امریکی کانگریس کی رکن الگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز: ’گالی دینے والے مردوں کو نکال کر باہر پھینک چکی ہوں’

کچھ مرد حضرات کو لگتا ہے کہ عورت کو دھتکارنا اور اُس کے لیے گندی زبان استعمال کرنا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ایسی زبان استعمال کرنے کے عادی مرد حضرات اکثر خواتین کو نیچا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ اور یہ دنیا کہ پسماندہ ممالک نہیں بلکہ امیر ترین اور مہذب کہلائے جانے والے ممالک میں بھی ہوتا ہے۔

اگر ایسے افراد کے اس طرح کے رویے پر پکڑ آئے تو آپ نے یقیناً ایسے مرد حضرات کو اپنے دفاع میں یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہوگا کہ میری بھی بیٹی ہے، بہن ہے، میری بیوی ہے اور میں ایسا نہیں کرتا۔

اب ذکر ایک خاتون کا جنھیں ایسے ہی واقعے کا سامنا کرنا پڑا مگر اُن کے ساتھ بھی یہ پہلی بار نہیں ہوا اُنھیں تو نیچا دکھانے کی کوشش دنیا کے طاقتور ترین سمجھے جانے والا شخص بھی وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے۔

شاید آپ سمجھ ہی گئے ہوں، یہ ذکر ہے امریکی کانگریس کی رکن الیکزانڈریا اوکاسیو کورٹیز کا جن کے ساتھ کانگریس ہی کے ایک رکن ٹیڈ یوہو نے بدتمیزی کی، انھیں ایسی گندی گالی دی جو ہم یہاں دہرا نہیں سکتے اور نازیبا زبان کا استعمال کیا۔

سوشل میڈیا پر متحرک ’اے او سی‘ کے نام سے پہچانی جانے والی کانگریس کی رکن الگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ٹیڈ یوہو کو ٹھیک ٹھاک جواب دیا اور انھوں نے جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کوڈھال بنانے کی کوشش کی وہ بھی ان کے کام نہ آئی۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے خطاب میں اوکاسیو کورٹیز نے چند روز پہلے پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے کیپیٹل ہل کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں کہ راستے میں ریپریزینٹیٹو یوہو اور اُن کے ساتھ ریپریزینٹیٹو راجر ولیمز اچانک رکے اور ٹیڈ یوہو نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کیا۔

اے او سی نے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریپریزینٹیٹو یوہو نے میرے چہرے کے سامنے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے مجھے غلیظ کہا، مجھے پاگل بلایا مجھے کہا کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے اور مجھے خطرناک کہا۔ پھر وہ کچھ آگے چلے گئے اور مجھے احساس ہوا کہ اُن کے الفاظ بدتمیزی تھی۔ انھوں جاتے ہوئے مجھے کہا کہ میں بدتمیز ہوں۔ اوکاسیو کورٹیز نے مزید یہ بھی بتایا کہ وہ اُن سے آگے چلی گئیں اور جس کام کے لیے آئیں تھیں وہ کیا یعنی اپنا ووٹ ڈالا۔

ووٹ ڈالنے کے بعد واپسی کا ذکر کرتے ہوئے اوکاسیو کورٹیز نے بتایا کہ جب وہ واپس آ رہی تھی تو وہاں کیپٹل ہل کے سامنے رپورٹر بھی موجود تھے اور اُن کے سامنے ریپریزینٹیٹو یوہو نے مجھے گندی گالی دی۔

گالی کا ذکر کرتے ہوئے اے او سی کا کہنا تھا کہ یہ الفاظ ریپریزینٹیٹو یوہو نے ایک کانگریس وومن کے لیے استعمال کیے جو نیو یارک کے ایک ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ کانگریس کی باقی سب خواتین اراکین اور ملک بھر کی خواتین کی نمائندگی کرتی ہے جنھیں کسی نہ کسی شکل میں اپنے زندگی کے کسی موڑ پر کسی صورت میں اس طرح کی بدتمیزی کا سامنا ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ الفاظ اُن کے لیے تکلیف دہ نہیں کیونکہ یہ اُن کے لیے نئے نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والے فرد کی طرح نوکری بھی کر چکی ہیں اور ریستوران وغیرہ میں ویٹرس کا کام کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایسی ہی حالات میں ریپریزینٹیٹو یوہو کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کا سامنا ہوا جب مجھے ہراساں کیا گیا اور میں نے اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرنے والے بدتمیز مردوو کو بار سے نکلا بار پھینکا ہے۔ یہ نیا نہیں ہے اور یہ دراصل مسئلہ ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریپریزینٹیٹو یوہو اکیلے نہیں تھے بلکہ اُن کے ساتھ ریپریزینٹیٹو راجر ولیمز بھی تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں اور ایسے لوگ سزا سے بلاخوف کرتے ہیں۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے انھیں اپنے گھر واپس لوٹ جانے والے واقعے کی یاد دہانی بھی کروائی۔

اوکاسیو کورٹیز نے بتایا کہ وہ جن واقعات کا ذکر کر رہی ہیں وہ سب ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے مرد حضرات کا ہے۔

آخر میں ایلگزانڈرا اوکاسیو کورٹیز نے ریپریزینٹیٹو یوہو کی جانب سے گزشتہ روز کانگریس میں اپنے الفاظ کے دفاع پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس معاملے کو نظر انداز کردیا تھا مگر جب ریپریزینٹیٹو یوہو نے عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں اور بیوی کو ڈھال بنانے کی کوشش کی اور اپنے الفاظ کے دفاع میں پیش کیا تو یہ میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔

الیگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز نے جس طرح خواتین کا دفاع کیا اور جن الفاظ میں کانگریس کے رکن ٹیڈ یوہو کو اُن کی بدتمیزی پر کانگریس میں شرمندہ کیا، ان الفظ کو بہت سے لوگوں نے سراہا اور سوشل میڈیا پر دہرایا۔

امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار الیزبتھ وارن نے اے او سی کے خطاب کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اول تو اسے دیکھیں۔ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ دوئم تصور کریں کہ ہم کیا کچھ حاصل کر سکیں اگر خواتین کو اپنا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی چیزوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیریلین لفیل لکھتی ہیں کہ اے او سی کھل کر بول رہی ہیں اور ہم سب کی آواز ہیں۔ اُن سب عورتوں کی جنھیں اس طرح کی بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ٹیڈ یوہو نے اپنے دفاع میں جو بیان کانگریس میں دیا اُسے بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اُسے ایسی معافی کے مترادف قرار دیا جو در حقیقت معافی ہوتی ہی نہیں۔ ایسے الفاظ پر وہ الفاظ صادق آتے ہیں کہ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

ٹیڈ یوہو نے اپنے دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہا کہ اُن کی بھی بیٹی ہے اور بیوی ہے۔ ایلگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ بیٹی ہونے سے کوئی مرد شریف النفس نہیں بنتا۔ بیوی ہونے سے مرد شریف النفس نہیں ہوجاتا۔ لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آنا مرد کو شریف النفس بناتا ہے۔

انھوں نے ٹیڈ یوہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی سے دو سال چھوٹی ہوں میں بھی کسی کی بیٹی ہوں۔۔ شکر ہے کہ میرے والد زندہ نہیں کہ دیکھیں کہ اُن کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوا۔ میں یہاں اس لیے آئی ہوں کہ یہ دکھا سکوں کہ میرے والدین نے میری اس طرح کی پرورش نہیں کی کہ میں کسی مرد کی جانب سے استحصال کو برداشت کروں۔

امریکی کانگریس کی رکن صومالی نژاد الہان عمر نے کانگریس میں الیگزانڈرا اوکاسیو کورٹیز کے ساتھ اظہار یکجہتی میں خطاب کیا اور اُس ویڈیو کو ٹویٹ کیا۔

ساتھ انھوں نے لکھا کہ میں نہ صرف اے او سی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں بلکہ سب خواتین کے ساتھ جنھیں تلخ زبان اور بدتمیزی کا سامنا ہوتا ہے، صرف ایک بار نہیں بلکہ اُس وقت سے جب وہ چھوٹی بچیاں ہوتی ہیں۔ ٹیڈ یوہو اور بہت سے دوسروں کا یہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سب خواتین کو برابر کی عزت اور بنیادی مساوی حقوق ملنے چاہیے ہیں۔ بس۔