ڈیٹنگ کوچ سامی وندر: مارکیٹ میں ’سب سے سستا کھلاڑی ہونے میں کوئی عزت نہیں‘

سامی وندر کوئی عام سی سی ای او نہیں۔ ان کا بزنس بھی کوئی عام سا بزنس نہیں۔ وہ محبت اور رشتوں کے لیے ایک کوچنگ سروس چلاتی ہیں۔

آج انھیں اس بزنس سے سالانہ دس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کی آمدن ہوتی ہے۔ تاہم جب انھوں نے شروعات کی تھیں تو ان کے سامنے بھی وہی سوال تھے جو شاید ہر نئے بزنس کرنے والے کے سامنے ہوتے ہیں: کیا شروعات میں قیمت کم رکھنی چاہیے تاکہ گاہک زیادہ مل سکیں؟ اور اگر ہاں تو کاروبار کو وسعت کب دینی چاہیے؟

سامی کہتی ہیں کہ آپ نے جتنا جلد ہو سکے مارکیٹ کو بدلنا ہے، کیونکہ ’سب سے سستا کھلاڑی ہونے میں کوئی عزت نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سامی کی پیدائش انڈیا میں ہوئی اور وہ اب جرمنی میں رہتی ہیں۔ اپنے بزنس کے ذریعے وہ ایسی کامیاب اور بہتر آمدن والی خواتین کی مدد کرتی ہیں جو شادی کرنے کے لیے پارٹنر کی تلاش میں ہوں۔ اور وہ ایسا سستے میں بالکل نہیں کرتیں۔

اُن کے ساتھ ایک پورے دن کے سیشن کی قیمت ساڑھے تیرہ ہزار پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔

سامی کے اپنے تجربے سے انھیں یہ بزنس شروع کرنے کا خیال آیا۔ وہ جرمنی میں رہتی تھیں اور بطور ماہر اقتصادیات اپنے کام میں کافی کامیاب تھیں۔

لیکن انھیں مردوں کے ساتھ کچھ ہفتوں سے زیادہ عرصے کے لیے رشتے قائم رکھنے میں دقت پیش آتی رہی۔ جس کے بعد انھوں نے اس کے پیچھے کارفرما وجوہات اور رشتوں کی ناکامی اور کامیابی کے بارے میں کئی سوالات کے بارے میں سوچا۔

پھر انھوں نے ’روٹیشنل ڈیٹنگ‘ نامی ایک نیا طریقہ استعمال کیا۔ جس میں انھوں نے ایک ہی وقت میں کئی مردوں کو ڈیٹ کیا اور پھر اپنے حتمی انتخاب کا فیصلہ کیا۔

انھیں کرس ملے اور سنہ 2013 میں دونوں نے شادی کر لی، اور سنہ 2016 میں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اسی سال انھوں نے کشش اور رشتوں میں خود اعتمادی کے بارے میں خواتین کو کوچ کرنا شروع کیا۔

شروع شروع میں ان کے کلائینٹ ان کے اپنے دوست تھے، اور ان کی فیس بہت ہی کم، تقریباً بیس پاؤنڈ فی گھنٹہ۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے یہ کام شروع کیا تو میں اس بارے میں کافی تذبذب میں تھی کہ اس کی قیمت کیا لگائی جائے، کیونکہ میں نے اس وقت تک کسی کے ساتھ ایسا کام نہیں کیا تھا، یعنی مارکیٹ میں میری کوئی ساکھ نہیں تھی۔‘

تاہم ان کا بزنس بہت جلد کافی پھیل گیا اور کلائنٹس کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ان کے پاس وقت کم پڑ گیا۔ وہ کہتی ہیں ’میں خود کو اور اپنے خاندان کو وقت اور توجہ نہیں دے پا رہی تھی۔‘

یہ بات واضح تھی کہ انھیں کلائنٹس کی تعداد کم کرنا پڑے گی اور سروسز کی قیمت بڑھانی پڑے گی۔ وہ کہتی ہیں ’جب میں نے اپنی قیمتیں بڑھائیں تو بہت ڈری ہوئی تھی۔ ہر کاروباری شخص اس تذبذب سے گزرتا ہے۔ اگر میں نے آہستہ آہستہ دام بڑھا دیے تو کیا مارکیٹ میں مجھے نقصان ہو گا؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ مارکیٹ میں سب سے سستا ہونا کوئی عزت یا تعریف والی بات ہے۔‘

سامی کہتی ہیں کہ قیمت بڑھانے کے لیے صحیح وقت کا انتخاب سب سے اہم ہے۔

’میں نے چوتھے یا پانچویں مہینے میں فیس بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی وجہ بس یہ تھی کہ تب تک میں بیس سے زیادہ خواتین کے ساتھ کام کر چکی تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میرا طریقہ کام کر رہا تھا اور لوگوں کو وہ دے رہا تھا جس کی وہ تلاش میں تھے۔‘

تب سے سامی نے اپنی فیس میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی فیں کے باوجود ان کا بزنس ہر سال بڑھا ہے اور اس وقت سالانہ ڈیڑھ ملین پاؤنڈ مالیت کا ہے۔ انھوں نے تیس ممالک میں 2,800 کلائنٹس کو کوچ کیا ہے، جن میں سے 195 کی منگنیاں ہو چکی ہیں اور درجنوں دیگر دیرپا رشتوں میں بندھ گئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں نوجوان انٹرپرینیور کے لیے یہ سمجھنا اہم ہے کہ صرف مارکیٹ ریٹ مانگنے سے ان کا بزنس تباہ نہیں ہو جائے گا۔‘

سامی کہتی ہیں کہ ’فیس بڑھانے کے باوجود میرا کاروبار ہر سال بڑھا ہے۔ لیکن اہم یہ ہے کہ آپ کے اندر کلائینٹ سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا اعتماد ہونا چاہیے۔‘