلیا سے رکن سینیٹ منتخب ہوئی ہیں۔ '
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
یہ بھی پڑھیے
فاطمہ پیمان کی کامیابی پر جہاں انھیں افغانستان اور دیگر مسلم دنیا سے مبارکباد دی جا رہی ہے وہیں ان کے رکن سینیٹ منتخب ہونے پر آسٹریلیا میں ان کی لیبر پارٹی کے رہنماؤں اور ساتھیوں کے جانب سے بھی مبارکباد کے پیغامات دیے گئے۔
آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے ہی ان کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کے رکن پیٹرک گورمن نے ان کی کامیابی پر لکھا کہ 'مجھے اس پر بہت فخر ہے کہ ہماری ریاست فاطمہ کو کینبرا میں ہماری نمائندگی کے لیے بھیج رہی ہے۔ نو منتخب سینیٹر فاطمہ پیمان ایک افغان نژاد آسٹریلوی شہری ہیں جن کی ثقافتی جڑیں افغانستان سے ہیں۔ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اور مزدوروں کے حق لیے بولنے والی ایک مضبوط آواز ہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
لیبر پارٹی کی رہنما اور آسٹریلوی سینیٹر سیو لائنز نے لکھا کہ 'ویسٹرن آسٹریلیا کی نومنتخب لیبر پارٹی کی سینیٹر فاطمہ پیمان کو تاریخ رقم کرنے پر مبارکباد۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ محمود صیقل نے ٹویٹ کیا ' طالبان کی ظالمانہ حکومت کے دوران جہاں افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کو ملازمت اور تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے، کابل سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان پناہ گزین فاطمہ پیمان نے ابھی آسٹریلیا کی سینیٹ میں نشست جیتی ہے۔ مبارک ہو سینیٹر پیمان۔ آپ کے لیے نیک خواہشات۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
ایک اور صارف نے لکھا کہ 'افغانستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فاطمہ پیمان آسٹریلیا کی سنیٹر منتخب ہوئی ہیں۔ہمارے پاس بہت قابل اور مضبوط خواتین ہیں لیکن افغان طالبان نے ان کی تعلیم، کام، سیاسی شرکت اور ان کی آزادی پر پابندی لگا دی ہے۔لیکن ہم افغان خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8












