ڈونلڈ ٹرمپ پر لکھی ہر کتاب پڑھی اور جو سیکھا آپ بھی جانیے

    • مصنف, ٹام پولے
    • عہدہ, بی بی نیوز

شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی پُرانا حامی ان کے بارے میں ایک کتاب لے کر نہیں آتا۔ یہ سب مل کر ٹرمپ کے بارے میں کیا بتانا چاہتے ہیں؟

ٹرمپ کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف سے کسی نے پوچھا کہ کیا ماضی میں ایسا کوئی صدر رہا ہے؟

جواب میں اسے یقین دلایا گیا کہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ہے۔

ایک ریئلٹی سٹار اور کاروباری شخصیت بننے کا سفر کتابوں کے لیے ایک اچھی کہانی ہے۔ یہ بات مصنفوں کو دلچسپ تو لگتی ہی ہے، اور ایسی کتابیں آتی بھی رہتی ہیں۔

گذشتہ ہفتے سینیئر صحافی باب وڈورڈ اور ٹرمپ کے پُرانے وکیل مائیکل کوہن کی کتابیں خاصی شہ سرخیوں میں رہیں۔

صحافیوں، ٹرمپ خاندان کے قریبی اور حامی افراد نے اس میدان میں شاندار کام کیا ہے۔

اس میں ان لوگوں کے بارے میں لکھا ہے جو یا تو ٹرمپ کی انتخابی مہم یا پھر وائٹ ہاؤس میں ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

فہرست کافی طویل ہے

جان بولٹن: ٹرمپ کے سابق سکیورٹی کے مشیر جنھیں یا تو نکال دیا گیا تھا یا پھر انھوں نےاستعفیٰ دے دیا تھا، آپ نے دونوں میں سے جو بھی سنا ہو۔ ٹرمپ کے بقول وہ ’بے وقوف لوگوں میں سے ایک تھے۔‘

جیمز کومی: ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جنھیں ٹرمپ نے نکال دیا تھا۔ ٹرمپ نے انھیں ’سلیز بیگ (گھٹیا)‘ کہہ کر بلایا تھا۔

اینڈریو میکب: کومی کو باہر کا راستہ دکھانے کے کچھ ہی روز بعد ٹرمپ نے ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر میکیب کو نکال دیا تھا۔ ٹرمپ نے انھیں بھی 'میجر سلیزبیگ' بلایا تھا۔

اینتھونی سکاراموچی: سنہ 2017 میں بہت کم عرصے کے لیے وہ ٹرمپ کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر تھے۔ وہ اپنی کتاب میں ٹرمپ کی تعریف کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں وہ ٹرمپ کے ناقد بن گئے تھے۔

شان سپائسر: سکاراموچی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر بنائے جانے کے بعد سپائسر نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنی کتاب میں انھوں نے ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔

سارا سینڈرس : سپائسر کے بعد سارا نے عہدہ سنبھالا اور گذشتہ برس جولائی تک اس عہدے پر رہیں۔ وہ ٹرمپ کی وفادار تھیں اور ٹرمپ انھیں 'جنگجو' کہتے تھے۔

کرس کرسٹی: سنہ 2016 میں سب سے پہلے ٹرمپ کی پیروی کرنے والے گورنر۔ وہ ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم کے سربراہ تھے۔ صحافیوں کے مطابق ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کے کہنے پر انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ ٹرمپ کے انتخابی خطابات کے پیچھے ان کا بڑا ہاتھ تھا۔

اوماروسا مینیگالٹ نیومن: ٹرمپ کے ٹی وی شو ’دا اپرینٹس‘ میں حصہ لینے کے بعد وہ ان کی انتخابی مہم کا حصہ بنیں۔ ٹرمپ انھیں 'سبھی سے دھتکاری ہوئی' کہتے تھے۔

نامعلوم مصنف: جو خود کو ٹرمپ حکومت کے سینیئر اہلکار بتاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ یہ ضرور کہا ہے کہ وہ آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔ حالانکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ان کا نام جانتے ہیں اور ان کے بقول وہ 'دھوکے باز' ہیں۔

کوری لیونڈاوٴسکی: صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ کی انتخابی مہم کے پہلے مینیجر اور ڈپٹی کیمپین مینیجر ڈیوڈ باسی نے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی جس میں کئی مثبت پہلو پیش کیے گئے ہیں۔

کلف سِمس: ایک کنزرویٹیو صحافی جنھوں نے کمیونیکیشن مشیر کے طور پر کام کیا۔ اس کتاب کو جلد بازی یا تعریف میں لکھی جانے والی کتاب کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ نے انھیں ایک 'بکھرا ہوا' اور 'نچلے درجے' کا کارکن کہا تھا۔

تمام کتابوں میں جانبداری نظر آتی ہے۔ زیادہ تر معلومات ذاتی مذاکرات پر مبنی ہیں، اس لیے آپ کے پاس مصنف پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ جاتا۔ ہمدردی دکھانے والوں کو معافی مانگنے والوں کی طرح پیش کیا گیا ہے، اور ناقدین کو بدلا لینے والوں کی طرح۔

لیکن ان تمام باتوں کو جوڑ کر دیکھیں تو کیا نظر آتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

'مجھے وفاداری چاہیے، میں وفاداری کی امید کرتا ہوں

ٹرمپ کے بارے میں مصنفوں کا جو بھی خیال ہو، ایک مرکزی خیال بھی ہے جو بار بار نظر آتا ہے۔

سپائسر لکھتے ہیں 'ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاداری کے سخت اصول ہیں۔ کوئی انھیں دھوکہ دے، اس سے انھیں بہت دکھ پہنچتا ہے۔

لیونڈاوٴسکی اور باسی کے مطابق 'وفاداری ان کے نزدیک بہت اہم ہے۔'

کوہن کی کتاب 'ڈسلایل' اور کومی کی کتاب 'اے ہائیر لائیلٹی' کا بنیادی جز ہے۔ کومی لکھتے ہیں کہ جب وہ ایف بی آئی ڈائریکٹر تھے تب ٹرمپ نے انھیں کہا تھا، 'مجھے وفاداری چاہیے، مجھے وفاداری کی امید ہے۔'

کومی کے مطابق انھوں نے انکار کر دیا اور پھر وہ زیادہ دن اس عہدے پر نہیں رہ سکے۔

ٹرمپ کی دنیا میں ان کے قریب لوگوں کی وفاداری سے طے ہوتا ہے کہ کون ان کے ارد گرد رہے گا اور صدر کس کی بات سنیں گے۔ کبھی کبھی یہ اصول پالیسی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

بولٹن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وینزویلا کے معاملے میں ٹرمپ نے وہاں کے حزب اختلاف کے رہنما ہوان گویڈے کے بارے میں کہا تھا 'میں چاہتا ہوں کہ وہ کہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ بہت وفادار ہیں، اور کسی کے ساتھ نہیں۔'

لیکن ٹرمپ کی دنیا میں وفاداری یکطرفہ عمل ہے۔ سمس اپنی کتاب کے آخری باب میں لکھتے ہیں 'سچ یہی ہے کہ ان کے رشتہ داروں کے علاوہ کوئی بھی کبھی بھی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔'

اپنے ساتھ وفاداری رکھنے کا مطالبہ کرنے کے سبب ہی ٹرمپ کو کئی مصنفوں نے 'ماب باس' یعنی ہجوم کا رہنما کہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کئی برسوں تک وابستہ رہنے والے کومی اور میکیب ایسا کہتے ہیں تو بات درست لگتی ہے۔

نامعلوم مصنف کے مطابق 'ٹرمپ ایک 12 برس کا بچہ ہیں جنھیں ایئر ٹریفک کنٹرول میں بٹھا دیا گیا ہے۔'

کومی کہتے ہیں 'ان کی صدارت جنگل میں پھیلی آگ کی طرح ہے۔'

اوماروسا کی کتاب میں انھیں نسل پرست، شدت پسند اور خواتین مخالف بتایا گیا ہے۔

سپائسر کے مطابق ٹرمپ ایک 'یونیکورن' ہیں۔

کیا صدر کے ساتھ رہنا اچھا تھا؟

ٹرمپ کے ناقدین اور حامیوں کی کتابوں میں ٹرمپ کے بارے میں لکھی گئی باتوں میں بہت کم مماثلت ہے۔ لیکن ایک بات جو عام ہے وہ یہ کہ ٹرمپ ایک طلسماتی شخصیت، تیز طرار اور سیاسی سوجھ کے مالک ہیں۔ ان کے بولنے کا ایک خاص انداز ہے۔ کئی بار ایسا لگتا ہے کہ بڑبولا پن ان کے لیے قدرت کا ایک تحفہ ہے۔

لیونڈاؤسکی اور باسی کے مطابق 'انھیں پتا ہے کہ لوگوں سے کیسے بات کرنی ہے۔'

سپائسر کے مطابق ان کے والد کا کہنا ہے کہ 'کئی امیدوار کہتے ہیں کہ ہم پالیسی اور بہتر معیشت کے لیے لڑیں گے، لیکن ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو نوکریاں واپس دلائیں گے۔'

سمس کہتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی جن خوبیوں کے بارے میں سب سے زیادہ بات کرتے ہیں وہ ان کی 'انرجی' اور 'سٹیمینا' ہیں۔

یہ بات در اصل سچ ہے۔ باقی مصنف بھی یہ بات مانتے ہیں اور شاید اسی لیے ٹرمپ حزب اختلاف کے لوگوں کو ان کی کاہلی کے طعنے دیتے ہیں۔

ان مصنفوں میں سے کوئی بھی نہیں کہتا ہے کہ کمروں کے بند ہونے کے بعد ٹرمپ کے رویے میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔ سمس کہتے ہیں کہ 'ان کا کوئی ذاتی روپ نہیں ہے۔'

لیکن کچھ کہانیوں کے مطابق ان کا ایک دوسرا روپ بھی ہے، جیسے کہ انتخابات کی شب جب ان کی فتح کی خبر آئی تو وہ خاموش ہو گئے تھے۔

کچھ مصنفوں نے ان کے اس روپ کی بات کی ہے جب وہ کسی نزدیکی شخص کی موت پر افسوس کے لیے کسی کو فون کرتے تھے۔ ان کے خاندان اور فوج سے لگاؤ کی باتیں بھی واضح ہوئیں۔

سینڈرس بتاتی ہیں کہ ٹرمپ کرسمس کے دوران عراق میں ایک فوجی سے ملے، اس نے انھیں بتایا کہ وہ ان کی وجہ سے دوبارہ فوج میں بھرتی ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا 'اور میں آج یہاں آپ کی وجہ سے ہوں۔'

اوماروسا کے مطابق 'ٹرمپ میں حساسیت باکل نہیں، اس کی وجہ ان کی خود پسندی ہے۔' میکیب انھیں 'سب سے اچھا جھوٹ بولنے والا' بتاتے ہیں۔

بولٹن کی کتاب کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کیونکہ ٹرمپ حکومت پر لکھنے والوں میں ان کی حکومت کے وہ سب سے سینیئر اہلکار ہیں۔ قومی سکیورٹی کے مشیر کے طور پر انھیں کئی اہم معاملوں اپنی بات کہنے کا موقع ملا۔

اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ٹرمپ نے دوبارہ انتخابات جیتنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ سے مدد کرنے کے لیے کہا ہے۔ انھوں نے چین سے کہا ہے کہ وہ اہم امریکی ریاستوں سے کاشت کی پیداوار خریدیں۔

بولٹن اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ 'ٹرمپ ملک کے مفاد اور اپنے ذاتی مفاد کے درمیان فرق نہیں کر پا رہے۔'

کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جب ٹرمپ کسی آمر جیسی حرکتیں کرنے کے قریب آگئے تھے۔

بولٹن کہتے ہیں کہ 'اپنی پسند کے آمروں کو ذاتی فائدہ' پہنچانے کی ان کی عادت ہے اور وہ بہت جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔

شمالی کوریا کے آمر کم جونگ اُن کے لکھے ایک خط کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں 'ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کسی ایسے شخص نے لکھا ہے جسے پتا ہے کہ کس طرح ٹرمپ کی خود اعتمادی بڑھانے والی نبض پکڑنی ہے۔'

سمس کے مطابق 'ٹرمپ کے لیے ذاتی ترجیحات کی زیادہ اہمیت ہے۔ عالمی مسائل پر انھیں لگتا ہے کہ دوسرے ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔' سمس کہتے ہیں کہ ٹرمپ 'غیر معمولی قابلیت اور حیران کن کمزوریوں' والے راہنما ہیں۔

ٹرمپ کا لال بٹن

ٹرمپ پر لکھی ہر کتاب میں ان کے بارے میں کچھ دلچسپ بھی قصے ہیں۔

سینڈرس لکھتی ہیں کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو خود اپنی زبان سے صحت مند رہنے کے نسخے بتائے۔

جب کھانا شروع ہونے والا تھا تو انھوں نے کم جونگ اُن کی طرف سانس کو خوشگوار بنانے والی پودینے کی گولی ٹک ٹیک بڑھائی۔

کم حیران تھے اور شاید تشویش میں بھی کہ ٹرمپ کہیں انھیں زہر دینے کی کوشش تو نہیں کر رہے۔ پھر صدر نے فضا میں سانس چھوڑتے ہوئے انھیں یقین دلایا کہ وہ صرف ٹک ٹیک ہے۔

سمس نے ایک اور بہت دلچسپ قصہ لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ صدر کے اوول آفس میں ایک چھوٹا سا باکس ہے جس پر ایک لال بٹن ہے۔ ٹرمپ اگر کسی کو اسے دیکھتے ہوئے دیکھ لیں تو اسے خود سے دور رکھتے ہوئے کہتے ہیں، 'اس کی فکر مت کرو، کوئی نہیں چاہتا کہ میں یہ بٹن دباؤں۔'

مہمان گھبراہٹ میں ہنس دیتے ہیں اور بات آگے بڑھ جاتی ہے۔ کچھ دیر بعد ٹرمپ اس صندوق کو اپنے نزدیک لاتے ہیں اور گفتگو کے درمیان وہ بٹن دبا دیتے ہیں۔ وہاں موجود لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آتا، وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں۔ کچھ دیر بعد کمرے میں ایک شخص ایک گلاس میں ڈائٹ کوک لے کر داخل ہوتا ہے۔ ٹرمپ زور سے ہنسنے لگتے ہیں۔

فیشن اور ثقافت

زیادہ تر تصاویر میں ٹرمپ ایک لمبی ٹائی پہنے نظر آتے ہیں جو ان کی کمر تک ہوتی ہے۔ کرسٹی کے مطابق ٹرمپ کو لگتا ہے کہ اس سے وہ دبلے لگتے ہیں۔

جہاں تک ان کے عجیب بالوں کی بات ہے، سمس بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی جیب میں ایک ہیئر سپرے رکھتے ہیں۔

اوماروسا کے مطابق صدر کے گھر میں ایک ٹیننگ بیڈ بھی ہے۔

ایک اور کتاب کے مطابق 'گنس اینڈ روزز' انھیں اب تک کا سب سے اچھا میوزک بینڈ لگتا ہے اور وہ شمالی کوریا کے راہنما کو ایلٹن جان کی ’راکیٹ مین‘ سی ڈی بھیجنا چاہتے تھے۔

دستاویزات اور اخباروں کے علاوہ ان کے کتابیں پڑھنے کے بارے میں زیادہ ذکر نہیں ہے۔ سکاراموچی نے 'آل کوائٹ آن دا ویسٹرن فرنٹ' کو ان کی پسندیدہ کتاب بتایا۔

لیوون ڈاوسکی اور باسی کے مطابق سوئس ماہر نفسیات کارل جنگ کی خود نوشت سوانح حیات انھیں بہت پسند ہے۔

ہم نے کام کیوں کیا؟

وہ افراد جو ٹرمپ کے ساتھ کام کرتے تھے، لیکن بعد میں ان کے خلاف ہو گئے، وہ ان کے ساتھ کیوں تھے؟

اوماروسا کہتی ہیں کہ یہ ان کے لیے وفاداری کی بات تھی۔ متعدد ناقدین کے باوجود ایک کم عدم مشابہت والی حکومت میں وہ ایک سیاہ فام خاتون ہوتے ہوئے کام کر رہی تھیں۔

کچھ لوگوں کے لیے وفادار ریپبلکن پارٹی اور ایجنڈا کے لیے ہے، صرف صدر کے لیے نہیں۔ سارا لکھتی ہیں کہ 'فیصلہ ٹرمپ اور ہیلری کے درمیان انتخاب کے بارے میں تھا، یا تو ملک بچائیں یا جہنم میں جانیں دیں۔'

بولٹن کہتے ہیں کہ انھیں خطرے کے بارے میں پتا تھا، لیکن انھیں لگا کہ وہ سنبھال لیں گے۔

غلطیاں ہوئیں (لیکن ہم سے نہیں)

ٹرمپ کے سٹاف ممبران کی لکھی کتابوں میں دوسرے سٹاف ممبران پر مختلف قسم کے حملے کیے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ غلط لوگ غلط نوکریوں پر تھے اس لیے غلطیاں ہوئیں۔

بولٹن جب وائٹ ہاؤس میں پہنچے تب جان کیلی نے ان سے کہا تھا کہ 'کام کرنے کے لیے یہ ایک خراب جگہ ہے۔ آپ کو جلد ہی پتا چل جائے گا۔'

اس پر سپائسر اور سینڈرس میڈیا کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کو مین سٹریم میڈیا کی جانب سے کبھی ان کے اچھے کاموں کے لیے تعریف نہیں حاصل ہوئی۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کے کئی اہلکار کھل کر سامنے نہیں آئے۔ بولٹن نے کئی بار استعفیٰ دینے کے بارے میں سوچا۔ لیکن وہ تب تک نہیں گئے جب تک طالبان کے ساتھ بات نہیں بگڑی۔

کومی اور میکیب کہتے ہیں کہ انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ ٹرمپ کے سامنے کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔

یہ کتابیں اس برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں بہت کچھ نہیں بتاتی ہیں۔ ان میں سے کئی استعفیٰ دینے کی داستان سے شروع ہوتی ہیں۔

اس لیے یہ کہنا کہ وائٹ ہاؤس کے بارے میں یہ کتابیں کچھ بتاتی ہیں، صحیح نہیں ہوگا۔ لیکن وہاں کے بارے میں کچھ اشارے ضرور کرتی ہیں۔

ٹرمپ اپنی فتح کو دہرانا چاہتے ہیں اور لیونڈاؤسکی اور بوسی کی کتاب 'لیٹ ٹرمپ بی ٹرمپ' بتاتی ہے کہ ٹرمپ بدلنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ اور ماضی کی کامیابیوں کو دیکھیں تو شاید انھیں بدلنا بھی نہیں چاہیے۔