بوسنیا قتلِ عام: نیدرلینڈز کی حکومت نے بوسنیا بھیجے گئے اپنے فوجیوں سے معافی مانگ لی جو کم صلاحیت کی وجہ سے مسلمانوں کا تحفظ نہیں کر سکے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیدرلینڈز کی حکومت نے بوسنیا کی جنگ کے دوران سریبرینیتسا کے دفاع کے لیے بھیجے گئے سینکڑوں سابق فوجیوں سے معافی مانگ لی ہے۔ وزیر اعظم مارک روٹے نے کہا کہ فوجیوں کو سریبرینیتسا میں قتل عام کو روکنے کے لیے بہت کم دفاعی صلاحیت سے لیس کیا گیا تھا اور انھیں ایک ناممکن کام کے لیے اس جنگ میں جھونک دیا گیا تھا۔
جولائی 1995 میں بوسنیائی سرب فوجیوں نے نیدرلینڈز کی فوج کو بے بس کرنے کے بعد تقریباً آٹھ ہزار مسلمان مردوں کا قتل عام کیا۔ اس سے پہلے نیدرلینڈز کی حکومت کا اصرار تھا کہ فضائی مدد فراہم کرنے میں ناکامی دراصل اقوام متحدہ کی غلطی تھی۔
لیکن سنیچر کے روز وسطی نیدرلینڈز کے ایک فوجی اڈے پر سابق فوجیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم مارک روٹے نے قبول کیا کہ ڈچ بیٹ III امن فوج کے دستوں نے جدوجہد کی تھی کیونکہ ‘آپ کا مینڈیٹ، آپ کا سازوسامان اور آپ کو اپنے مشن کے دوران ملنے والی فوجی مدد سب ناکافی تھا‘۔ جس کی وجہ سے مشن کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا بالآخر ناممکن ثابت ہوا۔‘
وزیراعظم نے سابق فوجیوں سے کہا کہ ‘آج، میں نیدرلینڈز کی حکومت کی جانب سے ڈچ بیٹ III کی تمام خواتین اور مردوں سے معافی مانگتا ہوں۔ یہاں آپ سب سے اور ان لوگوں سے جو آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔‘
انھوں نے ڈچ بیٹ III کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنا مشن جاری رکھا جو کہ ممکن نہیں تھا۔
خیال رہے کہ معافی کے علاوہ، سریبرینیتسا میں تعینات فوجیوں کو وزیر دفاع کاجسا اولونگرین کی طرف سے کانسی کا تمغہ بھی دیا گیا۔
جولائی 1995 میں بوسنیائی سرب فورسز کی جانب سے نسل کشی کی مہم کے دوران ہزاروں مسلمان بوسنیا کے شہر سریبرینیتسا میں اقوام متحدہ کے محفوظ علاقے کی طرف چلے گئے تھے۔ انھیں نیدرلینڈز کے بہت ہی کم اسلحے سے لیس فوجیوں نے تحفظ فراہم کیا۔ ان فوجیوں کو بعد میں کمزور دفاعی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے بوسنیائی سرب فوجیوں نے گرفتار کر لیا تھا۔
نیدرلینڈز کی افواج کے ہتھیار پھینکنے کے بعد جنرل راتکو ملاڈچ کے ماتحت بوسنیائی سرب فوجیوں نے 12 سے 77 سال کی عمر کے مسلمان مردوں اور لڑکوں کو ایک طرف کیا اور اعلان کیا کہ ان سے تفتیش کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اگلے پانچ دنوں میں راتکو ملاڈچ کے فوجیوں نے آٹھ ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو مار کر اجتماعی قبروں میں دفنا دیا۔ سربیا نے ہمیشہ ان ہلاکتوں کو نسل کشی کی مہم کا حصہ قرار دینے سے انکار کیا ہے لیکن اسے ایک جرم تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم روٹے کی معافی ایک سال کے بعد سامنے آئی ہے جب ایک رپورٹ میں ڈچ بیٹ III کے 850 فوجیوں کی مدد کرنے کے بارے میں متعدد سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ ان فوجیوں میں سے بہت سے جنگ کے تجربات کے بعد ‘پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ کا شکار تھے۔
سنہ 2019 میں نیدرلینڈز کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ نیدرلینڈز اس قتل عام میں تقریباً 350 افراد کی موت کا جزوی طور پر ذمہ دار ہے۔ اس فیصلے کے مطابق یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ لوگ بوسنیائی سرب افواج کے ہاتھوں ‘تشدد اور قتل کیے جانے کے سنگین خطرے میں ہیں‘ نیدرلینڈز نے ان لوگوں کو اپنے فوجی اڈے سے نکال دیا تھا۔








