آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیس میں چرچ پر حملہ: ’21 سالہ مشتبہ حملہ آور تیونس سے چند روز قبل یورپ داخل ہوا تھا‘
فرانس میں حکام کا کہنا ہے کہ نیس شہر کے ایک گرجا گھر میں گذشتہ روز چاقو سے حملہ کرنے والا مشتبہ حملہ آور چند روز قبل ہی تیونس سے یورپ میں داخل ہوا تھا۔
21 سالہ مبینہ حملہ آور کو جائے وقوعہ سے کچھ ہی دیر بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔ چرچ پر ہونے والے اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اگرچہ حکام کی جانب سے ابھی مبینہ حملہ آور کا نام سرکاری سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا تاہم پولیس ذرائع کے مطابق اُن کا نام براہم ایویساوے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کے پاس اطالوی ریڈ کراس کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات تھے۔ یہ دستاویزات انھیں گذشتہ ماہ اس وقت جاری کیے گئے تھے جب وہ پناہ گزینوں کی ایک کشتی کے ذریعے اٹلی پہنچے تھے۔
حملے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے مبینہ حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اور اب وہ تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے ایک خاتون کا سر قلم کیا گیا تھا۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے اسے ’سخت گیر اسلام پسند دہشتگرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔
میکخواں کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد گرجا گھروں اور سکولوں جیسے عوامی مقامات کے لیے سکیورٹی تین ہزار سے بڑھا کر سات ہزار کی جا رہی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے استغاثہ نے قتل کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرانس میں اعلیٰ سطح پر ملک گیر سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران سکیورٹی بڑھانے کا یہ سب سے بڑا الرٹ ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں پیرس کے قریب ایک استاد کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھانے پر قتل کیا گیا تھا۔ سر قلم کرنے کے اس واقعے کے بعد فرانس میں تناؤ بڑھ گیا ہے اور فرانسیسی حکومت نے انتہا پسند اسلامی عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ترکی اور دیگر مسلم ممالک نے یہاں مسلمانوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
حملہ آور سے کیا برآمد ہوا؟
نیس کے میئر نے بتایا تھا کہ جب جائے وقوعہ سے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تو وہ لگاتار اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔
اس کے بعد پولیس کی جانب سے ان پر گولی چلائی گئی اور انھیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
فرانس میں انسداد دہشتگردی کے استغاثہ کے مطابق حملہ آور سے ایک قرآن، دو ٹیلی فون اور ایک 12 انچ کا چاقو برآمد ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں حملہ آور کا ایک بیگ بھی ملا ہے۔ اس بیگ میں دو چاقو تھے تاہم ان چاقوؤں کو حملے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔‘
پولیس کے ذرائع کے مطابق مشتبہ حملہ کا نام براہم ایویساوے ہے اور وہ گولی لگنے کے بعد سے تشویشناک حالت میں ہیں۔
نیس کے ہنگامی دورے کے دوران میکخواں کا کہنا تھا کہ اگر ہم پر دوبارہ حملہ کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ ’آزادی پر ہمارا یقین‘ ہو گی۔ ’ہم اس دہشت کے آگے رکنے والے نہیں ہیں۔۔۔ ہم کسی بھی چیز کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔‘
نیس حملے کے متاثرین کون؟
تینوں ہلاک کیے گئے افراد پر گرجا گھر میں حملہ کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا اور اس وقت عبادت کا وقت ہونے والا تھا۔
گرجا گھر کے اندر ہلاک ہونے والے تین افراد میں سے ایک 60 سالہ خاتون تھیں جن کا سر قلم کیا گیا جبکہ ایک 55 سالہ مرد کا گلا کاٹا گیا۔ ہلاک ہونے والا تیسرا شخص گرجا گھر کے عملے کا حصہ تھا اور یہاں صفائی کے کاموں پر تعینات تھا۔ اطلاعات کے مطابق اُن کی بیوی اور دو بچے تھے۔
44 سالہ ایک خاتون چاقو کے وار کے بعد وقتی طور وہاں سے بھاگ کر ایک قریبی کیفے جا کر چھپ گئی تھیں۔ لیکن انھوں نے بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا تھا۔
ایک عینی شاہد نے شہر میں خاص حفاظتی نظام کے تحت خطرے کی گھنٹی بجا کر سب کو اطلاع دی۔
گرجا گھر کے قریب رہنے والی ایک گواہ کلوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے گلی میں بہت لوگوں کو چیختے سنا۔ ہم نے کھڑکی سے دیکھا کہ بہت سے پولیس والے آ رہے ہیں اور گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘
چار سال قبل 14 جولائی 2016 کو نیس ہی میں ایک 31 سالہ شخص نے اپنا ٹرک ایک عوامی ہجوم پر چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں 86 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ کو فرانس کی حالیہ تاریخ کا بڑا دہشت گردی کا واقعہ گردانا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں کئی ملکوں میں اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ یورپی ممالک کے علاوہ ان میں امریکہ، ترکی، مصر، قطر اور لبنان شامل ہیں۔