میرے شوہر کو اپنے آبائی مکان سے جذباتی لگاؤ ہے: سائرہ بانو

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

‘ہر مرتبہ جب بھی مجھے یوسف صاحب (دلیپ کمار) کے آبائی مکان کے بارے میں کوئی اچھی خبر ملتی ہے میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی کیونکہ اس مکان سے میرے شوہر (دلیپ کمار) کو بہت جذباتی لگاؤ ہے۔‘

یہ وہ الفاظ ہیں جو دلیپ کمار کی اہلیہ اور انڈین فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ سائرہ بانو نے بی بی سی اردو کو بھیجے ہیں۔ سائرہ بانو سے انڈیا میں ٹیلیفون پر رابطہ کیا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے ہیں اور اب ان کو اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا جس کے بعد یہاں میوزیم قائم کیا جائے گا۔

’میرے شوہر کو اپنے آبائی مکان سے جذباتی لگاؤ ہے‘

سائرہ بانو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت مسلسل یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ اس مکان کو آئندہ نسلوں کے لیے ایک یادگار بنایا جائِے۔

’ماضی میں کئی مرتبہ اس کے لیے کوششیں کی گئیں اور ہم نے ان کوششوں کو سراہا کیونکہ ماضی میں شمال مغربی سرحدی صوبہ جانے جانا والا اور اب موجودہ خیبر پختونخوا میں حکومت اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس مکان کو ایک میوزیم بنایا جائے جہاں لوگ آئیں اور دیکھیں کہ یہ ماضی کا مکان کیسا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ اس مکان کی اپنی یہی ایک نمایاں حیثیت ہے جہاں دلیپ کمار نے صوبے کے دیگر نوجوانوں کی طرح پرورش پائی۔

’اس مکان سے میرے شوہر دلیپ کمار کو جذباتی لگاؤ ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ ان جذبات کو محسوس کیا جب کچھ سال پہلے شوہر کے ساتھ پاکستان گئی تھی۔ میرے شوہر اس وقت بہت جذباتی ہو گئے تھے جب انھیں نے اپنا آبائی مکان دیکھایا گیا جہاں انھوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن اپنے خاندان کی اعلیٰ روایات اور تحفظ میں گزارا تھا۔

سائرہ بانو نے آخر میں کہا کہ میری خواہش ہے کہ صوبائی حکومت اپنی ان کاوشوں میں کامیاب ہو تاکہ یہ ایک خواب مکمل ہو سکے۔

کپور خاندان کی وہ شخصیت جنھوں نے اپنا بچپن پشاور میں گزارا

پرتھوی راج کپور کی حویلی بھی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لی ہے اور پرتھوی راج کپور کی سب سے چھوٹی بہن شانتہ کپر دھون اس وقت کپور خاندان کی وہ واحد شخصیت ہیں جنھوں نے اپنا بچپن پشاور کی اس حویلی میں گزارا۔

ان کی عمر لگ بھی بیانوے سال ہے اور وہ اپنے پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ شانتہ کپور دھون راج کپور کی پھوپھی ہیں لیکن بقول ان کے بچپن میں وہ ساتھ ساتھ کھیلے ہیں۔

انھیں یاد ہے کہ یہ پانچ چھ منزلہ حویلی ہے اور اس وقت اس میں بڑی تعداد میں کمرے تھے اور ایک تہہ خانہ تھا کیونکہ پشاور میں تہہ خانوں کا بہت رواج تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس تہہ خانے میں کارپٹ بچھی ہوتی تھی اور ہم وہاں گرمیوں میں کھیلا کرتے تھے۔‘

شانتہ کپور دھون نے خواہش کا اظہار کیا کہ کاش کوئی ایسی کوشش کرے کہ میں ایک مرتبہ پھر پشاور آ سکوں اور اپنا آبائی مکان دیکھوں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی تو ہو جو حکومت سے کہے کہ میں اپنے اس مکان کو دیکھنے پشاور آسکوں۔

انھوں نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ ہماری گلی میں ہم سے پہلے بھارتی فلم انڈسٹری کی خوبصورت اداکارہ مدھوبالا کے بھائی کا گھر تھا اور پھر دوسرے نمبر پر ہمارا گھر تھا۔

’میری عمر پانچ سال تھی جب ہم پشاور سے کلکتہ چلے گئے تھے، پھر کلکتہ سے دلی آگئے تھے۔ لیکن چھٹیوں میں ہم ضرور کلکتہ سے پشاور جایا کرتے تھے۔ پشاور میں ہماری ایک پھوپھی بیاہی ہوئی تھیں ان کے ہاں جایا کرتے تھے۔‘

ان کے بیٹے رکی دھون نے کہا کہ ان کی والدہ کے پاس یادوں کا خزانہ ہے اور ہر وقت وہ اپنا بچپن اور حویلی یاد کرتی رہتی ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ روز دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کا قبضہ حاصل کر لیا ہے اور اب ان مکانات کو اپنی اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا عبدالصمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور نے انھیں بتایا کہ اب یہ پراپرٹی محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کی جا رہی ہے اور اس کا قبضہ حاصل کر کے سیل کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس پر کام شروع کیا جائے گا، اور پہلے قدم پر اس کی بحالی کا تخمینہ لگایا جائے گا۔

دلیپ کمار 1997 میں پاکستان آئے تھے جہاں انھیں پاکستان کے اعلیٰ اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا اور اس دوران وہ پشاور آئے تھے۔

انھوں نے اپنے اس گھر اور محلے میں جانے کی خواہش کی تھی اور انھیں اس محلے لایا جا رہا تھا کہ لوگوں کو اطلاع ہوئی اور ایک ہجوم وہاں اکٹھا ہو گیا تھا جس وجہ سے وہ اپنے گھر اور اپنے محلے کو نہیں دیکھ سکے تھے۔

ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں جاتے تو منتظمین اور لوگوں کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی تھی اس لیے وہ نہیں جا سکے لیکن انھیں یقین ہے کہ گھر بھی وہیں ہے اور محلہ بھی وہیں موجود ہے۔

ان کا یقین پختہ تھا یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ان کے مکانات کا قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اب ان مکانات کو ان کی اصلی حالت میں محفوظ کیا جائے گا۔

حالانکہ ایسی اطلاعات تھیں کہ جن مالکان کی تحویل میں یہ مکانات تھے وہ یہاں کمرشل پلازہ بنانا چاہتے تھے اس لیے اندر سے ان مکانات کی توڑ پھوڑ بھی جاری تھی۔

حکومت پاکستان نے دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو سرکاری تحویل میں لے کر یہاں میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں یہ مکانات جن کی تحویل میں تھے ان سے خریدے گئے ہیں اور سرکاری طور پر راج کپور کے مکان کی قیمیت ایک کروڑ پچپن لاکھ اور دلیپ کمار کے مکان کی قیمت اٹھاسی لاکھ روپے ادا کی گئی ہے۔

دلیپ کمار کا مکان کہاں ہے؟

حکومت نے کپور حویلی اور دلیپ کمار کے مکان خرینے اور یہاں میوزیم قائم کرنے میں میں دلچسپی ظاہر کی تو اس کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے تھے لیکن اُس وقت یہ مکان مقامی افراد کی ملکیت تھے۔ دلیپ کمار کا مکان قصہ خوانی بازار میں محلہ خدائداد میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ چار مرلے بتایا گیا ہے۔ اس میں تعمیر والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ دلیپ کمار نے اپنے پاکستان کے دورے کے دوران پشاور کی ہندکو زبان میں لوگوں سے بات چیت کی اور اپنے بچپن کی یادوں کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے قلعہ بالا حصار اور خیبر ضلع میں لنڈی کوتل کا دورہ بھی کیا تھا۔ انھوں نے اس دورے کے دوران پشاور کے چپلی کباب اور پلاؤ کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔

کپور حویلی

پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں ڈھکی منورشاہ کے مقام پر ایک بڑی حویلی اب تک تاریخی ورثے کی ایک نشانی ہے۔ اس حویلی کی اپنی اہمیت ہے لیکن کپور خاندان کی وجہ سے اس حویلی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

راج کپور کے والد پرتھوی راج (جنھوں نے 'مغلِ اعظم' میں اکبر کا کردار ادا کیا تھا) اپنے آپ کو پہلا ہندو پٹھان کہتے تھے۔ وہ بالی وڈ میں اداکاروں کے پہلے خاندان سے تھے جو اب چار نسلوں پر محیط ہے۔ اکثر وہ انڈیا میں پشاور کی ہندکو زبان بھی بڑے فخر سے بولا کرتے تھے۔

ڈھکی منور شاہ میں قائم کپور حویلی عظیم شو مین راج کپور کے دادا بششر ناتھ کپور نے 1922 میں تعمیر کرائی تھی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے معروف مصنف ابراھیم ضیا نے پشاور کے فنکار نام سے تحقیقی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں انھوں نے راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور سے لے کر شاہ رخ خان تک پشاور سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کا تذکرہ کیا ہے۔

کپور حویلی اب انتہائی خستہ حال میں ہے حالانکہ اپنے دور میں یہ ایک شاندار عمارت تھی۔ اس میں متعدد کمرے راہداریاں تھیں۔