آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حج 2020: کورونا کی وبا کے دوران محدود حاجیوں کے ساتھ مناسکِ حج کا آغاز
سعودی عرب نے اس سال بیرون ملک سے آنے والے حاجیوں کی مکہ آمد پر مکمل طور پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔
اس سال صرف سعودی عرب میں پہلے سے موجود غیر ملکی حاجیوں کو حج کا فریضہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ہر سال بیس لاکھ سے زیادہ افراد حج کے موقعے پر سعودی عرب کے شہر مکہ میں جمع ہوتے ہیں جس کے بعد وہ مدینہ جاتے ہیں۔
اس سال سعودی حکام نے کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر صرف دس ہزار افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔
سعودی عرب کے دیگر شہروں سے عازمین حج کی مکہ آمد کے موقع پر ان افراد کے جسم کا درجہ حرارت اور ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔
سعودی حکام اس قدر محتاط ہیں کہ انھوں نے عازمین حج کے لیے حج سے پہلے اور حج کے بعد چودہ دن قرنطینہ میں گزارنے کی شرط بھی عائد کر دی ہے۔
تمام عازمین حج کے لیے مناسک حج کی ادائیگی کے دوران منہ پر ماسک پہننے کو بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
حج میں طواف کے دوران تمام حاجیوں کو ایک دوسرے سے کم از کم دو میٹر کے فاصلے پر رہنا ہو گا جس کے لیے صحن کعبہ میں لائن اور نشانات لگا دیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حاجیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ صحن کعبہ میں طواف کرتے ہوئے اپنی اپنی قطاروں میں ہی رہیں۔ نماز کے دوران بھی انھیں باہمی فاصلوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔
۔