امریکی صدارتی الیکشن 2020 کے نتائج: پاکستانی صارفین کے امریکی صدارتی انتخاب پر دلچسپ تبصرے اور میمز

امریکی صدارتی انتخاب ہو اور پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین خاموش رہیں یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی امریکی صدارتی انتخاب اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث موضوع ہے۔ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت برقرار رکھیں گے یا امریکی اب کی بار جو بائیڈن کو چانس دینا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جہاں صدارتی انتخاب کے حتمی نتیجے کا بے چینی کا انتطار ہو رہا ہے وہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے چٹکلوں اور میمز کی دنیا بھی آباد کی جا رہی ہے۔

پاکستانی صارفین امریکہ کے صدارتی انتخاب کا اپنے ملک کے سیاسی حالات سے موازانہ کرتے ہوئے صورتحال کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

ان میمز کے ذریعے بہت سے صارفین یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر امریکہ میں پاکستان جیسی طرز سیاست ہوتی تو موجودہ صورتحال، جس میں نتائج کے اعلان میں تاخیر ہو رہی ہے، میں وہ کیسے ردعمل دے رہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیے

کون جیتے گا؟ یہ ہر ووٹنگ کے بعد پہلا سوال ہوتا ہے۔ اسی بے قراری کو اسامہ عمر نامی ٹوئٹر صارف نے مسٹر بین کی تصویر کے ساتھ بیان کیا اور لکھا ’میں نتائج کا انتظار کرتے ہوئے، اگرچہ میں امریکی نہیں ہوں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاب سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر وہ ہارے تو نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے اور قانونی کارروائی کریں گے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ فوٹو شاپ کی گئی متعدد تصاویر بھی گردش میں ہیں، جن کے ساتھ دلچسپ کیپشن درج ہیں۔

ایسی ایک تصویر حسین ندیم نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر میمز کی ڈالر میں کوئی قدر ہوتی تو پاکستان سپر پاور ہوتا۔‘

ایک اور صارف نے جو بائیڈن کی یہ جعلی ٹویٹ شیئر کی۔ ’میں ان کو رلاؤں گا۔‘

چونکہ مولانا فضل الرحمن پاکستان میں حزب اختلاف کے احتجاج میں پیش پیش رہتے ہیں اسے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے خدشے کے پیش نظر ایک صارف علی شیر نے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی ایک تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا 'ہیلو ٹرمپ میں کرائے پر دستیاب ہوں۔‘

جبکہ نور اعجاز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ کنٹینرز کب لائیں گے؟ اور ڈی جے بٹ انٹرنیشل کب ہوں گے؟'

اسی طرح ماریہ نامی ایک صارف نے شاعر حبیب جالب کا شعر بطور ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک جعلی ٹویٹ ازراہ مذاق پوسٹ کیا۔

نتائج کی غیر متوقع صورتحال پر ڈونلڈ ٹرمپ یقیناً بوکھلائے ہوئے ہوں گے تو ایسے میں وزیر اعظم پاکستان کا مشورہ ان کے کام آ سکتا ہے۔ اسی لیے ہارون رشید نامی صارف نے ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایک تصویر بطور میم شیئر کی جس میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کہہ رہے ہیں ’ٹرمپ جانی آپ نے سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے۔‘

اسی طرح ایک صارف نے پاکستان کی سیاست کے معروف شعر’عرش والے میرے توقیر سلامت رکھنا، فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں‘ صدر ٹرمپ کے نام سے شیئر کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ ریاستوں میں انتخابی نتائج کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال بھی پاکستانیوں کے لیے نہ تو نئی ہے اور ناں پاکستان سے مختلف۔ حامد رشید نامی صارف نے بھی اس صورتحال کا لطف اٹھاتے ہوئے ایک میم پوسٹ کی جس میں بظاہر صدر ٹرمپ چار حلقے کھولے جانے کی بات کر رہے ہیں۔

ناجیہ احتشام نامی صارف نے جو بائیڈن کی میاں نواز شریف کے ہمراہ ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں وہ اپنا ہاتھ نواز شریف کے ہاتھ پر رکھے ہوئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ انھیں تسلی دے رہے ہوں اور اس کے ساتھ لکھا ہے 'میاں صاب۔۔ میں واپس آ گیا واں۔۔۔ میں ٹرمپ خان نوں کڈیا اے، تسی ہن اودے بھرا نوں کڈنا اے۔۔‘ یعنی 'میاں صاحب میں واپس آ گیا ہوں، میں نے ٹرمپ خان کو نکال دیا ہے اب آپ نے اس کے بھائی کو نکالنا۔‘

کچھ سوشل میڈیا صارفین مبارکبادوں میں بھی جلد کر رہے ہیں۔ حفیظ کریم نامی صارف نے جو بائیڈن کی آصف زرداری کے ساتھ تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’نو منتخب امریکی صدر‘ کو مبارکباد بھی دے ڈالی۔