لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تنازعے پر مذاکرات متوقع

لبنان اور اسرائیل اپنی سمندری حدود کے دیرینہ تنازعے پر مذاکرات کرنے والے ہیں جس سے باضابطہ طور پر جنگی حالت میں موجود دونوں ممالک کے درمیان جاری دہائیوں پرانا تنازعہ حل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

لبنان کی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے فریم ورک پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہو گا۔

ادھر اسرائیل کے وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ یہ دو طرفہ مذاکرات اکتوبر کے وسط میں شروع ہوں گے۔

امریکہ نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے ’تاریخی معاہدہ‘ کہا ہے جو کہ تقریباً تین سال کی ثالثی کے بعد ہونے جا رہا ہے۔

مشرقی بحیرہِ روم میں لبنان اور اسرائیل کی سمندری حدود ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہیں اور تنازعے کے حل سے یہ سمندر میں موجود گیس کے کنوؤں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے شہریوں کے لیے زیادہ استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے امکانات پیدا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

دونوں ہمسایہ ممالک تکنیکی طور پر سنہ 1948-1949 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے جنگ کی حالت میں رہے ہیں۔

اگرچہ دونوں کے درمیان کوئی طے شدہ سرحد نہیں ہے لیکن دونوں ملک نام نہاد نیلی پٹی کے گرد جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہیں۔

یہ سرحد اقوام متحدہ نے اس وقت کھینچی تھی جب سنہ 2000 میں اسرائیلی فوجیں 22 سال کے قبضے کے بعد مشرقی لبنان سے نکل گئی تھیں۔

یہ خطے کا سب سے زیادہ تناؤ والا محاذ ہے، جہاں اسرائیل کی فوجوں کا سامنا لبنان کی فوج اور شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے پر امن فوجیوں کے ساتھ ہے۔

سنہ 2006 میں حزب اللہ اور اسرائیل کی طویل جنگ ہوئی جس میں 1190 لبنانی اور 163 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

لبنانی پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری ہیں جو کہ شیعہ عمل موومنٹ کے سربراہ ہیں۔ یہ حزب اللہ کی اتحادی تحریک ہے۔ انھوں نے جمعرات کو بیروت میں صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات ہیڈ کوارٹر نوکورہ میں ہوں گے۔

نبیہ بری نے معاہدے کا فریم ورک کو پڑھ کر سنایا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی یہ حتمی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھ کہ امریکہ کی جانب سے بیشتر لبنانی سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کیے جانے سے معاہدہ طے پا گیا تھا۔ ان افراد میں ان کے ایک سینیئر اتحادی وزیر خزانہ علی حسن خلیل بھی شامل تھے اور امریکہ نے ان پر حزب اللہ کو مواد فراہم کرنے اور بدعنوانی کا الزام عائد کیا۔

اسرائیل کے وزیر توانائی یوال سٹینیٹز جو اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں کا کہنا تھا ’براہ راست مذاکرات کا آغاز 10 اکتوبر کو یہودیوں کے تہوار سُکوٹ کے اختتام پر متوقع ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہمارا مقصد ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اقتصادی پانیوں کے تنازعے کا خاتمہ ہو تاکہ قدرتی وسائل کو خطے کے تمام افراد کے فائدے کے لیے استمعال کیا جا سکے۔‘

یہ اعلان اسرائیل اور دو خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں بحالی کے معاہدوں کے چند ہی ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔

اس سے پہلے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اگست کے مہینے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہوئے تھے جس سے وہاں تعمیرات کو کم از کم 4.6 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔

بندرگاہ پر غیر محفوظ انداز میں رکھا گیا 2750 ٹن ایمونیم ٹائٹریٹ آگ کے باعث پھٹ گیا تھا۔

لبنان اس وقت اپنی کرنسی کے زوال کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار ہے اور وہاں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

بیروت دھماکے کے بعد حکومت مستعفی ہو گئی اور مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ نئی حکومت اپنی معاشی امداد پر عائد پابندیاں ختم کروانے کے لیے اصلاحات کرے۔