بیلاروس میں احتجاج: ‘یورپ کے آخری ڈکٹیٹر‘ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کون ہیں؟

الیگزینڈر لوکاشینکو، جنھیں اکثر یورپ کا آخری ڈکٹیٹر بھی کہا جاتا ہے، گذشتہ 26 سالوں سے بیلاروس پر سخت گرفت رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن آج کل انھیں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے اور حالیہ انتخابی نتائج کے تنازع کے بعد ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم بیلاروس کے صدر نے ملک میں متنازع انتخابات کے باعث دس روز سے جاری احتجاج اور مظاہروں کے بعد اقتدار پر اپنا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ملک میں ہونے والے انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق انھیں 80 فیصد ووٹ ملے ہیں لیکن حزب اختلاف نے انتخابات کو جعلی قرار دیا ہے۔ صدر لوکاشینکو کا کہنا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت منسک میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ جبکہ اس اقدام پر یورپی یونین کے رہنماؤں نے ورچوئل سمٹ میں خطے میں عدم استحکام کی جانب قدم قرار دیتے ہوئے ملک پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل نے یہ واضح کیا ہے کہ یورپی یونین ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتی اور انھوں نے صدر لوکاشینکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قید کیے جانے والے سینکڑوں مظاہرین کو رہا کریں۔

ٹٹ بائے نیوز نیٹ ورک نے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کے روز صدر لوکاشینکو نے ایک کابینہ کی منظوری دی ہے جس میں سابقہ حکومت کے بہت سے اہم اراکین کو دوبارہ تعینات کرنے سمیت رومن گولوچینکو بطور وزیر اعظم اپنی ذمہ داری جاری رکھیں گے۔

تاہم اس مجوزہ حکومت کی منظوری پارلیمنٹ سے مشروط ہے۔

الیگزینڈر لوکاشینکو سنہ 1994 میں ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ 26 برس قبل ہونے والے وہ واحد انتخابات تھے جنھیں بین الاقوامی مبصرین نے آزادانہ اور منصفانہ کہا تھا۔

رواں برس 9 اگست کو ہونے والے انتخابات سمیت اب تک صدر لوکاشینکو پانچ بار صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے مطابق حالیہ انتخابات میں انھیں 80 فیصد ووٹ ملے تھے۔ مگر اب ہزاروں افراد بیلاروس کی سڑکوں پر نکل آئے ہیں جہاں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

تو الیگزینڈر لوکاشینکو کون ہیں اور اتنے برسوں سے انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت کیسے قائم رکھی ہے؟

کھیتوں سے اقتدار کے ایوان تک کا سفر

اقتدار میں لوکاشینکو کے عروج کا آغاز 1990 میں بیلاروس کی پارلیمنٹ کے منتخب ہونے کے بعد ہوا تھا، جہاں انھوں نے ملک میں انسداد بدعنوانی کی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

لوکاشینکو کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، مشرقی بیلاروس کے ایک غریب گاؤں میں ان کی والدہ نے اکیلے ان کی پرورش کی۔

لوکاشینکو نے 1975 میں استاد کی حیثیت سے گریجویشن مکمل کی اور سیاسی انسٹرکٹر کی حیثیت سے دو سال تک فوجی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد 1979 میں انھوں نے سوویت کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

ڈسٹنٹ لرننگ کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے اور زرعی اور صنعتی معاشیات میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد، وہ 1985 میں ایک مشترکہ فارم کے چیئرمین اور بالآخر 1987 میں ملک سے وسطی مشرق کے مہیلیو علاقے میں واقع ایک ریاستی فارم کے ڈائریکٹر بن گئے۔

واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے ماہر اینڈرس اسلنڈ کے مطابق، سنہ 1994 کے انتخابات میں انھیں ایک ایسا مقبول امیدوار سمجھا جاتا تھا جن کا اینٹی کرپشن مہم کے علاوہ کوئی واضح ایجنڈا نہیں تھا۔

لیکن ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد لوکاشینکو نے اپنے ان کمیونسٹ حریف کی بہت سی پالیسیاں اپنائیں، جنھیں انھوں نے 14 فیصد کے مقابلے 80 فیصد ووٹوں سے شکست دی تھی۔

سنہ 1991 میں انھوں نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد والی پالیسیوں کی مخالفت کی اور معیشت کو وسیع تر ریاستی کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ساتھ میڈیا اور اپنے سیاسی مخالفین کی نگرانی سخت کر دی۔

’آمرانہ طرزِ حکومت

صدر لوکاشینکو کے طرزِ حکمرانی کو سوویت دور کی یاد دلانے والا آمرانہ دور کہا جاتا ہے۔ ان پر ملک کے مرکزی میڈیا چینلز کو کنٹرول کرنے، سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور جیل بھیجنے اور آزادیِ اظہار کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

2003 میں انھوں نے کہا تھا ’آمرانہ طرز حکمرانی میری خصوصیت ہے اور میں نے ہمیشہ اسے تسلیم کیا ہے۔ آپ کو ملک پر اپنا کنٹرول رکھنے کی ضرورت ہے، اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں کو برباد ہونے سے بچانا ہے۔‘

طاقتور خفیہ پولیس، جسے آج بھی کے جی بی کہا جاتا ہے، اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کی قریبی نگرانی کرتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جیلوں میں ہیں یا جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ مذاق میں بھی صدر کی توہین کرنے پر جیل کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

بیلاروس یورپ اور سابق سوویت یونین کا وہ واحد ملک ہے جہاں اب بھی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اور یہ عمل انتہائی خفیہ انداز میں انجام دیا جاتا ہے۔

ایسے افراد جنھیں سر پر گولیوں مار کر کے موت کی سزا دی گئی، ان کی صحیح تعداد کے بارے میں معلومات میسر نہیں ہیں۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ 1999 کے بعد سے 300 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

کووڈ 19 سے بچنے کے لیے ووڈکا پینے کا مشورہ

صدر لوکاشینکو مغرب میں آنے والی تبدیلیوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے ہیں۔

ان کے ملک کو 2011 میں انتہائی افراط زر کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 2020 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے معیشت میں چھ فیصد گرواٹ کی پیش گوئی کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیلاروس میں بے روزگاری کا کوئی وجود نہیں اور روس، بیلاروس کی برآمدات کا سب سے اہم خریدار ثابت ہوا ہے۔

مئی کے آخر میں جب زیادہ تر مغربی ممالک کو کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ بیلاروس بہتر پوزیشن میں ہے اور انھوں نے ملک میں لاک ڈاؤن نہ کرکے ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا ’آپ دیکھ رہے ہیں کہ متمول مغرب میں بے روزگاری قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ لوگ بھوک سے برتن بجا رہے ہیں، انھیں کھانا چاہیے۔ خدا کا شکر ہے ہم نے اس سے گریز کیا۔ ہم نے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔‘

لیکن وبائی مرض کسی حد تک لوکاشینکو کے لیے شرمندگی کا باعث بنا جنھوں نے شروعات میں کووڈ 19 کو ’دماغی عارضہ‘ کہتے ہوئے اہمیت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے لوگوں کو وائرس سے بچنے کے لیے ووڈکا پینے اور سوانا کا مشورہ دیا تھا۔

جولائی میں وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ علامات ظاہر کیے بغیر ہی صحتیاب ہو گئے تھے۔

سوویت دور سے عشق

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی طرح، لوکاشینکو کو بھی سوویت یونین کی یادیں ستاتی ہیں۔ اور دونوں آئس ہاکی کے شوقین کھلاڑی ہیں۔

لیکن لوکاشینکو نے نازک جغرافیائی صورتحال میں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے یورپی یونین، جسے وہ ’دنیا کے کئی ممالک کا ستون‘ پکارتے ہیں، اور ’بھائی‘ روس کے مابین انتخاب کرنے سے بچنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے 2017 میں کہا تھا ’آپ اپنے بھائیوں کا انتخاب خود نہیں کرتے۔ لہذا ہم سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ ہم روس کے ساتھ ہیں یا یورپی یونین کے ساتھ۔‘

دسمبر 2018 میں انھوں نے ماسکو میں صدر پوتن سے ملاقات کی اور اس موقع پر نئے سال کے تحفے کے طور پر چار تھیلے آلو اور سالو (چربی سے پاک خنزیز کے گوشت کے ٹکڑے) دیے تھے۔

بیلاروس کے صدر کے پریس سیکریٹری کے مطابق، آلو مختلف اقسام کے تھے جنھیں مختلف پکوانوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بیلاروس سے آنے والے یہ تحفے پوتن کا انتخاب تھے۔

’مردانہ بات‘

لوکاشینکو نے جارجیا اور ہمسایہ یوکرین میں پرانی طرز حکومتوں کا خاتمہ کرنے والے مظاہروں کی طرح اپنے ملک میں انقلاب کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیلاروس کا معاشرہ ’کسی عورت کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ آئین صدر کو مضبوط اختیار دیتا ہے۔‘ اب ان کی تمام سیاسی حریف خواتین ہیں۔

چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوکاشینکو کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن کئی دیگر تجزیہ گاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پچھلے انتخابات کے بعد بھی دباؤ کا سامنا کیا تھا اور وہ اس سے بچ نکلے تھے۔

17 اگست کو دارالحکومت منسک میں ایک فیکٹری کے مزدوروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب مزدورں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ تنگ آ کر صدر وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ جتنا دل چاہے ’گو، گو‘ کے نعرے لگائیں اور مزدوروں نے ایسا ہی کیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کے مطابق اسی دن ایک کار فیکٹری میں تقریر کرتے ہوئے صدر نے مظاہرین کو متنبہ کیا کہ وہ ’ریڈ لائن کے قریب آرہے ہیں اور اسے عبور کرنے کی صورت میں آپ کو سخت انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر آپ سڑکوں پر نکل آئے تو ہم آپ سے نمٹ لیں گے۔‘

’اگر آپ چیزوں کو توڑنا شروع کردیتے ہیں تو آپ کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ ایک مردانہ بات ہے۔‘