برمنگھم چاقو حملے، ایک شخص ہلاک سات زخمی

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہفتے کی رات کو چاقو سے حملے کر کے ایک شخص کو ہلاک اور سات افراد کو زخمی کرنے والے چاقو بردار کی تلاش کی جا رہی ہے۔

برمنگھم میں ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ حملے نصب شب کو شہر کے علاقے کانسٹی ٹیوشن ہل میں پیش آئے اور چاقو بردار اس کے بعد شہر کے جنوبی حصہ کی طرف فرار ہو گیا۔

برطانیہ کے ویسٹ مڈ لینڈ پولیس نے کہا ہے کہ چاقو کے یہ حملے بظاہر دہشت گردی کے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں اور جھگڑے سے لگتا ہے۔

قبل ازین برطانیہ کے شہر برمنگھم کے مرکز میں اسےحملے کو پولیس نے بہت ’بڑا واقعہ‘ قرار دیا تھا۔

ویسٹ مڈ لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اتوار کے روز، مقامی وقت کے مطابق 00:30 بجے چاقو سے حملے کی اطلاعات ملیں۔ جس کے کچھ ہی دیر بعد علاقے میں چاقو سے حملے کی مزید اطلاعات ملیں اور پولیس کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

’ایک بڑا واقعہ‘ کسی بھی ایسی صورتحال کو بیان کرتا ہے، جس میں عوام کو شدید نقصان یا سکیورٹی خطرہ لاحق ہو۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تمام ایمرجنسی سروسز کے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے خصوصی انتظامات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عینی شاہد کیرا جو واقعے کے وقت اس علاقے میں ایک کلب میں کام کر رہی تھیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے یہ سب سے مصروف شام تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے 00:30 پر اپنی شفٹ مکمل کی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ شراب پی رہی تھیں جب انھوں نے شور شرابہ سنا۔

انھوں نے مزید کہا: ’میں نے متعدد لوگوں کو لڑتے اور گھونسے مارتے دیکھا۔۔۔ کلبز اور شراب خانوں میں موجود لوگ، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا ہو رہا ہے، باہر نکل آئے۔

’وہاں عورتیں تھیں، مرد تھے، بوڑھے لوگ تھے، جوان لوگ تھے، ہر طرح کے لوگ تھے کہ اس وقت یہ سب کچھ حقیقی نہیں لگ رہا تھا۔‘

’کلب میں دو برس سے کام کرتے ہوئے میں نے بہت سے جھگڑے دیکھے ہیں لیکن آج رات جو دیکھا وہ پہلے نہیں ہوا۔ باڈی لینگویج اور ظاہری انداز کافی مختلف تھا۔‘

پولیس نے کہا: ’ہمیں علم ہے کہ متعدد افراد زخمی ہیں لیکن اس وقت ہم یہ تعداد بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز مل کر کام کر رہی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد ملے۔‘

’پرسکون لیکن چوکس رھیے‘

ویسٹ مڈلینڈ پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے: ’یہ جاننے کے لیے کہ کیا ہوا ہے، کام ابھی بھی جاری ہے اور اس میں ابھی کچھ وقت اور لگے گا جس کے بعد ہی ہم کسی چیز کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‘

’اس ابتدائی مرحلے میں واقعے کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔‘

’ایمرجنسی سروسز نے بڑے واقعات سے نمٹنے کے منصوبوں کی مشق اچھی طرح سے کی ہے۔ ہمارا ردعمل برمنگھم شہر کے مرکز میں جاری ہے اور کچھ وقت کے لیے جاری رہے گا۔ علاقے کو گھیرے میں لیے لیا گیا ہے اور کچھ جگہ سے سڑک بند ہے۔‘

لوگوں کو پرسکون لیکن چوکس رہنے کے علاوہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔