آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلجیئم: ریس لگانے والا کبوتر 1.6 ملین یورو کی ریکارڈ قیمت میں فروخت
بلجیئم میں ریس لگانے والے کبوتر کو 1.6 ملین یورو کی ریکارڈ قیمت پر فروخت کیا گیا ہے۔
نیو کم نامی اس دو سالہ کبوتر کو صرف دو سو یورو کی قیمت فروخت کیا جانا تھا تاہم چین میں سے ایک شخص نے نیلامی میں اس کی قیمت 1.6 ملین یورو لگائی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے کرٹ وان دوائور نامی شخص، جس کی فیملی نے اس کبوتر کو پالا تھا، کے حوالے سے بتایا کہ وہ یہ خبر سن کر دنگ رہ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
اس سے پہلے ایک چار سالہ کبوتر کو 1.25 ملین یورو میں فروخت کیا گیا تھا جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس چار سالہ کبوتر کا نام آرمانڈو تھا اور اسے کبوتروں کا لوئس ہیملٹن کہا جاتا تھا۔ تاہم جس وقت 2019 میں اسے فروخت کیا گیا تھا وہ ریس لگانے سے ریٹائر ہو چکا تھا اور اس کے کئی بچے کبوتر تھے۔
نیو کم نے بھی 2018 میں متعدد مقابلے جیتے ہیں جن میں قومی سطح پر متوسط فاصلے کے مقابلے شامل ہیں۔ تاہم اب نیو کم بھی ریٹائر ہو چکا ہے۔
آرمانڈو کی طرح نیو کم بھی نیلامی میں دو بولی لگانے والوں کے درمیان شدید مقابلے کے بعد خریدا گیا ہے۔ بظاہر دونوں بولی لگانے والے افراد کا تعلق چین سے تھا۔ چین میں کبوتروں کی ریس کا کھیل کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
ریس میں اڑنے والے کبوتر عموماً دس سال کی عمر تک بچے پیدا کر سکتے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ نیو کم کے نئے مالکان اسے اسی کام کے لیے استعمال کریں گے۔
تاہم نیلامی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بات اس نیلامی کو اور زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔
نیلام گھر پیپا کے سی ای او نکولاس گائیسلبریخت کا کہنا ہے کہ ’یہ ریکارڈ قیمت اس لیے بھی ناقابلِ یقین ہے کہ نیو کم مادہ ہے۔ عموماً نر کبوتر کی قیمت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس سے کئی بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔‘