آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدے پر دستخط کے لیے ابوظہبی کے ولی عہد کے بجائے وزیرِ خارجہ کو امریکہ بھیجنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا ردِ عمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ 15 ستمبر کو امریکہ میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدرے پر دستخط کریں گے۔
تیرہ اگست کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس تاریخی معاہدے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ باہمی تعلقات کو معمول پر لانے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔
ادھر اسرائیل نے یہ مانا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مجوزہ امن منصوبے ’ویژن فار پیس‘ میں متعین کردہ علاقوں پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرنا بھی روک دے گا۔
خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان دونوں ممالک کی وفود کی سربراہی کریں گے۔
بنیامن نتن یاہو نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر اگلے ہفتے واشنگٹن جانے پر فخر ہے جہاں میں وائٹ ہاؤس پر ایک ایسی تاریخی تقریب میں حصہ لوں گا جہاں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد رکھی جائے گی۔‘
اس سے قبل ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر حکام کہہ چکے ہیں کہ وہ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کریں۔
اس خبر کو جہاں امریکہ سمیت دنیا بھر میں کئی تبصرہ نگاروں کی جانب سے امن کی جانب ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہیں اس حوالے سے بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ابوظہبی کے ولی عہد اور حقیقی طور پر امارات میں حکمرانی کرنے والے شیخ محمد بن زاید بذاتِ خود اماراتی وفد کی سربراہی کرنے کی بجائے اپنے وزیرِ خارجہ کو کیوں بھیج رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ گذشتہ ہفتے ہی کوسوو اور سربیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے میں ثالث کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر تجزیہ نگاروں نے اس خبر کو صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔
دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے صحافی بین شپیرو نے سابق امریکی صدر باراک اوباما پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے دور میں ہم پوری دنیا میں کشیدگی کا حصہ بن گئے تھے جیسے یوکرین، لیبیا اور شام وغیرہ۔ صدر ٹرمپ کے دور میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا امن معاہدہ ہوا اور کوسوو اور سربیا کے مابین تعلقات معمول پر آ گئے۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر کی سربراہی میں اعلیٰ حکام کا وفد اسرائیل حکام کے ہمراہ اسرائیل سے متحدہ عرب امارات پہنچنے والی پہلی پرواز کے ساتھ پہنچے تھے۔
ایران اور ترکی نے اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے اور اسے فلسطینی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ایک صارف نے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کے بجائے وزیرِ خارجہ کو امریکہ بھیجنے کے فیصلے پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ’شیخ محمد بن زاید بنیامن نتن یاہو کے ساتھ تصویر بنوانے سے ڈرتے ہیں؟‘
امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے وابسطہ لارا انگراہم کہتی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ہم نے متعدد امن معاہدے دیکھ لیے ہیں۔ سفارتکاری کو جنگ پر ترجیح دی گئی ہے۔ مجھے یاد ہے وہ وقت جب ڈیموکریٹس اس بات پر یقین رکھتے تھے۔
ہند العتیبہ نے لکھا کہ اگلے ہفتے ہونے والی تقریب اور معاہدے پر دستخط ہونے سے دونوں ممالک اور خطے کی تاریخ کا ایک بڑا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔
او آر ایف آن لائن کے فیلو اور مشرقِ وسطیٰ کے خارجہ امور پر گہری نظر رکھنے والے کبیر تنیجا نے لکھا کہ اب اس معاہدے پر باضابطہ طور پر دونوں ممالک کے سربراہان دستخط نہیں کریں گے بلکہ امارات کی طرف سے ان کے وزیرِ خارجہ یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔
’یہ معاہدہ ابھی سے اتنا پرکشش نظر نہیں آ رہا جتنا دکھایا جا رہا تھا۔‘
ایک صارف نے اس معاہدے سے متعلق اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دراصل فلسطین سے بے وفائی کر رہے ہیں، اور کچھ بھی نہیں۔