روس یوکرین تنازع: مغربی ممالک نے اب تک روس پر کیا پابندیاں لگائی ہیں اور اس کا کیا معاشی نقصان ہو رہا ہے؟

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے مغربی ممالک روس پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد روسی معیشت کو متاثر کرنا اور اس کی حکومت کو یوکرین میں فوجی کارروائی کی سزا دینا ہے۔

اقتصادی پابندیاں کیا ہوتی ہیں؟

اقتصادی یا سفارتی پابندیاں کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے پر اس لیے لگائی جاتی ہیں تاکہ مخالف کو ممکنہ جارحیت یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکا جا سکے۔

ان میں فضائی اور سفری قدغنیں اور اسلحے کی فروخت پر پابندیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

یہ انتہائی اقدامات جو پابندیوں کی صورت میں کسی ملک پر لگائے جاتے ہیں وہ فوجی قوت کے استعمال کے بغیر کسی ملک کو اپنا رویہ یا پالیسیوں کو بدلنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

روس پر کونسی پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟

سوئفٹ نظام سے نکالنا

یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک، روس کے 'مخصوص' بینکوں کو رقوم کی ادائیگیوں کے نظام سوئفٹ سے ہٹانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

سوئفٹ نظام کے ذریعے باآسانی سرحد پار ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں۔مغربی ممالک کی جانب سے روس کو سوئفٹ نظام سے علیحدہ کرنےکا مقصد اس کے دنیا کے ساتھ مالی روابط میں خلل ڈالنا ہے۔

سوئفٹ سے ہٹائے جانے کی وجہ سے روس کو اپنی گیس اور تیل کی فروخت میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ البتہ روس کو سوئفٹ کی طرز کے چینی نظام سے بھی ادائیگی کی جا سکتی ہیں۔

ان پابندیوں کا اثر ان کمپنیوں پر بھی ہو گا جنھیں روس سےادائیگیاں ہونی ہیں اور اس سے کئی ممالک کو توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

روس کا مرکزی بینک

مغربی ممالک روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمند کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے سے روس کو اپنے 640 ارب ڈالر کے ذخائر تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔

برطانیہ نے یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ مل کر برطانوی شہریوں اور کاروبار پر روس کے مرکزی بینک، وزارت خزانہ اور اس کے ویلتھ فنڈ کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بی بی سی کے اکنامکس ایڈیٹر فیصل اسلام کا کہنا ہے کہ کسی جی 20 ملک کے مرکزی بینک کے اثاثے منجنمد کرنے کا فیصلہ غیر معمولی ہے اور اس کا مقصد روس کو ممکنہ کساد بازاری کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ روسی بینکوں پر دباؤ پڑ جائے۔

مغربی ممالک کے اس فیصلے کے بعد روسی کرنسی روبل کی قدر میں 30 فیصد کمی ہو گئی ہے اور روس نے اس رجحان کو روکنے کے لیے شرح سود دگنی کر دی ہے۔

دیگر مالیاتی اقدامات

برطانیہ نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے اور روس کو سوئفٹ نظام سے علیحدہ کرنے کے اقدامات کے علاوہ روس کے تمام بینکوں کو برطانیہ کے مالیاتی نظام سے نکال دیا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ برطانوی پونڈ تک رسائی حاصل کر کے برطانیہ میں ادائیگیاں نہیں کر سکیں گے۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ تمام روسی بینکوں کے اثاثے منجمند کر دیئے گئے ہیں۔برطانیہ نے روسی کمپنیوں کو برطانوی مارکیٹ سے رقوم اکٹھی کرنے سے بھی روک دیا ہے اور روس شہریوں کی برطانوی اکاونٹس میں رقوم کی منتقلی کی حد مقرر کر دی ہے۔ یورپی یونین نے روس کے بینکنک سیکٹر کے 70 فیصد حصے پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس کی برآمدات پر پابندی

امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے روس کو برآمدات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق ایسی برآمدات پر ہو گا جن کا دہرا استعمال ممکن ہے جن میں ہائی ٹیک چیزیں، کیمیکلز اور لیزرز شامل ہیں۔

یورپی یونین کی کوشش ہے کہ وہ روس کو کسی ایسے آلے کو حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا جس سے وہ اپنی آئل ریفائنریوں کو بہتر بنا سکے۔

روس کے دنیا کے ساتھ روابط کو مشکل بنانے اور اس کی معیشت کو متاثر کرنے کے لیے یورپی یونین نے روس کو ہوائی جہازوں کے آلات کی فراہمی روک دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روسی شخصیات پر پابندیاں

مغربی ممالک نے روس کے امیر اور طاقتور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان افراد میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر خارجہ سرگئی لوروف شامل ہیں جن کے امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا میں تمام اثاثے منجمند کر دیئے گئے ہیں۔

ان افراد کے مغربی ممالک میں سفر کرنے پر بھی عائد کر دی گئی ہے۔ یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے روسی حکومت اور روسی شہریوں کے اثاثے کا پتہ لگانے کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے۔

برطانیہ نے گولڈن پاسپورٹ کے ذریعے برطانوی شہریت کی فروخت کو 'محدود' کر دیا ہے۔ اس سکیم کے تحت روس کے امیر افراد برطانوی شہری بن سکتے ہیں۔

دیگر اقدامات

یورپی یونین نے روسی پروازوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ روسی جہاز کسی بھی یورپی یونین کے ممبر ملک کی حدود میں داخلے، لینڈ کرنے اور اڑنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

برطانیہ نے بھی اپنی فضائی حدود کو روسی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ یورپی یونین روس کے سرکاری نشریاتی اداروں سپٹنک اور رشیا ٹوڈے پر پابندی عائد کرنے والی ہے۔ جرمنی نے روس سے آنے والی پائپ لائن نارڈ سٹریم 2 کی منظوری کے معاملے کو التوا میں ڈال دیا ہے۔

برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا یوکرین پر حملے میں بیلاروس کے کردار کی وجہ سے اس پر بھی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

روس پر مزید کون سی پابندیاں لگ سکتی ہیں؟

مغربی ممالک روس کی تیل اور گیس برآمدات کو روکنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں جو روسی معیشت کا پانچواں حصہ ہے اور اس کی برآمدات کا نصف حصہ ہے۔

اگر روس پر یہ پابندی عائد کی گئی تو یہ بہت سخت پابندی ہو گی اور اس سے مغربی ممالک کو بھی نقصان ہو گا جن کا روسی گیس اور تیل پر انحصار ہے۔

روس اس وقت یورپ کی کل ضرورت کا 26 فیصد خام تیل اور 38 فیصد گیس فراہم کرتا ہے۔ روس سے گیس کی سپلائی میں عارضی رکاوٹ بھی یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

مغربی ممالک کی پابندیوں پر روس کا ردعمل

روس کی وزارت خارجہ نے مغربی ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جس میں یورپ کو گیس کی فراہمی بھی شامل ہے۔

برطانوی ہوائی جہازوں کو روس کی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی کر دی گئی ہے۔ روس کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایئروفلوٹ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ یورپی ممالک کے لیے اپنی تمام پروازیں بند کر رہی ہے۔

روس کے بینکنگ سیکٹر پر پابندیوں کی وجہ سے کئی یورپی مینوفیکچررز کو بھی نقصان ہو گا۔

برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس نے کہا ہے کہ روس پر پابندیوں کی وجہ سے برطانوی لوگوں کو بھی 'کچھ معاشی تکالیف' کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔