آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ہم طلبہ میرے والد کی رہائی کے لیے مسلح جنگجوؤں سے مذاکرات کر رہے تھے’
- مصنف, لوسی والیس
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
جب کولمبیا میں مائلر ہارگرو کے والد ٹام کو مسلح جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ انھوں نے اپنے والد کو گھر واپس لانے کے لیے اغوا کاروں سے مذاکرات کے لیے اپنے 22 سالہ دوست کو اعتماد میں لیا۔ کیا یہ معصوم طلبا کامیاب ہو سکتے تھے۔
ٹرن ٹرن۔۔۔۔
مائلز ہارگرو کی جانب موجود ٹیلی فون آنسرنگ مشین کی لائٹ چمک رہی تھی۔
مائلز آپ کی والد بول رہی ہوں، ہمیں چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے اور آپ کو انکل ریفرڈ کو کال کرنا ہو گا۔‘
یہ نو پیغامات میں سے پہلا پیغام تھا۔ واضح تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے۔
مائلز کہتے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ واقعی کوئی سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ یہ پیغامات میرے انکل کی جانب سے تھے جو کہہ رہے تھے کہ مائلز کوئی مسئلہ ہے مجھے فون کرو۔ اور جب انھوں نے ایسا کہا تو اس وقت میری حالت یہ تھی کہ ’اوہ میرے خدا کیا ہوا ہے۔‘
یہ ستمبر 1994 کی بات ہے جب 21 سالہ مائلز ٹیکساس کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ انھیں بری خبروں سے خوف آتا تھا۔ کسی کی گاڑی کو حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
جو ان کے انکل نے انھیں بتایا کہ آپ کے والد صبح کام پر جا رہے تھے کہ انھیں اغوا کر لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مائلز کے والدین ٹام اور سوسن ہارگرو جنوب مغربی کولیمبیا کے علاقے کیلی میں رہتے تھے۔ ٹام زراعت کے ماہر تھے اور کچھ برس پہلے ہی کام کے سلسلے میں وہ یہاں آئے تھے۔
مائلز اور ان کے بھائی نے وہیں سکول کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن یہ آہستہ آہستہ غیر تسلی بخش جگہ بنتی جا رہی تھی۔
کولمبیا میں انقلابی فوج، فارک اور جنگجو گروپ کی کولمبیا کی حکومت کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھی۔ اور طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو یرغمال بنا کر تاوان لے کر پیسے جمع کر رہے تھے۔
کیلی کے خطے میں یہ بہت زیادہ ہو رہا تھا اور سوسن کو پہلے سے خدشہ تھا کہ کچھ برا ہونے جا رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی ٹام کو نئی نوکری تلاش کرنے کا کہا تھا۔ اور اب ٹام کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
مائلز بتاتے ہیں کہ ان کی گاڑی سڑک کنارے سے ملی تھی جہاں روڈ پر بلاک رکھے ہوئے تھے۔ فارک کی جانب سے ٹام کا شناختی کارڈ اور کچھ پمفلٹ کو گاڑی کی اگلی سیٹ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
جنگجو اسے ’معجزاتی فشنگ‘ آپریشن کہتے ہیں۔ وہ کرتے یہ ہیں کہ سڑک پر بلاک رکھ دیتے ہیں اور کسی کی گاڑی کے کریش کا انتظار کرتے ہیں۔ کچھ بھی جس کی مدد سے انھیں اپنے کام کے لیے کچھ روپے مل جائیں۔ لیکن جب امریکی اچانک وہاں گئے تو بڑی رقم کا امکان تھا۔
عینی شاہدین کہتے ہیں کہ وہ ٹام کو پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے میں ڈال کر مشرق میں اینڈیس کے پہاڑوں کی جانب لے گئے۔
مائلز اپنی والدہ کے ساتھ کولمبیا چلے گئے۔ ان کا چھوٹا بھائی گیڈی جو کہ مصر میں پڑھ رہا تھا وہ بھی خاندان سے ملنے والا تھا۔ مائلز کہتے ہیں یہ بہت خطرناک تھا ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر دیکھ رہے ہیں اور پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خاندان کون ہے جس کے ساتھ وہ بات چیت کر رہے ہیں۔
’یہ احساس تھا کہ ہماری نگرانی کی جا رہی ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی گھر سے باہر نہیں جانا چاہتا تھا۔‘
مائلز کہتے ہیں کہ ان کی والدہ اس صورتحال میں مضبوط رہیں اور انھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اندر سے خاندان بہت پریشان تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ایڈرنالین جذباتی کیفیت کے وقت جسم میں خارج ہونے والا ہارمون جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور انرجی میں اضافہ ہوتا ہے۔) ان کے جسم میں تیزی سے بہہ رہی تھی۔
خوش قسمتی سے اردگرد ایسے لوگ تھے جو بالکل ایسی صورتحال سے پہلے سے گزر چکے تھے۔
وہ سب اچانک ہی ہمارے پاس آ گئے اور انھوں نے کہا کہ صرف ان کے ساتھ بات چیت کرو کیونکہ آپ انھیں تاوان دینے جا رہے ہیں۔ اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن ان سے تعاون کرو اور اسی طرح تم اسے حل کر سکو گے۔
ان کے خاندان سے کہا گیا وہ کم از کم تین ہفتے تک انتظار کریں یا شاید ایک مہینہ لگ جائے گا اغوا کاروں کی جانب سے جواب آنے میں۔ انھوں نے انتظار کیا اور اس سے کچھ زیادہ ہی کیا۔
اکیسویں دن جواب آگیا ایک ویڈیو ’ان کے زندہ ہونے کا ثبوت۔‘
ایک ویڈیو میں ٹام مسلح فوجیوں میں گھیرے میں موجود ہیں۔ یہ کافی پریشان کن تصویر تھی لیکن مائلز کہتے ہیں انھیں دیکھنا بھی کافی تسلی بخش تھا اور یہ جاننا بھی کہ وہ زندہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’اس میں میرے لیے سب بری چیز یہ تھی کہ میں نے اپنے ماں کو یہ سب دیکھتے ہوئے دیکھا۔ مجھے یاد ہے وہ سکرین پر میرے والد کے چہرے کو چھو رہی تھیں۔‘
اب کی بار اغوا کاروں نے ناممکن مطالبہ کر دیا کہ ٹام کی واپسی کے لیے ان کا خاندان 60 لاکھ ڈالر ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف خاندان یا خاندان کے کسی دوست سے ہی مذاکرات کریں گے۔
مائلز بتاتے ہیں ’سب نے ہم سے کہا کہ ان کی بازیابی کے لیے ریسکیو کارروائی نہیں چاہتے۔ کیونکہ فارک کولمبیا کے بڑے حصے پر قابض تھے۔ وہ تمام بلند مقامات پر موجود تھے اور میرے والد کی رہائی کے لیے فوج بھیجنے کے بعد کسی کارروائی کے دوران ان کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔‘
مذاکرات کار کو ہسپانوی زبان پر عبور ہونا لازمی تھا اور وہ مقامی لہجہ بھی سمجھ سکتا ہو سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پر خاندان مکمل اعتماد کر سکتا ہو۔
ان میں سے کوئی بھی یہ کردار ادا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کسی کو بھی ہسپانوی زبان پر عبور نہیں تھا اس لیے انھوں نے مائلز کے ایک کولمبیئن دوست رابرٹ کلیرکس سے مدد لی۔
مائلز اور رابرٹ، مائلز کے سکول میں پہلے دن ملے تھے تب سے وہ قریبی دوست ہیں۔ مائلز کی طرح رابرٹ بھی طالب علم ہیں وہ صرف 22 برس کے تھے۔
یہ سب کچھ راز میں رکھا جانا تھا۔
رابرٹ کا کہنا تھا ’آپ کو کسی کو علم بھی نہیں ہونے دینا کہ آپ مذاکرات کر رہے ہیں یا آپ کیا پیش کش کر رہے ہیں، یا آپ کو ان کے زندہ ہونے کے ثبوت مل رہے ہیں نہیں سب کچھ ایک کڑے حلقے کے اندر رکھنا تھا۔`
انھیں برطانیہ کے ماہر مذاکرات کی جانب سے بھی مشورے اور ہدایات ملتی رہیں۔ جنھوں نے انھیں بتایا کے یہ پرسکون رہیں اور دھیرے سے بات کریں اور طے شدہ طریقے سے بات کریں۔
رابرٹ نے بتایا ’ہر رابطے سے پہلے ہمارے پاس ایک سکرپٹ ہوتا ہے ہمیں کیا کہنا ہے اور ہم سے کیا پوچھا جا سکتا ہے اور ہمیں اس سکرپٹ سے ہٹنا نہیں تھا۔‘
اغوا کار کوڈز میں بات کرتے، ٹام کو عمارت کہا گیا اور وہ کہتے کہ اس عمارت کے لیے انھیں کتنے بیرل ادا کرنے ہیں۔
پہلے مذاکرات میں ٹام کی ٹیم ایک شارٹ ویو ریڈیو کے گرد جمع ہوئی جسے رابطے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور تب مائلز نے اپنے والد کے اغوا کاروں میں سے ایک کی سرد مہر آواز سنی۔
ان کے خاندان نے ایک پر خطر لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اغوا کاروں کو 41000 ڈالر کی پیش کش کی اور کہا کہ 60 لاکھ ڈالر ان کے لیے ناقابل عمل رقم ہے۔
مائلز کا کہنا تھا ’انھیں ناراض کر دینے کا خطرہ ہمہ وقت موجود تھا، اور مشیروں نے یہی بات مجھے اور رابرٹ کو سمجھائی تھی۔ کیونکہ رابرٹ تھا جو ان کے ساتھ براہ راست بات کر رہا تھا کہ وہ ایسی دھمکیاں دیں گے، وہ بہت خوفناک چیزیں بتائیں گے۔ کیونکہ بالاخر یہ ان کا کاروبار ہے، ٹام ان کے لیے ایک شے سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اگر انھوں نے اسے نقصان پہنچایا یا اسے ہلاک کر دیا تو انھیں پیسے نہیں ملیں گے اور ان کا بہت سے وقت اور وسائل ضائع ہو جائے گا۔‘
ہماری پیش کش سے اغوا کاروں کو طیش آ گیا اور انھوں نے رابرٹ سے کہا کہ ’اتنی رقم سے تو تمھیں اس کی لاش بھی نہیں ملے گی۔‘
لیکن اغوا کاروں سے ہفتے میں تین دن مذاکرات جاری رہے، عموماً شام سات بجے مذاکرات کا دور ہوتا تھا۔
رابرٹ بتاتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میرا امتحان تھا، اور یونیورسٹی کی کمپیوٹر لیب میں کچھ تاخیر تھی تو مجھے اس امتحان کو چھوڑنا پڑا اور میں نے استاد سے کہا میں معافی چاہتا ہوں مجھے جانا ہو گا۔ میں شائد کلاس کا سب سے بدتمیز بچہ محسوس ہوا ہوں گا کیونکہ میں امتحان چھوڑ کر آ گیا تھا، لیکن میں انھیں نہیں بتا سکتا تھا کہ میں ایک اغوا کی واردات میں بازیابی کے لیے مذاکرات کار کا کام کر رہا ہوں۔‘
جیسے جیسے اغوا کاروں سے مذاکرات آگے بڑھے ہارگروو کے ہمسائے میں گرینر خاندان نے انھیں مسلسل حوصلہ دیا اور جہاں تک ممکن ہو سکے معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرنے پر آمادہ کیا۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ان کی ہمسایہ ’کلائڈیا گرینر نے حقیقت میں ان کی اس دوران بہت مدد کی اور ان کے لیے رات کا کھانا بھی تیار کیا، انھوں نے برطانیہ میں وقت گزارہ تھا اور وہ برطانوی ذہنیت کی تعریف کرتی تھی، اور انھوں نے ہم سب کو ایک ساتھ بلا کر، ایک ساتھ بٹھا کر رات کا کھانا کھانے، موم بتیاں جلانے، پھول سجانے، کھانے کی میز لگانے سے لے کر اس سب پریشانی کے درمیان ایک حقیقی اور معمول کی زندگی جینا سکھانے کی کوشش میں بہت متاثر کیا۔ کیونکہ ان کی اس کوشش کے بیچ میں آپ ایک لمحے کے لیے بھول جاتے تھے کہ آپ کس پریشانی سے گزر رہے ہیں۔‘
البتہ اغوا کاروں نے تاوان کی رقم کچھ کم کی تھی، لیکن اب بھی وہ خاندان سے لاکھوں مانگ رہے تھے جو اتنا بڑا تاوان ادا نہیں کر سکتے تھے۔
اس کے بعد ایک تکلیف دہ خاموشی کا دور شروع ہوا اور اغوا کاروں نے ایک ماہ تک ہر قسم کا رابطہ کرنا چھوڑ دیا۔
اس وقت میں مائلز اس اغوا کار کے ’بھیانک‘ آواز دوبارہ سننے کے لیے ترس رہا تھا، اور پھر جب مذاکرات بحال ہوئے تو جنگجو امید کر رہے تھے کہ ٹام کے اہلخانہ تاوان کی رقم کی پشکش بڑھائیں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور اس نے اغواکاروں کو مزید غصہ دلایا۔
انھوں نے ایک مرتبہ دوبارہ رابطہ منقطع کر دیا، اور اس مرتبہ یہ دورانیہ دو ماہ کا تھا۔
سوسان ہارگروو نے اس خاموشی کو توڑنے کی کوشش میں خود کو مصروف کر لیا، انھوں نے پہاڑوں میں خط بھیجے، فارک کے جنگجوؤں کی جانب سے اغوا ہونے والے دیگر افراد سے بات کی، اور اس علاقے کے پادریوں سے بھی بات کی جہاں کے متعلق یہ افواہ تھی کہ ٹام کو وہاں مغوی بنا کر رکھا گیا ہے۔
خاندان نے تاوان کی رقم کی پیشکش بڑھاتے ہوئے اسے دو لاکھ ایک ہزار ڈالرز کرنے کا فیصلہ کیا اور آخر کار جب مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا تو انھوں نے یہ پیشکش اغوا کاروں کو کر دی۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ایک طویل خاموشی تھی۔‘
رابرٹ کہتے ہیں کہ ’مجھے وہ خاموشی یاد ہے، جیسا کہ بولو بھی، بتاؤ ہمیں تمھیں یہ قبول ہے یا نہیں۔‘
اغوا کار اس پیشکش پر رضا مند ہو گئے۔
نو ماہ بعد ٹام کو بازیاب کروایا گیا اور وہ آخرکار اپنے پیاروں کے درمیان اپنے گھر آنے میں کامیاب ہوئے۔ آج تک مائلز نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے رقم کا انتظام کہاں سے کیا تھا، مگر انھوں نے اس کا بندوبست کیا تھا اور اس رقم کو کریٹس میں چھپایا گیا تھا۔
پھر اس رقم کو اغوا کاروں کو پہنچایا گیا تھا۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’ہر کسی نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ اغوا کاروں کو تاوان کی رقم دینے آپ بطور خاندان کے فرد خود نہیں جائیں گے اور رقم بھی ساتھ لے کر نہیں جائیں گے ورنہ وہ آپ کو بھی اغوا کر کے ساتھ لے جائیں گے۔‘
ہم ایک ایف بی آئی کے ایجنٹ کو جانتے تھے جس کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات بن گئے تھے، اور وہ ایک ایسا پیشہ ور آدمی کو جانتا تھا جو اس رقم کو پہاڑوں میں ہماری جگہ اغوا کاروں تک بحفاظت پہنچا دے۔ ہمارے ہمسایوں نے ایک ڈرائیور کو تلاش کیا تھا جو ایک پرانا ٹرک چلا کر اسے وہاں لے جانے کے لیے آمادہ تھا۔
’جن دو افراد کا ہم نے انتخاب کیا تھا وہ ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے اور یہ سب ہمارے منصوبے کا حصہ تھا، تاکہ ان کا پہلے سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ ہمارے پیسے لے کر فرار ہونے کا کوئی منصوبہ نہ بنا سکے۔‘
تاوان کی رقم بحفاظت اغوا کاروں کو پہنچ گئی اور وہ انھوں نے ٹام کی رہائی کا انتظار کیا۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’یہ فلموں کی طرح نہیں تھا کہ آپ ایک ہاتھ سے اغوا کاروں کو پیسے دیں اور دوسرے طرف آپ کے والد کھڑے ہوں۔ یہ ایسا نہیں ہوتا، انھوں نے ہم سے رقم لی اور ہمیں کچھ واضح طور پر نہیں بتایا کہ وہ (میرے والد) گھر کب واپس آئیں گے۔ لیکن ہمیں جو دیگر ایسے افراد سے بات کر کے علم ہوا تھا جو اس عمل سے گزرے تھے، ہمارا خیال تھا کہ وہ تین دن سے ایک ہفتے کے درمیان واپس آ جائیں گے۔‘
تین دن گزر گئے لیکن ٹام کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، پھر ایک ہفتہ گزر گیا اور ٹام کی کوئی خبر نہیں تھی۔ وقت گزرتا گیا، کئی ہفتے بیت گئے اور سب کو یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید اس سب سے بعد بھی ٹام گھر واپس نہیں آئے گا۔
پھر انھیں اغوا کاروں کی جانب سے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی اور انھیں فوری طور پر ٹی وی سیٹ آن کرنے کا کہا گیا۔
ٹی وی پر ایک خبر آ رہی تھی جس میں دو امریکی سفیروں کی لاشوں کو دکھایا جا رہا تھا جنھیں ڈیڑھ برس سے فارک کے جنگجوؤں نے مغوی بنا رکھا تھا۔ فوج نے انھیں بازیاب کروانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے اغوا کاروں نے انھیں قتل کر دیا تھا اور اپنے کیمپ سے فرار ہو گئے تھے۔
مائلز کہتے ہیں کہ ’میں اس خبر کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ خبر میری زندگی کی سب سے زیادہ خوفناک چیزوں میں سے ایک تھی، کیونکہ اس خبر کی فوٹیج بہت دلخراش تھی لیکن اس کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ ہم ان مقتولین کے خاندانوں کو جانتے تھے، ہمیں ان کے اغوا ہونے کی متعلق جانتے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی جگہ ہمارے والد بھی ہو سکتے تھے اور اب ان کا تاوان ادا کیے بھی ہمیں ایک ماہ کا وقت گزر چکا تھا۔‘
اس خبر کی ویڈیو نے ہانگریو خاندان کو بے چین کر دیا تھا اور مائلز کی والدہ نے تمام نصیحتوں کے باوجود ایک خطرناک منصوبہ بنایا تھا وہ تھا کہ اپنی کہانی کو منظر عام پر لایا جائے۔
مائلز کہتے ہیں کہ ’یہ کرنا بہت خطرناک تھا، میرا مطلب ہے اس دور میں سب سے پہلا اصول یہ تھا کہ آپ اس قسم کے اغوا کے واقعات کے متعلق بات نہ کریں، کیونکہ اس سے مغویوں کے تاوان میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ لیکن انھوں نے سوچا کہ اگر وہ اس طرح سے گوریلا جنگجوؤں پر کچھ عوامی دباؤ ڈال سکیں گی۔ بنیادی طور پر ہم اس بازی میں آخری حد تک آ چکے تھے، تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے، اس طرح سے ان پر کچھ کرنے کے لیے دباؤ پڑے گا۔‘
دو دن بعد اغوا کاروں نے ہم سے رابطہ کیا، انھوں نے ٹام کو چھوڑنے کے لیے مزید ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرز کا مطالبہ کیا۔ ممکن ہے کہ انھوں نے یہ سوچا ہوں کہ ٹام کی گھروالے اب تک اتنے خوفزدہ ہو چکے ہوں گے کہ وہ مزید رقم دینے کو تیار ہوں گے۔
مائلز نے کہا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم نے ان سے ٹام کے زندہ ہونے کے شواہد مانگے اور انھیں اس حوالے سے جو شواہد دیے گئے وہ زیادہ متاثر کن نہیں تھے۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’ اس بارے میں کوئی شواہد نہیں تھے کہ ٹام اصل میں اس وقت تک زندہ ہیں جس وقت ان کے زندہ ہونے کے بارے میں کہا جا رہا تھا، ان کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کسی بھی تاریخ کو لکھوایا جا سکتا تھا، اور ہمیں مشورہ دیا گیا کہ اس کو قبول نہ کیا جائے۔‘
مگر کولمبیا کی صورتحال نے انھیں جلد فیصلہ لینے پر مجبور کیا۔ شہر میں فوج نے منشیات کے کارٹل کے ایک رکن گلبرٹو رودگریز کو گرفتار کر لیا تھا اور شہر میں افرا تفری کا عالم تھا۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’ہم کالی کے ایک اچھے علاقے میں رہتے تھے، اور وہی منشیات کے سرغنہ بھی رہتے تھے لہذا ہم نے اس کی گرفتاری کے دوران قریبی علاقوں میں رکاوٹیں لگتی اور ہیلی کاپڑوں کو اترتے دیکھا تھا۔‘
اس وقت یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگی کہ فوج اب فارک پر کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ٹام کے خاندان والے یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ دو طرفہ فائرنگ میں مارے جائیں۔ لہذا انھوں نے رسک لیا اور اغوا کاروں کو مزید ایک لاکھ دس ہزار ڈالرز کی رقم 13 اگست 1995 کو ادا کر دی۔
تاوان کی رقم پادری کو دی گئی اور اس مرتبہ بھی اسی ڈرائیور کی خدمات لی گئیں جو پہلی مرتبہ رقم پہنچانے گیا تھا۔ جب رقم دے دی گئی تو فارک کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ رقم دینے والوں کو یہ بتائیں گے کہ ٹام کو کہاں سے بازیاب کروایا جا سکتا ہے اور وہ یہ ساری گفتگو قریبی ہی کھڑی انٹرنیشل ریڈ کراس کی ایک چرائی ہوئی ایمبولینس میں سے ریڈیو واکی ٹاکی کے ذریعے کریں گے۔
مائلز کہتے ہیں کہ ’یہاں چیزیں خراب ہو گئی تھیں کیونکہ گوریلا اغوا کاروں نے تاوان کی رقم ملتے ساتھ ہی میرے والد کو رہا کرنے کا کہا تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ جو ایک بات انھوں نے ہمیں بتائی وہ یہ تھی کہ وہ چند دنوں میں شہر میں واپس آ جائیں گے اور یہ ہی ہماری آخری امید تھی۔‘
ریڈ کراس کی ٹیم شہر میں گئی اور تمام دن ٹام کا انتظار کرتی رہی لیکن ٹام کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ صورتحال اب مایوس کن لگ رہی تھی۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ وقت تھا جب ہم تقریباً اپنی تمام امیدیں کھو بیٹھے تھے، کیونکہ اب ہمارے لیے آگے کا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ ہم مشکل وقت سے گزر رہے تھے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کرتے کہ اب آگے کیا ہو گا۔‘
نوجوان مذاکرات کار روبرٹ کا کہنا ہے کہ وہ بہت بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ ’میں ناکام ہو چکا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
لیکن نو دن بعد 22 اگست 1995 کو مائلز، گیدی اور روبرٹ باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاری کرنا شروع کرنے والے تھے کہ انھیں باہر سے شور سنائی دیا۔
مائلز کہتے ہیں کہ ’ہم فوری طور پر باورچی خانے سے باہر آئے اور مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں، وہاں لمبے بالوں میں میرے والد کھڑے تھے۔ ان کی لمبی داڑھی تھی اور انھوں نے پونچو اوڑھ رکھا تھا، یہ میرے زندگی کا سب سے حیران کن تجربہ تھا، میں فوری طور پر ان کی جانب لپکا اور انھیں سینے سے لگا لیا۔ ‘
جب ٹام گھر آئے اس وقت مائلز کی والدہ سوسان اپنے بیڈ روم میں تھیں جہاں وہ ٹام کے بھائی سے ٹیلیفون پر بات کر رہی تھی کہ اب ممکنہ طور پر آگے کیا ہو سکتا ہے۔
مائلز بتاتے ہیں ’میری والدہ نے انھیں دیکھ کر چیخنا شروع کر دیا اور ان کے ہاتھ سے ٹیلیفون گر گیا، لائن کی دوسری طرف میری والدہ کی چیخ و پکار سن کر میرے چچا یہ سمجھے کہ گوریلا خاندان کے دیگر افراد کو اغوا کرنے آ گئے ہیں یا میرے والد کی لاش کو گھر بھجوایا گیا ہے۔‘
’میری والدہ وہاں صدمے میں بیٹھی میرے والد کو دیکھ رہی تھیں اور چیخ رہی تھی، میرے والد کو ان کے پاس جا کر گلے لگانا پڑا۔ وہ اس وقت فرط جذبات میں آکر پھٹ پڑی، یہ وہ جذباتی مناظر تھے جو شائد آپ نے کبھی نہ دیکھے ہوں۔‘
مائلز نے یہ تصور کیا کہ ان کے والد کے بال جو پہلے سفید تھے انھیں خزاب لگا کر نارنجی کیا گیا ہے لیکن انھیں بعد میں یہ پتہ چلا کہ ان کی رنگت والد کے جسم میں وٹامن کی کمی کے باعث تبدیل ہوئی تھی۔ ٹام کو دوران حراست بھوکا اور بیڑیوں میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔
انھیں چار ماہ کے عرصے کے دوران کوئی سبزی نہیں دی گئی تھی۔
مائلز کا کہنا تھا کہ ’ گوریلا جنگجوؤں میں زیادہ تر 14، 15 سال کے نوجوان لڑکے شامل تھے جن کے پاس کوئی تعلیم نہیں تھی، میرے والد پی ایچ ڈی تھے اور ایک وقت انھیں احساس ہوا کہ ان کے پاس ان کے پاس موجود تمام دس گارڈز سے زیادہ تعلیم ہے۔‘
ٹام کی رہائی کے دن جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو انھیں کہا گیا ’آج آپ کی رہائی کا دن ہے۔‘
انھیں قریبی دیہات پر سڑک کے کنارے چھوڑا گیا اور وہ وہاں سے راہ گیروں سے لفٹ لیتے ہوئے گھر پہنچے تھے۔
بلآخر اس کا نتیجہ اچھا نکلا تھا لیکن ان کا خاندان صدمے سے گزرا تھا، اور جس طرح سے ان کی رہائی کے مختلف مراحل گزرے خاندان میں رنجیشیں پیدا ہو گئی تھیں۔ مائلز، ان کے بھائی اور والدہ اب ان باتوں کو بھلا دینا چاہتے تھے۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایک مقصد کے تحت ایک ٹیم بنائی تھی اور وہ یہ تھا کہ میرے والد کو رہا کروایا جائے۔ ہم اس میں کامیاب ہوئے، چونکہ ہم یہ کر چکے تھے تو اب ہم سب ختم کرنا چاہتے تھے۔‘
دوسری جانب ٹام اپنے پر گزرے حالات کے بارے میں بات کرنے کے لیے بے چین تھے۔
مائلز کا کہنا ہے کہ ’ان کے لیے اپنی کہانی بتانا بہت ضروری ہو گیا تھا، اور وہ اس کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے۔‘
جب اہلخانہ اپنے دوستوں سے ملتے تھے تو ماحول یکسر بدل جاتا تھا۔
مائلز کہتے ہیں کہ ’ہم عام چیزوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی موضوع بحث میرے والد کے اغوا ہوتا اور میرے والد دربار سجا لیتے۔ اس وقت ہمیشہ سیر حاصل گفتگو اور طویل بحث ہوتی اور کبھی کبھی یہ آپ کو تھکا دیتی اور آپ اکتا جاتے خصوصاً جب آپ کا مزاج خوشگوار اور ہلکا پھلکا ہوتا۔‘
مائلز کا کہنا ہے کہ خاندان کے تلخ تجربوں کو بار بار جینے کا باعث ان کی والد پر ذہنی دباؤ آ جاتا۔
جب مائلز کا خاندان امریکی ریاست ٹیکساس منقتل ہوا تو ان کے والد ٹام مخلتف اداروں میں اپنے اغوا ہونے کے کہانی کو لیکچرر کے صورت میں دیتے، ان اداروں میں سکیورٹی فرمز اور انسداد دہشت گردی کے ادارے بھی شامل تھے۔ لیکن اب ان کی والدہ سوسان بدل چکی تھی۔
’میری والدہ کی پرورش سمندر پار ہوئی تھی، انھیں ایڈونچرز کا شوق تھا، انھیں دنیا گھومنا پسند تھا لیکن اب ان کی زندگی میں پہلی مرتبہ انھیں اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اب وہ گھر سے زیادہ باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھی، میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھی لیکن ان کی ایڈونچر کی خواہش ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔‘
مائلز کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے دوست رابرٹ کے احسان مند رہے گے جنھوں نے ان کے والد کی زندگی بچانے میں کردار ادا کیا۔
مائلز کہتے ہیں ’اس وقت ہم خود کو بہت سمجھدار سمجھتے تھے لیکن جیسے جیسے میری عمر بڑھی میں احساس ہوا کہ اس وقت ہم بچے تھے اور میرے لیے یہ ناقابل یقین ہے کہ ہم رابرٹ پر اس قسم کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ اور میں حیران ہوں اس وقت کمرے میں موجود بڑوں کے نزدیک یہ سب ٹھیک تھا، لیکن شاید ہمارے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔‘
رابرٹ کا کہنا ہے کہ ’اس تجربے نے ان کے زمانہ طالب علمی پر یقیناً نقوش چھوڑے ہیں اور وہ دوبارہ کبھی اتنے بے پرواہ نہیں ہو سکے۔‘
جبکہ دیگر طلبا اپنی زندگی کو پڑھائی اور پارٹی کرنے میں تقسیم کر سکتے ہیں رابرٹ کہتے ہیں کہ انھیں ہمیشہ یاد رہے گا کہ ان کی زندگی کے ایک حصے میں اس سے زیادہ اہم اور بڑا بھی کچھ تھا۔
وہ اب بھی کالی میں اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں اور اسی سکول میں کام کرتے ہیں جہاں سے وہ اور مائلز فارغ تحصیل ہوئے تھے۔
مائلز اب 47 برس کے ہیں اور ٹیکساس میں رہتے ہیں، وہ ایک فلم میکر ہیں۔ والد کے اغوا ہونے کے سیاہ دور کے دوران بھی وہ مسلسل اپنے خاندان کے جذبات اور تجربات کو عکس بند کرتے رہے اور اب انھوں نے اس فوٹیج کو ایک فلم کی شکل دے دی ہے۔
میریکل فشنگ کے نام سے ڈاکومینٹری ان کی والد سوسان اور والد ٹام کے دنیا کے چلے جانے کے بہت بعد آئی ہے۔ ان کی والدہ سنہ 2009 اور والد 2011 میں فوت ہو گئے تھے۔
ان کی اس ڈاکومینٹری کی نمائش رواں برس تریبیکا فلم فسیٹول میں ہونا تھی لیکن کورونا وائرس کی وبا کے باعث یہ فلمی میلا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
تاہم ٹام کو رہائی کے فوری بعد ہی اس تجربے کے بارے میں بات کرنے کی خواہش تھی لیکن مائلز میں یہ خواہش وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہوئی
وہ کہتے ہیں کہ ’ میں اکثر سوچتا تھا کہ میں اس سے اچھے انداز میں نکل آؤں گا لیکن جب میں بیٹھ کر سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ مجھے یہ کہانی بتانے میں 25 برس لگے۔‘
میں نے جتنی بھی کوشش کی میں کبھی والد کے اغوا سے آگے نہیں بڑھ سکا، نہ اس فوٹیج سے جو میرے پاس تھی، میں جانتا تھا کہ یہ بہت خاص ہے، مجھے اس وقت تک سکون نہیں ملا جب تک میں نے اس سب کو ایک ساتھ یکجا نہیں کیا۔
مائلز کی ڈاکومینٹری ’میراکل فشنگ‘ کو جرمنی کے شہر اولڈنبرگ کے فلمی میلے میں بہترین بین الاقوامی فلم کا ایوارڈ ملا ہے۔