کینیڈا میں پاکستانی نژاد افضال خاندان کا قتل: مسلمان مخالف حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کے رفقا نے اُنھیں کیسا پایا؟

    • مصنف, تزئین حسن اور محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’میں نے جب اپنی دوست اور ساتھی طلعت افضال کی تصویر دیکھی اور یہ سنا کہ وہ کینیڈا میں ایک المناک واقعہ کے اندر ہلاک ہوچکی ہیں تو مجھے پر سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ میں طلعت افضال کو اچھے سے جانتی اور پہچانتی تھی مگر اس کے باوجود سب سے فون کر کے پوچھتی رہی کہ کیا یہ میری بہنوں جیسی دوست طلعت ہی ہیں۔ جب سب کہتے ہاں تویقین کریں کہ میرا دل ڈوب جاتا تھا۔‘

یہ تاثرات کینیڈا میں دہشت گردی واقعہ میں ہلاک ہونے والی طلعت افضال کی ساتھی گلثوم معظم کے ہیں۔ جنھوں نے ان کے ہممراہ فیصل آباد کے ڈویثرنل پبلک سکول (ڈی پی ایس) میں ایک ساتھ کئی سال تک خدمات انجام دی ہیں۔

کینیڈا میں دہشت گردی کے واقعہ میں جہاں ایک خاندان کی تین نسلیں ہلاک ہوئی ہیں۔ جس میں طلعت افضال ان کے بیٹے سلمان افضال، بہو مدیحہ افضال اور پوتی یمنیٰ شامل ہے۔ وہاں اس خاندان کی دادی اورایک استاد بھی دہشت گردی واقعہ کا نشانہ بنیں۔

طلعت افضال نے استاد کی حیثیت سے فیصل آباد میں بھرپور زندگی گزاری تھی۔ وہ چند سال تک ڈویثرنل پبلک سکول میں بحثیت جونیئر سیکشن کے علاوہ گرلز سیکشن میں بحثیت آرٹس ٹیچر خدمات انجام دیتی رہی تھیں۔

کئی سالوں تک بحثیت استاد خدمات انجام دینے والی طلعت افضال کے شاگر اس وقت دنیاکے مختلف ممالک اور پاکستان میں بہت ہی اہم پیشہ ورانہ اور انتظامی امور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ان کے شاگر د انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ ان کے بچھڑنے کے دکھ میں مبتلا ہیں۔ آپس میں رابطے کر کے اپنی استاد طلعت افضال کے حوالے سے یادیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کررہے ہیں۔

شاندار استاد بہترین دوست اور ساتھی

گلثوم معظم کا کہنا تھا کہ اتنے سالوں ہم نے ساتھ کام کیا۔ میں نے ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ دیکھی تھی۔ وہ ہر چھوٹے بڑے کا احترام کیا کرتی تھی۔ ہم نے کئی مرتبہ سکول تفریحی ٹور پر ساتھ کیے ہیں۔ سفرہو یا سٹاف روم اس میں ہمیشہ وہ اپنے ساتھی اساتذہ کا خیال رکھتی تھیں۔ خود تکلیف اٹھا لیتی تھیں۔ دوسروں کو آرام پہچاتی تھیں۔

ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ سادہ لباس پہنتی تھی مگر ان کی شخصیت ایسی شاندار تھی کہ وہ جو بھی زیب تن کرتیں ان پر خوب جچتا تھا۔

خرم سلطان جو کہ اس وقت کاروبار سے منسلک ہیں کے مطابق طلعت افضال 1981 سے لے کر 1985 تک گریڈ ون سے لے کر گریڈ فور تک کلاس ٹیچر رہی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈم طلعت کوئی عام استاد نہیں تھیں۔ ان کے لیے ان کا ہر طالب علم ان کا بیٹا تھا۔ وہ ہر ایک کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہتی تھیں۔ وہ ہر ایک پر توجہ دیتی تھیں۔ ان کی بات کرنے کا انداز ہی دل کو کھینچ لینے والا ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں ہمارے اس دور کے کلاس فیلو اور سکول فیلو کی بڑی تعداد انتہائی کامیاب زندگی گزار رہی ہیں۔ جس میں بڑا ہاتھ اس زمانے کے دیگر استادوں کے علاوہ طلعت افضال کا ہے۔

خرم کہتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا میں کچھ کر گزرنے کے لیے کامیاب لوگوں کے حالات زندگی دلچسپ انداز میں سنایا کرتی تھیں۔جو ہمیں آج بھی یاد ہیں۔

ڈاکٹر کاشف مہناس جو اس وقت فیصل آباد میں وینٹری کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں کا کہنا تھا کہ طلعت افضال میری والدہ کی طرح ہیں بلکہ وہ میری والدہ ہی ہیں۔ ان کی ہلاکت دکھ اور ان کے قصے میں اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو سناتا ہوں۔

ڈاکٹر سلیمان شفیق برطانیہ میں کنسلٹنٹ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ برطانیہ کے مایہ ناز ماہر نفسیات سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نوے کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں وہ ان کی استاد رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری استاد انتہائی محبت، خیال رکھنے والی تھیں۔ وہ ہم سب کو نہ صرف اپنے بچے سمجھتی تھی بلکہ ہم سب کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں۔ انھوں نے ہمیں غیر محسوس طور پر تنظیم، محب وطنی کی تعلیم دی تھی جو آج بھی ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔

’سلمان اور مدیحہ نے اچھے مستقبل کے لیے پاکستان چھوڑا تھا‘

’مجھے یاد ہے کہ سلمان افضال اور مدیحہ سلمان کینیڈا کے لیے پاکستان کو چھوڑ رہے تھے تو اس وقت ان کا خیال تھا کہ اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے جلد پاکستان واپس آئیں گے۔ پاکستان انھوں نے اچھے مستقبل کے لیے چھوڑا تھا۔ افسوس کہ اس المناک واقعے کے بعد اب وہ کبھی پاکستان نہیں آسکیں گے۔‘

کینیڈا کے شہر لندن میں حال ہی میں مسلمان مخالف حملے کا نشانہ بننے والے پاکستانی خاندان کے قریبی عزیز اور مدیحہ سلمان کے لاہور میں مقیم پھوپھی زاد بھائی قائم الحق بی بی سی کو اس خاندان کے بارے میں بتا رہے تھے۔

قائم الحق کہتے ہیں کہ سلمان افضال اور مدیحہ سلیمان کی شاندار جوڑی تھی۔ دونوں کے درمیان احترام اور محبت کا رشتہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کا حد سے بڑھ کر خیال رکھتے تھے۔ دونوں ہی تعمیری سوچ کے مثبت افراد تھے جن کی زندگی کا مقصد معاشرے کی اچھائی کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا تھا۔

’مدیحہ کا بچپن اور زمانہ طالب علمی تو ہمارے سامنے گزرا ہے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر انتہائی شاندار شخصیت کی حامل بہت ہی بہترین انسان تھیں۔ سلمان اور مدیحہ کی شادی مکمل طورپر ارینج میرج تھی۔ سلمان افضال کا رشتہ ہمارے خاندان نے قبول ہی اس لیے کیا تھا کہ وہ بھی انتہائی جاذب شخصیت کے مالک انسان تھے۔

’ان کی زندگی کا محور اپنے بچوں کی تربیت کرنا اور معاشرے کے لیے کارآمد انسان بنانا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے بچے بھی انتہائی لائق و فائق تھے۔‘

حملے کا نشانہ بننے والا خاندان کون تھا؟

سلمان افضال اور مدیحہ سلمان آپس میں دور کے رشتے دار تھے۔ مدیحہ سلمان کے والد پاکستان کی فوج میں ڈاکٹر کی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ ان کے آبا ؤ اجداد تقسیم کے وقت انڈیا سے ہجرت کر کے پشاور آئے تھے۔ سلمان افضال کا تعلق لاہور سے تھا۔

سلمان افضال کے سکول کے ساتھی ڈاکٹر عمر فاروق نے بتایا کہ سلمان نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی تھی۔ فیصل آباد کے ڈویژنل پبلک سکول میں سلمان افضال ان سے سینیئر تھے۔ وہاں پر سلمان افضال کی والدہ آرٹ اور کرافٹس پڑھایا کرتی تھیں۔

سلمان افضال نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور اور فیصل آباد سے حاصل کی تھی۔ وہ لاہور کے رہائشی تھے۔ میڈیکل کی تعلیم کراچی سے حاصل کرنے کے بعد وہ کراچی میں ہی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

قائم الحق کے مطابق سلمان اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان ہی میں فیزیوتھراپی کا انتخاب کر کے اعلیٰ تعلیم کینیڈا سے حاصل کی تھی۔

مدیحہ سلمان کے ایک رشتے کے چچا زغیم غنی جو کہ کینیڈا ہی میں مقیم ہیں کے مطابق مدیحہ سلمان نے پشاور کی انجینیئرنگ یونیورسٹی سے سول انجینیئرنگ میں بیچلرز کرنے کے بعد کینیڈا سے ماسٹرز اور جیو انوائرمنٹ انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔

مدیحہ کا خاندان ادب دوست ہے جبکہ وہ خود بھی ادب سے لگاؤ رکھتی تھیں۔ مشہور شاعر اور 22 جلدوں پر مشتمل اردو لغت مرتب کرنے والے شان الحق حقی ان کے قریبی عزیز تھے۔

سلمان افضال کے ایک اور دوست اور پڑوسی صبور خان جو کہ لندن کینیڈا ہی کی ایک مسجد میں امام مسجد ہیں کا کہنا تھا کہ وہ 14 سال پہلے کینیڈا منتقل ہوئے تھے اور ان سے ہمارا تعلق اتنا ہی پرانا ہے۔

لنک کینیڈا نامی ایک خبر رساں ادارے کی ویب سائٹ پر مدیحہ کے تعارف میں لکھا ہوا ہے کہ وہ ایک فری لانسر لکھاری ہیں جو اپنی تحریروں سے کینیڈا اور امریکہ میں موجود مسلمان کمیونٹی کا اچھا تشخص پیش کرنے کے علاوہ نوجوان مسلمانوں کو کچھ اچھا کر گزرنے پر ابھارتی ہیں۔

بہترین طالب علم، ماں اور ساتھی

مدیحہ سلمان پشاور انجینیئرنگ یونیورسٹی میں اپنے گروپ میں 174 طالب علموں میں واحد خاتون طالب علم تھیں۔ قائم الحق کا کہنا تھا کہ وہ بچپن اور اپنے زمانہ طالب علمی میں مکمل طور پر تعلیم کی جانب متوجہ طالب علم تھی اور اُن کی پہلی اور آخری ترجیح صرف تعلیم تھی۔

صبور خان کا کہنا تھا کہ مدیحہ کینیڈا میں بہت محنت کر رہی تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ کام بھی کرتی تھیں اور ہر مرحلے پر سلمان کے ساتھ ساتھ کھڑی ہوتی تھیں۔

وہ بیک وقت کئی فرائض سر انجام دے رہیں تھیں۔ اپنے خاوند کا بازو بننے کے علاوہ وہ پی ایچ ڈی بھی کر رہی تھیں۔ کینیڈا آ کر انھوں نے ایم ایس کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ بہترین ماں تھیں۔

قائم الحق کا کہنا تھا کہ مدیحہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت دھیان رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بچے بھی شاندار نمبر حاصل کرتے تھے۔ ان کی 15 سالہ بیٹی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی تھی۔

مدیحہ سے جب بھی بات ہوتی تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے ہی سے بات کرتی تھی۔

کینیڈا میں اس خاندان کے ایک اور پڑوسی اور دوست نذر محمد کا کہنا تھا کہ مدیحہ ایک بہترین لکھاری بھی تھیں اور اکثر کینیڈا کے اخبارات میں اُن کے کالم اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ اُن کا شائع ہونے والا مواد زیادہ تر تعلیم اور پاکستان سے متعلق ہوتا تھا۔

کینیڈا میں کسی بھی ہجرت کر کے آنے والے کے لیے شروع کا وقت کچھ مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس خاندان کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ مگر سلمان افضال کو اپنی اہلیہ مدیحہ سلمان کا پورا ساتھ حاصل تھا۔ جس وجہ سے یہ جوڑا بہت جلدی ہی یہاں کے ماحول سے ہم آہنگ ہو گیا تھا۔

نذر محمد کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مدیحہ نے کینیڈا پہنچ کر بھی اپنی تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ ختم نہیں کیا تھا۔ انھوں نے پہلے ایم ایس کیا۔ ظاہر ہے کہ خاندان، بچے اور کام کے ساتھ مزید تعلیم حاصل کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے مگر مدیحہ کو جیسے ہی موقع ملا تو انھوں نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا تھا۔

مدیحہ نے پی ایچ ڈی تقریباً مکمل کر لی تھی۔ وہ اس بارے میں کافی پرجوش بھی تھیں۔ چند دن پہلے پتا چلا تھا کہ وہ اپنا تھیسز مکمل کر چکی ہیں اور اب صرف اس کا دفاع باقی ہے مگر زندگی نے مہلت ہی نہیں دی۔

ہمدرد معالج اور کرکٹ کے شوقین

صبور خان کے مطابق لندن میں ایک ہی مسجد ہے اور سلمان افضال اس مسجد کے نمازی تھے۔ وہ ساتھ ہی نماز ادا کیا کرتے تھے اور پوری کمیونٹی میں ہر دلعزیز تھے۔ کمیونٹی کے معاملے میں آگے بڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔

سلمان افضال ایک انسان دوست شخصیت تھے جو کہ مسجد سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے اور ہمیشہ اپنے کمیونٹی کے اندر فلاح و بہبود کے کام کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان کرکٹ کھیلنے کے شوقین تھے۔ وہ نہ صرف یہ کہ پاکستان کے تمام میچز دیکھتے تھے بلکہ کرکٹ کے متعلق تمام معلومات رکھتے تھے اور یہاں پر جب بھی ان کو موقع ملتا تو وہ کرکٹ میچ کے انتظام بھی کرتے تھے۔

کینیڈا کے میڈیا ادارے سی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سلمان کئی اولڈ ہومز میں بزرگ شہریوں کو شاندار خدمات فراہم کر رہے تھے۔ ایک شہری جیف رینود نے سی بی سی کو بتایا کہ اگرآپ سلمان کو کام کرتے ہوئے دیکھتے تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ وہ بہت محبت، پیار اور ایثار کے ساتھ اپنا کام کر رہے ہوتے تھے۔ وہ بزرگ شہریوں کو اپنا مورال بلند رکھنے میں بہت مدد فراہم کرتے تھے۔

جیف رینود کا کہنا تھا کہ سلمان ایک عظیم انسان تھے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہوتی تھی۔ ان کا اپنے شعبے میں ایک بڑا نام تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نذر محمد کا کہنا تھا کہ ہم اکثر ان کو خاندان کے ہمراہ چہل قدمی کرتے دیکھا کرتے تھے۔ یہ اکثر اپنے بچوں کے ہمراہ ساتھ ساتھ ہی نظر آیا کرتے تھے اور مختلف تقریبات میں بھی ساتھ ہی ہوتے تھے۔

تعلیم، قیادت اور مشعل راہ بننا

یمنیٰ سلمان جب لندن اسلامک سکول سے ابتدائی تعلیم کے بعد فارغ ہوئیں تو یمنیٰ اور مدیحہ نے سکول کی دیوار پر ایک پینٹنگ کی تھی۔ یہ کوئی عام پینٹنگ نہیں تھی بلکہ اس پینٹنگ کا عنوان ’تعلیم، قیادت اور مشعلِ راہ بننا‘ ہے۔

اس پینٹنگ میں انھوں نے سورج اور زمین دکھائے ہیں۔ پھر کہا ہے کہ چاند پر پہنچنے کی جستجو کرو۔ اگر نہ بھی پہنچ سکے تو ستاروں کے درمیان میں تو ہو گے ہی۔

رپورٹ کے مطابق یمنیٰ نے سکول پرنسپل سے گزارش کی تھی کہ وہ سکول کی دیوار پر اپنی یاد چھوڑنا چاہتی ہیں جس کی انھیں اجازت دے دی گئی تھی۔

اب دیوار پر کی گئی پینٹنگ اب بہت بڑی یادگار بن چکی ہے۔

قائم الحق کا کہنا تھا کہ اُن کا خاندان بہت سارے ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور اس وقت ہمارا خاندان اور ساری ہی دنیا دعاگو ہے کہ زخمی بچہ صحت یاب ہو جائے۔ ’ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بچہ نہ صرف صحت یاب ہوگا بلکہ وہ المناک واقعہ کو بھلا کر اپنی اگلی زندگی شاندار بنانے کے علاوہ اپنے ماں باپ کی خواہش کے مطابق دنیا کے لیے کار آمد فرد بنے گا۔‘

نذر محمد کے مطابق مدیحہ اور سلمان نے اپنی بیٹی کو بہت ہی چھوٹی عمر میں سبق دیا تھا کہ دنیا میں کچھ ایسا کرنا ہے جس سے دوسروں کی بھلائی ہوسکے۔ یمنیٰ نے بھی ہمیشہ اپنے ماں باپ کی بات کی لاج رکھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی اکثر کہا کرتی تھی کہ میں ایک دن کینیڈا میں اتنا نام روشن کروں گی کہ پوری دنیا میں لوگ میری مثالیں دیں گے اور میرے ماں باپ، رشتے دار اور برادری مجھ پر فخر کرے گی۔