آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا سیٹلائٹ تصاویر کی وجہ سے ہم جنگ کو مختلف انداز میں دیکھنے لگے ہیں؟
- مصنف, کرس بارانیوک
- عہدہ, ٹیکنالوجی آف بزنس رپورٹر
ویلز کے رہائشی کائل گلن ایک پراجیکٹ مینجر ہیں اور ان کا ایک انوکھا مشغلہ ہے۔ وہ روسی فوجوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ کائل گلن ٹوئٹر پر ایک اکاؤنٹ کنفلکٹ نیوز کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس اکاونٹ کے چار لاکھ فالورز ہیں جہاں یوکرین کی جنگ سے متعلق مختلف ذرائع سے حاصل کردہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔
کائل گلن اور کچھ دوسرے لوگ جو اپنے آپ کو اوپن سورس انٹیلجنس کمیونٹی کہتے ہیں، یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کے اجتماع پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے آن لائن سروس سکائی واچ کی سروس خرید رکھی ہے اور وہ اس سے حاصل شدہ تصاویر کو کنفلکٹ نیوز اکاؤنٹ سے نشر کرتے ہیں۔ سکائی واچ وہ پہلی سیٹلائٹ سروس تھی جس نے یوکرینی سرحد پر روسی فوجوں کے جمع ہونے کی تصاویر ظاہر کی تھیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم اس وقت سے دیکھ رہے تھے جب وہاں کچھ نہیں تھا، پھر وہاں فوجوں کا اجتماع ہوا، پھر وہاں سے فوجیں غائب ہو گئیں اور یوکرین پر یلغار شروع ہو گئی۔‘
کائل گلن کہتے ہیں کہ ’یہ میرا مشغلہ ہے، بلکل رضاکارانہ، آپ جو بھی کہنا چاہیں۔‘
یوکرین کی جنگ کی زیادہ تر کوریج سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والے مواد پر مبنی ہے۔ اس میں سیٹلائٹس سے حاصل شدہ تصاویر بھی شامل ہیں جن میں فوج کی نقل و حرکت سے لے کر شہروں کی تباہی کے مناظر تک شامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں سیٹلائٹس سے حاصل شدہ تصاویر جن میں روسی ہیلی کاپٹروں کی تباہی کے مناظر، شاپنگ سنٹر پر حملے اور ماریپول کے رہائشی علاقوں کی تباہی اور بحیرۂ اسود میں بحری جہاز میں لگی آگ کی تصاویر نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
پلانیٹ اینڈ میکسر جیسی نجی کمپنیوں نے جن کی اپنی سیٹلائٹس ہیں انھوں نے جنگ زدہ علاقے کی تصاویر کی تشہیر کی ہے۔ ایسی تصاویر کی موجودگی کا مطلب ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھے ماہرین یوکرین میں روسی افواج کی نقل ہو حرکت اور ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کائل گلن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی سیٹلائٹس سے جنگوں کی تصاویر حاصل کی جاتی تھیں اور شام کی جنگ کے دوران بھی ایسی تصاویر دیکھی گئی تھیں لیکن جو کچھ اب میسر ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔
تو تبدیلی کیا آئی ہے۔ حکومتیں اور انٹیلجنس ایجنسیاں خفیہ تصاویر اور معلومات اکٹھی کرتی ہیں جبکہ کمرشل کمپنیوں کو اپنی تصاویر بیچنے کی اجازت ہے۔ اور اب یہ مواد باآسانی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔
اب کئی کاروباروں اور تنظیمیوں کا جنگلوں میں آگ، فصلوں اور بحری جہازوں پر نظر رکھنے کے لیے سیٹلائٹس سے حاصل کردہ تصاویر پر انحصار ہے۔ کوالٹی اینالٹکس کے کرس کوالٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مدار میں کمرشل سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈیٹا کی ترسیل بہت بڑھ گئی ہے۔ اب آسمانوں پر بہت زیادہ آنکھیں ہیں۔
اب عام لوگ کمرشل کمپنیوں سے دس ڈالر فی مربع میل کے حساب سے اعلیٰ کوالٹی کی تصاویر خرید سکتے ہیں۔ ان تصاویر کی ریزولوشن اتنی اچھی ہے کہ آپ روڈ پر لگے نشانات اور گاڑیوں کو بھی پہچان سکتے ہیں۔
ان سیٹلائٹس کو چلانے والے ضرورت کے مطابق ان کے پروگرامز میں تبدیلی کر کے انھیں ایک جگہ کی دن میں کئی بار نگرانی کی کمانڈ دے سکتے ہیں۔
کرس کوالٹی کہتے ہیں کہ جوں جوں ٹیکنالوجی میں جدت آتی جا رہی ہے لوگوں کی سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر دیکھنے میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ کوالٹی کہتے ہیں کہ ’بنیادی صلاحیت میں تو کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن لوگ جس انداز میں تصاویر کو استعمال کر رہے ہیں اس میں تبدیلی آئی ہے۔‘
کمرشل سیٹلائٹس سے سینتھیٹک اپرچر ریڈار (ایس اے آر) تصاویر بھی حاصل کی جا سکتی ہیں جن کی عام طور پر تشریح کرنا مشکل ہوتا ہے۔ سیٹلائٹس بادلوں میں سے ایس اے آر تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ ان بلیک اینڈ وائٹ تصاویر میں گاڑیوں، ٹینکوں کی قطار نظر آ سکتی ہے۔
کائل گلن کہتے ہیں کہ ایسی تصاویر سے انھیں اور ان جیسے لوگوں کو یوکرین پر روسی حملے کی شروعات کا پتہ چل گیا تھا۔
ریٹا کانیو جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سنٹر فار سکیورٹی اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی کی تجزیہ کار ہیں۔ ڈاکٹر ریٹا کہتی ہیں کہ پچھلے دس پندرہ برسوں میں ہونے والی جنگوں میں سیٹلائٹ تصاویر ان جنگوں کا ایک نیا پہلو ہے لیکن اس کی وسعت اور اس تک رسائی مختلف ہے۔ اس سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر ریٹا کونیو کہتی ہیں کہ یورپی شہروں کا فن تعمیر یوکرین کے دارالحکومت سے ملتا جلتا ہے۔ فن تعمیر کی مانوسیت کی وجہ سے اس جنگ کے بارے میں مغرب کا رویہ مشرق وسطیٰ یا دوسرے علاقوں میں ہونے والی جنگوں سے مختلف ہے۔
کائل گلین کا کہنا ہے کہ کنفلکٹ نیوز اور اسی طرح کے دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے فالورز آن لائن وسائل کو استعمال کر کے سیٹلائٹ تصاویر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ’آپ یہ شہادتیں ناظرین کو بغیر کسی تبصرے کے دکھا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی رائے خود بنائیں۔‘
البتہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اور دوسرے لوگ جو خود کو اوپن سورس انٹیلجنس کمیونٹی کہتے ہیں وہ تمام تصاویر کو نہیں دکھاتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی تصاویر دکھانی ہے اور کون سی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کائل گلن اس جنگ میں یوکرین سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے وہ یوکرین کے فوجیوں کی نقل و حرکت کی تصاویر شائع نہیں کرتے تاکہ ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق نہ ہو جائیں۔
کینیڈین فرم ایم ڈے اے جیسی پرائیویٹ کمپنیاں زیادہ جدید تصاویر کو یوکرین کی فوج سے براہ راست شیئر کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کانیو کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر ہزاروں میل دور ہونے والے واقعات کی ایک منفرد شکل پیش کرتیں ہیں۔
ڈاکٹر کانیو کہتی ہیں کہ کئی لحاظ سے دور سے حاصل شدہ تصاویر تباہی کا ایک مختلف انداز پیش کرتی ہیں۔ یہ چند لوگوں کی زندگیوں سے زیادہ پوری کمیونٹی کے بارے میں ہے۔ لیکن اس طرح کی تصاویر کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے کچھ خطرناک نتائج بھی ہوں گے۔
افواج کے پاس انٹیلجنس کے وسیع ذرائع ہوتے ہیں۔ لیکن ٹوئٹر اور فیس بک پر شیئر کی جانے والی تصاویر گراؤنڈ پر موجود کمانڈروں کی فیصلہ سازی میں کتنا اثر انداز ہوتی ہیں اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
ڈاکٹر کانیو کہتی ہیں کہ ان تصاویر کو شیئر کرنے کے خطرات حقیقی ہیں۔ کائل گلن نے اس بارے میں سوچا ہے لیکن شاید وہ کبھی یہ نہ جان سکیں کہ ان کی شیئر کردہ تصاویر کی وجہ سے فرنٹ لائنز پر کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔
’میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں اس وجہ سے ہچکچاتا ہوں لیکن میں اس امکان کے بارے میں آگاہ ہوں اور اب میں نے اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔`