آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ: صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اراکین مواخذے کی تحریک کے حامی، 25ویں ترمیم کی قراردار منظور
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پارٹی رپبلکن کے کئی اراکین نے صدر کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔
ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کی تیسری سب سے سینیئر رہنما لز چینی نے کہا ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے امریکہ کے کیپٹل ہل پر ہونے والے ہنگاموں کے بعد صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امریکی قانون سازوں کی عمارت پر اپنے حمایتیوں کی جانب سے دھاوا بولنے کے واقعہ کی کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی۔
صدر ٹرمپ کا چار سالہ دور صدارت 20 جنوری کو ختم ہو رہا ہے اور اسی تاریخ کو نو منتخب صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں ایوان نمائندگان بدھ کو صدر ٹرمپ پر ’بغاوت‘ اور ’فساد‘ کے الزامات کے تحت ان کے خلاف مواخذے کے معاملے پر ووٹنگ کرے گی جس کے مطلب ہو گا کہ وہ امریکی تاریخ میں پہلے صدر بن جائیں گے جن کے خلاف دو بار مواخذے کی تحریک چلے گی۔
رپبلکن پارٹی کے اراکین نے کیا کہا ہے؟
سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کی صاحبزادی لز چینی نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مواخذے کی مہم کا ساتھ دیں گی۔
صدر رچرڈ نکسن کے 70 کی دہائی میں دور صدارت کے دوران ہونے والے مواخذے کی کارروائی کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب کسی پارٹی رکن نے اپنی ہی پارٹی کے صدر کے خلاف مواخذے کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہو۔
لز چینی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا: ’امریکی تاریخ میں آج تک آئین اور صدر کے عہدے اور حلف سے اتنا بڑا دھوکہ نہیں کیا گیا۔‘
ریاست وائیومنگ سے نمائندگی کرنے والی لز چینی نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ان بلوائیوں کو بلایا، انھیں جمع کیا اور انھیں اس حملہ پر اُکسایا۔‘
لز چینی کے علاوہ ایوان نمائندگان کے کم از کم دو اور رپبلکن اراکین، جان کاٹکو اور ایڈم کنزنگر نے بھی کہا ہے کہ وہ مواخذے کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔
ایوان نمائندگان میں رپبلکن رہنما اور صدر ٹرمپ کے حامی، کیون مککارتھی نے کہا ہے کہ وہ مواخذے کی مخالفت کریں گے لیکن خبروں کے مطابق انھوں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے دیگر اراکین کو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ بھی مواخذے کے خلاف ووٹ ڈالیں۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق سینیٹ میں رپبلکن رہنما مچ مککونل نے بھی اپنے قریبی ساتھیوں کو بتایا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش پر خوش ہیں کیونکہ اس کی مدد سے رپبلکن پارٹی کو صدر ٹرمپ سے چھٹکارا پانے کا موقع مل جائے گا۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق مچ مککونل نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ صدر نے ایسا جرم کیا ہے جس پر ان کا مواخذہ ہونا چاہیے۔
مواخذے اور 25ویں ترمیم کے حوالے سے کیا ہو رہا ہے؟
امریکہ میں منگل کی شب (اور پاکستان میں بدھ کی صبح) امریکی ایوان نمائندگان میں 205 کے مقابلے میں 223 ووٹوں کے ساتھ قرار داد منظور کر لی گئی جس میں نائب صدر مائیک پنس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 25ویں ترمیم کا استعمال کریں۔
لیکن اس سے پہلے منگل کو ہی نائب صدر مائیک پنس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کی قرارداد کو رد کرتے ہیں۔
ترمیم کے سیکشن چار کے مطابق کابینہ کے لیے اجازت ہوتی ہے کہ اگر انھیں لگے کہ صدر اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اسے ہٹا دیا جائے۔
ہاؤس کی سپیکر نینسی پیلوسی کے نام لکھے گئے ایک خط میں مائیک پنس نے کہا: 'ہمارے آئین کے تحت 25ویں ترمیم کسی صدر کو ہٹانے یا اس کو سزا دینے کے لیے نہیں ہے۔ 25ویں ترمیم کا اس طریقے سے استعمال کرنا مستقبل کے لیے بہت بری مثال قائم کرے گا۔'
نائب صدر کی جانب سے اس ترمیم کے استعمال سے انکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بدھ کو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے لیے ووٹنگ کی جائے گی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مواخذے کی کارروائی میں ڈیموکریٹس ووٹنگ کے تحت صدر ٹرمپ کا دوبارہ کبھی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی لگا دیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سنہ 2024 کے انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں۔
اگر ہاؤس میں صدر ٹرمپ کا مواخذہ ہو جاتا ہے تو اس کی کارروائی سینیٹ میں ہو گی جہاں ان پر لگنے والے الزامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے منگل کو خبر میں کہا کہ کم از کم 20 سینیٹرز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ صدر کو قصوروار قرار دینے کے لیے تیار ہیں۔
صدر ٹرمپ کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں دو تہائی کی اکثریت کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کم از کم 17 رپبلکنز کی حمایت درکار ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے کیا کہا؟
گذشتہ بدھ بعد پہلی بار رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے رویے اور بدھ کی صبح اپنے حامیوں کو دی گئی تقریر کے بارے میں کسی قسم کی ندامت نہیں دکھائی۔ صدر ٹرمپ کی اس تقریر کے بعد ہی ان کی حمایتیوں نے امریکی کانگریس پر بلوہ بول دیا تھا۔
ریاست ٹیکساس میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بننے والی دیوار کا دورہ کرنے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: 'جو کچھ میں نے کہا وہ بالکل مناسب تھا۔ مجھے کسی قسم کا تشدد نہیں چاہیے۔ یہ مواخذے کا معاملہ لوگوں میں بہت غصہ پیدا کر رہا ہے، آپ کر رہے ہیں، اور یہ بہت ہی بری چیز ہے جو یہ کر رہے ہیں۔'
صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'اصل مسئلہ' ڈیموکریٹک پارٹی کے جانب سے 'جذباتی بیانات' ہیں جو انھوں نے گذشتہ سال 'بلیک لائیوز میٹر' کے احتجاج میں استعمال کی تھی۔
صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک کا محور ان کی وہ تقریر ہے جو انھوں نے گذشتہ بدھ کو اپنے حمایتیوں کے سامنے دی تھی جس کے بعد وہ تمام لوگ ایک ہجوم کی شکل میں امریکی کانگریس کی عمارت کی طرف گئے اور وہاں دھاوا بول دیا۔
تین نومبر کو جو بائیڈن سے صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد سے صدر ٹرمپ مسلسل دھاندلی کے غیر مصدقہ دعوی کرتے چلے آ رہے ہیں، اور انھوں نے اُس تقریر میں بھی موجود عوام سے کہا کہ وہ کانگریس کی جانب مارچ کریں، جہاں گذشتہ بدھ کو قانون ساز اراکین نو منتخب صرر جو بائیڈن کی جیت کو 'سرٹیفائی' کر رہے تھے۔
اپنی اس تقریر میں صدر ٹرمپ نے موجود افراد سے کہا کہ 'امن کے ساتھ، اور حب الوطنی کے ساتھ اپنی آوازیں بلند کریں' لیکن پھر یہ بھی کہا کہ 'بہت جذبے کے ساتھ لڑیں۔'
چھ جنوری کو ہونے والے واقعات کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟
امریکی ادارے ایف بی آئی نے منگل کو بتایا کہ اب تک حملے میں ملوث 170 افراد کو شناخت کر لیا گیا ہے جس میں سے 70 افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
توقع ہے کہ آنے والے دونوں میں کئی اور افراد پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور جن پر جرم ثابت ہو جائے گا، ان کو 20 سال تک جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔
ہنگامہ کرنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ خود کو قانون کے سامنے پیش کر دیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھی ایک مہم چل رہی ہے جس کے مدد سے عوام ہنگامے کرنے والوں کو تصاویر کی مدد سے شناخت کر رہی ہے۔
ایف بی آئی نے مزید کہا کہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انھیں دو پائپ بم اور دھماکہ کرنے والے آلات اور ٹائمر بھی ملے ہیں۔
مزید برآں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ہنگاموں سے ایک روز قبل ایف بی آئی نے ایک ادارے میں ایک اندرونی تنبیہ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انتہا پسند افراد امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کے مقصد سے سفر کر رہے ہیں
امریکی میڈیا میں چلنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی کی اس دستاویز کے مطابق حملہ آوروں نے آپس میں امریکی کپیٹل کی عمارت کے نیچے بنیں سرنگوں کے نقشوں کا بھی آپس میں تبادلہ کیا تھا۔