عراق کا بیرون ملک آپریشن میں دولت اسلامیہ کے فنانشل چیف کو حراست میں لینے کا دعویٰ

عراق نے کہا ہے کہ اس نے ملک سے باہر ایک آپریشن میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے فنانشل چیف کو حراست میں لے لیا ہے۔

عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عراقی نیشنل انٹیلیجنس سروس نے ایک ’پیچیدہ بیرونی آپریشن‘ میں سمیع جاسم الجبوری کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم انھوں نے بیرون ملک اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں سے انھیں پکڑا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاسم، جنھیں حاجی حامد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دولت اسلامیہ کے ہلاک ہونے والے سربراہ ابوبکر البغدادی کے دور میں دولت اسلامیہ کے نائب سربراہ تھے۔

امریکہ نے ان کی گرفتاری کے لیے معلومات دینے پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔

ایف بی آئی کی ویب سائٹ کے مطابق ان پر دولت اسلامیہ کی دہشتگردی کی کارروائیوں کی مالی ذمہ داری سنبھالنے کا الزام ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب دولت اسلامیہ نے 2014 میں عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے اس گروہ کے لیے آمدن بڑھانے کے آپریشنز کی نگرانی کی جس میں غیر قانونی طور پر تیل، گیس، نوادرات اور معدنیات کی فروخت کی جاتی تھی۔

عراق کے خصوصی سکیورٹی سیل کا کہنا ہے کہ زیر حراست شخص دولت اسلامیہ کے نئے سربراہ امیر محمد سید عبدالرحمان کے، جو بغدادی کے جانشین ہیں، بھی قریبی ساتھی ہیں۔ 2019 میں امریکی سپیشل فورسز نے بغدادی کے خفیہ ٹھکانے پر کارروائی کی تھی جس دوران انھوں نے خود کو مار لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عراقی وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ جاسم کو کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم سینیئر عراقی فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ آپریشن ترکی میں کیا گیا۔ ان اطلاعات کے بعد ترک حکام کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

گرفتاری کتنی اہم ہے؟

تجزیہ، فرینک گارڈنرئ سکیورٹی کے نامہ نگار

عراقی حکام سمیع جاسم کی گرفتاری کو دولت اسلامیہ کے لیے ایک اہم دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

وہ یہ بتائے بغیر کہ ایسا کہاں ہوا ہے، کہتے ہیں کہ انھیں ایک غیر ملکی انٹیلیجنس آپریشن میں پکڑا گیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ داعش کا یہ اعلیٰ سطح کا اہلکار نہ صرف اس گروہ کے مالی معاملات کا انچارج ہے بلکہ شام اور عراق میں سرحد پار کارروائیوں کا بھی انچارج ہے، جہاں دولت اسلامیہ نے پولیس اور فوجی اڈوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کی گرفتاری کی عراقی سکیورٹی فورسز کے لیے شاید اتنی قدر نہ ہو جتنی بڑا نقصان یہ دولت اسلامیہ کے لیے ہے۔ دولت اسلامیہ میں ویسے تیزی سے ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو ڈھونڈ لیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ گرفتار کرنے والوں کو آنے والے حملوں کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کی عسکری شکست اور اس کی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد سے اس کی حیثیت بس ایک شورش پیدا کرنے والے گروہ کی رہ گئی ہے جو بس حملہ کر کے بھاگ جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اس کے تقریباً دس ہزار جنگجو موجود ہیں۔

مزید یہ کہ یہ افغانستان اور موزمبیق جیسے دور دراز ممالک میں بھی یہ سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ بنا ہوا ہے۔

رواں سال کے اوائل میں عراقی حکومت نے دولت اسلامیہ کے مبینہ نائب جابر سلمان صالح العيساوی اور جنوبی عراقی میں داعش کے کمانڈر جابر علی فياض کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک وقت میں دولت اسلامیہ نے مشرقی عراق سے مغربی شام تک 88 ہزار مربع کلو میٹر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس دوران ان کے زیر انتظام قریب 80 لاکھ کی آبادی پر ظالمانہ حکمرانی کی گئی تھی۔

عراق میں سنہ 2017 کے دوران دولت اسلامیہ کو شکست ہوئی جبکہ شام میں یہ 2018 میں ممکن ہوسکا۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں میں اب بھی دولت اسلامیہ کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔

عراق کو اب بھی ایسے سیلز سے خطرہ ہے جنھوں نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ وہ اکثر دیہی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہیں اور سکیورٹی فورسز یا عمارتوں پر حملے کر کے روپوش ہو جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا تھا کہ دولت اسلامیہ کا مرکزی گروہ اپنے امیر کے حکم پر دوبارہ عراق اور شام میں فعال ہونے کی کوششیں کر رہا ہے جس سے عالمی امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقہ، افغانستان اور جنوبی ایشیا میں دولت اسلامیہ کے مقامی گروہوں کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔