صحافی شیریں ابو عاقلہ کو فلسطینی عسکریت پسندوں نے نہیں بلکہ اسرائیلی فورسز نے قتل کیا: اقوام متحدہ

شیرین ابو عاقلہ

،تصویر کا ذریعہAL-JAZEERA

،تصویر کا کیپشنشیریں علاقے میں اسرائیلی کارروائی کور کرنے بدھ کے روز وہاں پہنچی تھیں

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو فلسطینی عسکریت پسندوں نے نہیں اسرائیلی فوج نے مارا ہے۔

خیال رہے کہ 11 مئی کو قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کو غربِ اردن میں سر پر گولی لگی تھی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئی تھیں۔

جمعے کو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر میں ترجمان نے شیریں کی ہلاکت کی تحقیقات کے نتائج کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ’آزادانہ مانیٹرنگ‘ کے ذریعے کی گئی ہے۔

واقعے کے بعد الجزیرہ نے اسرائیلی فوج پر شیریں کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ فسلطینیوں کی جانب سے بھی اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے کہا تھا کہ الزام کا تعین نہیں ہو سکتا۔

الجزیرہ نے کہا کہ 51 سالہ شیریں ابو عاقلہ کو اسرائیلی فوجیوں نے ’جان بوجھ کر‘ گولی ماری ہے۔ الجزیرہ کے پروڈیوسر کو بھی گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔

الجزیرہ کی مشہور صحافی شیریں ابو عاقلہ غربِ اردن کے شہر جنین میں اسرائیلی کارروائی کو کور کرنے کےلیے بدھ کو وہاں پہنچی تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق گولی لگنے کے کچھ دیر بعد ہی شیریں کی موت ہو گئی۔ اس کے علاوہ ایک فلسطینی صحافی کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔

51 سالہ ابو عاقلہ بیت المقدس میں پیدا ہوئیں اور 1997 میں الجزیرہ کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا۔ انھوں نے اردن کی یرموک یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ تمام فلسطینی علاقوں سے رپورٹنگ کرتی تھیں۔ انھوں نے سنہ 2008، 2009، 2012، 2014 اور 2021 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کی رپورٹنگ کی تھی۔

ان کی ہلاکت کے نتیجے میں عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

ابو عاقلہ نے حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس پر جلی حروف میں پریس لکھا ہوا تھا انھوں نے ہیلمیٹ بھی پہن رکھا تھا۔ جب انھیں گولی لگی تو وہ ایک ایسی شاہراہ پر موجود تھیں جس کے قریب ہی فلسطینی عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کے خلاف اندوہناک حملوں کے بعد اس کی فورسز ضلع جینن میں ’مبینہ دہشت گردوں‘ کو پکڑنے گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ حملے کرنے والوں میں دو افراد کا تعلق ضلع جینن سے تھا۔

جینن میں پناہ گزین کیمپ ہیں اور اسے طویل عرصے سے انتہا پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماری جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ اگرچہ اسرائیل نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گن فائر کا ذریعہ کیا تھا ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کیونکہ فلسطینیوں نے گولی کا جائزہ لینے کے لیے اس کی جانب سے کی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشترکہ تحقیقات کرنے کے عمل کو بھی مسترد کیا ہے۔

شیریں

،تصویر کا ذریعہUN HUMAN RIGHTS

جینیوا میں جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے او ایچ سی ایچ ار کی ترجمان روینا شمداسانی نے کہا کہ ادارے کو پتہ چلا ہے کہ ’جن گولیوں نے ابو عاقلہ کو مارا اور ان کے ساتھی علی سامودی کو زخمی کیا وہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آئی تھی اور وہ مسلح فلسطینیوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے نہیں چلی تھیں، جس کا دعویٰ پہلے اسرائیلی حکام نے کیا تھا۔‘

او ایچ سی آر کی ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پریشان کن ہے کہ اسرائیلی حکام نے کریمینل انویسٹی گیشن نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے کہ معلومات اسرائیلی فوج اور فلسطینی اٹارنی جنرل نے دی تھیں۔

روینا شمداسانی نے کہا کہ واقعے کی صبح چار صحافی اس گلی کی جانب آئے، بہت سی، بظاہر ایک مقصد کے ساتھ اسرائیلی فوجوں کی جانب سے ان کی طرف فائر کی گئیں۔‘

’ایک گولی علی سمودی کو لگی اور دوسری ابو عاقلہ کو لگی اور وہ فوراً ہلاک ہو گئیں۔‘

دوسری جانب ان الزامات کو اسرائیل نے ابتدا سے ہی مسترد کیا ہے اور وہ اپنی تحقیقات کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے سپاہی کے ہتھیار کی شناخت کر لی ہے جس سے شاید گولی چلی لیکن وہ اس گولی کا جائزہ لیے بغیر اس بارے میں یقین نہیں رکھتا۔

تاہم فلسطین کا کہنا ہے کہ وہ گولی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس پر اعتبار نہیں کرتا۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر میں ترجمان روینا شمداسانی نے کہا ہے کہ او ایچ سی ایچ آر کو ’ہمیں ایسی کوئی معلومات نہیں ملیں جن سے یہ اشارہ ملے کہ صحافی جس جگہ موجود تھے وہاں مسلح فلسطینیوں نے کارروائی کی۔‘

گذشتہ مہینے فلطسین کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ ابو عاقلہ کو اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

الجزیرہ نے اسرائیلی فوج پر شیریں کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ نیوز چینل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی رپورٹر شیریں کو ’جان بوجھ کر مارنے‘ کے لیے اسرائیلی فوج کی مذمت کریں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس وقت اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ 'امکان ہے فائرنگ کے تبادلے کے دوران اُنھیں فلسطینی بندوق برداروں نے ہی گولی مار دی ہو۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیفتالی بینٹ نے غرب اردن کے مشرقی حصے میں ہوئی فوجی کارروائی میں الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بارے میں اپنا دفاع کیا تھا۔

وزیر اعظم بینیٹ نے معاملے کی تفتیش کے لیے اسرائیل اور فلسطین دونوں کی مشترکہ تفتیشی ٹیمیں تشکیل دینے کی پیش کش کی ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ جینین شہر میں اسرائیلی فوجی کارروائی فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری کے جواب میں کی گئی تھی۔

اپنی وضاحت کے لیے وزیر اعظم بینیٹ نے ایک کے بعد ایک ٹوئٹ کی۔

اُنھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے ’فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسرائیل پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ ہمارے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق اس بات کا پورے امکان ہیں کہ مسلح فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے اندھا دھند گولہ باری کی وجہ سے الجزیرہ کی صحافی کی موت ہوئی ہے‘۔

ایک اور ٹویٹ میں اُنھوں نے لکھا ہے،’صحافی کی ہلاکت کے معاملے کی سچائی تک پہنچنے کے لیے اسرائیل نے فلسطین سے ایک مشترکہ پیتھولوجیکل انالیسیز اور مشترکہ تفتیش کی پیش کش کی ہے لیکن ابھی تک فلسطین ایسا کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اسرائیل نے 1967 میں جنگ کے بعد غربِ اردن کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور فلسطین مستقبل میں اسے اپنے آزاد ملک کا اہم حصہ بنانا چاہتا ہے۔

اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی اسرائیلی فوج کی نگرانی میں رہتے ہیں اسرائیل نے غربِ اردن میں 130 سے زیادہ بستیاں آباد کی ہیں جہاں تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی آباد ہیں۔

اسرائیل کافی عرصے سے الجزیرہ کی کوریج کی تنقید کرتا رہا ہے لیکن اسرائیل عام طور پر چینل کے صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے سے نہیں روکتا۔

گذشتہ سال یروشلم میں ایک مظاہرے کے دوران الجزیرہ کے ایک اور رپورٹر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ چینل کا کہنا تھا کہ حراست میں رپورٹر کا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا۔

اسرائیلی فوج اور میڈیا بالخصوص فلسطینی صحافیوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2018 میں غزہ میں پرتشدد مظاہروں کی کوریج کے لیے جانے والے ایک صحافی کو بھی مبینہ طور پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ برس مئی میں اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس عمارت میں کئی غیر ملکی نیوز چینلز کے دفاتر موجود تھے۔