چینی نوجوان مردوں میں ’زنانہ پن‘ کی شکایت: لڑکوں کے لیے ’مردانگی‘ کا سبق کیوں تجویز کیا گیا؟

    • مصنف, کیری ایلن
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

چینی وزارتِ تعلیم کی جانب سے ایک نئے نوٹس کی وجہ سے ملک میں کافی بحث چل پڑی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چینی مرد بہت زیادہ ‘زنانہ‘ ہوگئے ہیں۔

اس نوٹس کو انٹرنیٹ پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ ملک کی مرد سلیبریٹیز ہیں۔

کافی عرصے سے چینی حکومت اس جانب اشارہ کرتی رہی ہے کہ چین میں مردوں کے رول ماڈلز اب طاقتور، اور کھیلوں سے منسلک لوگ اور ’فوجی ہیروز‘ نہیں رہے۔

صدر شی جن پنگ کی فٹبال سے محبت کافی مشہور ہے اور وہ ملک میں بہتر کھلاڑیوں کی تیاری کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے جب وزارتِ تعلیم نے یہ نوٹس جاری کیا تو اس کا عنوان ایسا دیا گیا جس سے اس کے حتمی ہدف کے بارے میں کوئی شک نہیں رہ گیا۔

حکام کی جانب سے ’مرد نوجوانوں کے زنانہ پن کو روکنے کی تجویز‘ نامی اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سکول فزیکل تعلیم کے حوالے سے اپنے نصاب کا از سرِنو جائزہ لیں اور اس حوالے سے اپنے اساتذہ کی بھرتی کریں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ کھلاڑیوں اور کھیل کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نوکری پر رکھا جائے اور مخصوص کھیلوں پر جیسے کہ فٹبال ہے توجہ دی جائے تاکہ طلبہ میں ’مردانگی پیدا ہو۔‘

مزید پڑھیے

یہ ایک اہم کاوش ہے کیونکہ چین میں میڈیا میں پہلے ہی صرف صاف ستھرے، سماجی طور پر ذمہ دار سٹارز کو دیکھائے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

تاہم اس سے قبل بھی ایسے شواہد مل رہے تھے کہ یہ کوشش آنے والی ہے۔ گذشتہ مئی میں چین کی اعلیٰ ترین مشاورتی کیمٹی کے ایک نمائندے سی زیفو نے کہا تھا کہ چین کے نوجوان مرد ‘کمزور، نازک، اور ان کی عزتِ نفس میں کمی آ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان چینی شہریوں میں ’زنانہ پن کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ چیز چینی قوم کی بقا اور ترقی کے لیے خطرہ ہوگی اگر اسے موثر انداز میں درست نہ کیا گیا۔ ‘

انھوں نے مزید کہا کہ گھروں کے اندر ماحول اس کی جزوی وجہ تھی کیونکہ زیادہ تر چینی لڑکوں کی پرورش مائیں یا دادی/نانی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا خیال تھا کہ کچھ مرد سلیبریٹیز کی مقبولیت کی وجہ سے بہت سے بچے اب آرمی کے ہیروز نہیں بننا چاہتے۔

ان کی تجویز تھی کہ سکولوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ چینی بچوں کو ایک متوازن تعلیم دی جا رہی ہے۔

‘مردوں کو ڈر کس چیز کا ہے؟‘

مگر چین میں اس نوٹس پر زیادہ تر ردعمل انتہائی منفی ہے۔ لاکھوں چینی شہریوں نے سوشل میڈیا پر جا کر اس حکومتی بیان کو صنفی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ‘کیا زنانہ پن اب بےعزتی کے الفاظ ہیں؟‘ اس رائے پر دو لاکھ لوگوں نے لائیک کیا۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ‘لڑکے بھی انسان ہوتے ہیں۔ جذبات رکھنا، نازک ہونا یا دھیما مزاج ہونا، یہ انسانی خصوصیات ہیں۔‘

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ‘مردوں کو ڈر کس چیز کا ہے۔ کیا انھیں خواتین جیسا ہونے کا ڈر ہے؟‘

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ‘اس ملک میں عورتوں کے مقابلے میں سات کروڑ زیادہ مرد ہیں۔ دنیا میں کسی ملک میں صنفی تناسب اس قدر خراب نہیں ہے۔ کیا یہ کافی مردانہ نہیں ہے؟‘

ایک صارف نے کہا کہ ایسے مطالبے خواتین سے تو نہیں آتے۔ چین میں اعلیٰ سطحی قیادت میں مردوں کی اکثریت بلکہ ایک طرح مکمل حاوی ہونے کے حوالے سے کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔

مگر میڈیا میں کچھ لوگوں جیسے کہ گلوبل ٹائمز نامی اخبار کا کہنا تھا کہ اس مہم کی عوام میں کچھ حمایت بھی موجود ہے۔

چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس رجحان کی وجہ چین کے موجودہ مرد سلیبریٹیز ہیں جنھیں ‘لیٹل فریش میٹس‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

یہ الفاظ ان چینی مرد سیلیبریٹیز کے لیے استعمال ہوتے ہیں جن کی شکل و صورت نازک اور صاف ستھری، کلین شیو ہوتی ہے۔

بوائے بینڈ ٹی ایف بوائز اور چینی گلوکار لو ہان اس کیٹیگری میں آتے ہیں اور زیادہ تر کے پاپ کے سٹارز بھی ایسے ہی شمار کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب باکسٹ بال سٹار یاؤ منگ کو شہرت چین کے باہر ملی ہے مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ اس حکومتی مہم میں فٹبال کو حاص اہمیت دی گئی ہے۔

مگر یہ حیرانی کی بات نہیں ہے۔ صدر شی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ انھیں امید ہے کہ ان کا ملک 2050 تک دنیا میں فٹبال سپر پاور بن جائے گا۔

تاہم چین کی فٹبال کو بہتر کرنے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں بلکہ ان کو ناممکن قرار دے کی مذاق بھی اڑایا گیا ہے۔

یہ وہ رائے ہے جو دو سال قبل فٹبال کوچ مارسیلو لپی کے بطور چینی فٹبال ٹیم کے کوچ اپنا عہدہ چھوڑنے کے موقعے پر سامنے آئی تھی۔ لپی نے بطور کوچ 2006 میں اپنے ملک اٹلی کو فیفا ورلڈ کپ میں کامیابی دلوائی تھی۔

تاہم چینی حکومت کی گذشتہ چند ماہ سے کوشش ہے کہ وہ نوجوان چینی لڑکوں کے لیے نیے رول ماڈلز متعارف کروائیں۔

مگر جہاں تک خواتین کا تعلق ہے، کورونا وائرس کی وبا یہ ایک اہم موقعہ تھا جب خواتین کو یہ بات واضح کرنے کا موقع ملا کہ بطور فرنٹ لائن ورکز ان کی اہمیت کیا ہے۔

اور چین کے خلائی پروگرام کی کامیابیوں نے بھی ایک موقعہ فراہم کیا ہے کہ 24 سالہ سپیس کمانڈر ژاؤ چنگیو جیسے لوگوں کو پروموٹ کیا جائے۔

مگر جیسا سی زیفو نے گذشتہ سال کہا، چینی لڑکوں کے لیے طاقتور اور بےخوف فوجیوں، پولیس والوں، اور فائر فائٹروں سے محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔

مگر لیٹل فریش میٹس کا طریقہ کامیاب سے کامیاب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان پر تنقید بھی بڑھتی جا رہی ہے اور ان سلیبیریٹیز کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اگر وہ اس روایتی انداز سے کچھ بھی مختلف کریں۔

گذشتہ چند سالوں میں چینی میڈیا نے نوجوان مرد سٹارز کو بالیوں یا ٹیٹو کے ساتھ سکرین پر نہیں آنے دیا ہے۔ اور 2019 میں چین کے ایک ٹاپ پوپ سٹار پر سخت تنقید کی گئی جب ان کی سگریٹ پیتے ہویے ایک تصویر منظرِ عام پر آئی تھی۔