آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان: ’طالبان نے جوزجان صوبے کے دارالحکومت شبرغان پر قبضہ کر لیا‘، امریکہ کی شہریوں سے فوراً افغانستان چھوڑنے کی اپیل
طالبان نے افغانستان کے صوبہ جوزجان کے دارالحکومت شبرغان پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
صوبہ جوزجان کی صوبائی کونسل کے سربراہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دارالحکومت شبرغان پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔ یہ طالبان کے قبضے میں آنے والا دوسرا صوبائی دارالحکومت ہے۔
افغان صحافیوں اور مقامی میڈیا کے مطابق شبرغان شہر کے کئی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے اور طالبان زیادہ تر سرکاری عمارتوں اور شہر کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم ائیر پورٹ ابھی تک حکومتی کنٹرول میں ہے اور وہاں لڑائی جاری ہے۔
طالبان کے مطابق انھوں نے شبرغان کی ایک جیل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں سینکڑوں قیدیوں کو جیل سے نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز طالبان نے جنوب مغربی صوبے نمروز کے صوبائی دارالحکومت زرنج پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
افغانستان کے دیگر صوبائی دارالحکومت جہاں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے، ان میں مغرب میں ہرات اور جنوب میں لشکر گاہ شامل ہیں۔
امریکہ کی شہریوں سے فوراً افغانستان چھوڑنے کی اپیل
دوسری جانب امریکہ نے اپنے شہریوں سے فوراً افغانستان چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی شہری کمرشل فلائٹ آپشنز کا استعمال کرتے ہوئے فوراً افغانستان چھوڑ دیں۔
افغانستان میں سکیورٹی حالات اور عملے کی کمی کے پیش نظر، امریکی سفارت خانے کی افغانستان میں اپنے شہریوں کی مدد کرنے کی قابلیت بھی انتہائی محدود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ان امریکی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے قرض فراہم کر سکتا ہے جو اس وقت امریکہ کا ٹکٹ خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
کابل میں بڑھتے ہوئے تشدد اور دھمکیوں کے باعث سفارت خانے کا وہ عملہ جس کے امور کہیں اور سے انجام دیے جا سکتے ہیں، انھیں پہلے ہی افغانستان سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ امریکہ کی افغانستان کے لیے ٹریول ایڈوائزری لیول 4 ہے (جس کا مطلب ہے کہ جرائم، دہشت گردی، بدامنی، اغوا، مسلح تصادم اور کووڈ 19 کی وجہ سے افغانستان کا سفر نہ کریں)۔
پاکستان کی اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں مدعو نہ کیے جانے کی مذمت
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کرنے کی درخواست قبول نہیں کی گئی جس پر انھیں افسوس ہے۔
افغانستان کی صورت حال پر اجلاس کے چند گھنٹوں بعد منیر اکرم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں صحافیوں کو بتایا ’پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، اسی وجہ سے پاکستان نے افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی باضابطہ درخواست دی تھی لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔ ظاہر ہے پاکستان کے معاملے میں ہمیں انڈیا کی صدارت سے انصاف کی توقع نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ پاکستان، افغانستان کا پڑوسی ملک ہے اور افغانستان کے امن و استحکام میں برابر کا حصے دار ہے۔‘
انھوں نے اجلاس کے دوران افغان اور انڈین سفارت کاروں کے اس الزام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے کہ دہشت گرد پاکستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگائی گئی ہے اور لوگوں کی آزادانہ آمدورفت نہیں۔
منیر اکرم نے پریس کانفرنس میں کہا ’ہم اپنی سرزمین کو افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور افغانستان سے بھی اسی کی توقع کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان 11 اگست کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی میٹنگ کا منتظر ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ اجلاس افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا۔
یاد رہے گذشتہ روز انڈیا کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے غلام محمد اسحاق زئی کا کہنا تھا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں پرتشدد کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس میں لوگ ہلاک اور بے گھر ہو رہے ہیں اور شہری ڈھانچوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس وقت سکیورٹی کونسل کی صدارت انڈیا کے پاس ہے اور اقوام متحدہ میں اس کے مستقل نمائندے ٹی ایس مورتی نے افغانستان میں صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی نمائندے نے اجلاس میں کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں ایک ایسی حکومت کی حمایت کرے گا جس کے لیڈروں کا انتخاب عوام کریں گے، جو انسانی حقوق خاص کر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر یقین رکھتے ہوں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ہوری کریں گے۔
روس کا کہنا تھا کہ اسے افغانستان میں بدامنی سے متعلق خدشات ہیں اور اس بار پر زور دیا کہ وسھی ایشیائی ممالک کو بھی اس حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔
جہاں فرانس نے امن مذاکرات میں خواتین کے کرداد پر بات کی وہیں برطانیہ نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں امن سے متعلق مثبت کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی میڈیا کے لیے کام کرنے والے افغان صحافیوں کو برطانیہ منتقل ہونے کی ’پیشکش‘
ادھر برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ ایسے افغان صحافی جو برطانوی میڈیا کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور انھیں طالبان کی جانب سے فوری خطرہ ہے، انھیں برطانیہ منتقل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
برطانوی میڈیا تنظیموں کو ایک خط میں ڈومینک راب نے کہا ہے کہ ایسے کیسز کو خصوصی بنیاد پر دیکھا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں اداروں نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ افغان صحافیوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو برطانوی فوج کے مترجموں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ جمعے کے روز افغانستان کے اعلیٰ ترین میڈیا اہلکار کو طالبان نے قتل کر دیا تھا۔
افغانستان کے میڈیا اور انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ دارالحکومت کابل میں ایک مسجد سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا رہے تھے۔ طالبان کا کہنا تھا کہ دوا خان کو ’ان کے کیے کی سزا دی گئی ہے۔‘
امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کے بعد سے طالبان نے ملک میں تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور اہم شہروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
جنوب مغربی صوبے نمروز کے مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ افغانستان کے کسی صوبے کا پہلا دارالحکومت ہے جس پر طالبان قابض ہو گئے ہیں اور جمعے کو کئی مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ زرنج پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔
جمعے کے روز ہی برطانوی حکومت نے ملک میں موجود تمام برطانوی شہریوں کو ملک میں ’بگڑتی سکیورٹی صورتحال‘ کے پیشِ نظر ملک چھوڑ کی ہدایات جاری کی ہیں۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے برطانوی شہریوں کو کمرشل فلائٹوں کے ذریعے ملک سے نکلنے اور برطانوی سفارتخانے کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کرنے کے لیے کہا ہے۔
سنہ 2013 سے ایسے افغان مترجموں کو برطانیہ منتقل ہونے کی اجازت ہے جنھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر برطانوی فوج کے ساتھ کام کیا ہے۔
اپنے حالیہ خط میں برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی صحافیوں تنظیموں کی آزادی ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’آزاد افغان میڈیا گذشتہ 19 سال میں افغانستان میں ہونے والی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے اور اسے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ نے خبر رساں اداروں کو اپنے پیغام میں کہا کہ ’آپ کے خط نے ان خطرات کی نشاندہی کی جو آپ کے ساتھ کام کرنے والے افغان عملے کو برطانیہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے لاحق ہوں گے۔‘
’ہم موجودہ قوانین کے دائرہ کار میں ہی ایسے انفرادی کیسز کو خصوصی طور پر دیکھ سکتے ہیں جہاں یہ واضح ہے کہ کہ برطانیہ کے ساتھ روابط کی وجہ سے ان لوگوں کو فوری طور پر خطرات ہیں۔ اس میں صحافی اور ان کے سہولت کار شامل ہیں۔‘
اس سال کے آغاز میں افغان مترجموں اور ان کے خاندانوں کی نقل مکانی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا اور تقریباً 3000 ایسے افراد کے برطانیہ جانے کی توقعات ہیں۔
جمعرات کو ایک پرواز میں 104 افراد جن میں مترجم اور ان کی فیملیاں شامل تھیں، برطانیہ پہنچے تھے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک مترجم نے کہا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے تو خوش ہیں تاہم انھیں اپنے خاندان کو پیچھے چھوڑ آنے کا افسوس ہے۔
گذشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ افغانستان میں نیٹو مشن میں تعینات تمام برطانوی فوجی گھروں کو لوٹ آئیں گے اور ان میں سے زیادہ پہلے ہی لوٹ چکے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کی تمام افواج 11 ستمبر تک ملک سے انخلا کر لیں گی۔