سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا مقدمہ ترکی میں شروع

ترکی میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں بیس سعودی شہریوں پر ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

جمال خاشقجی کو اکتوبر سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

جن بیس سعودی شہریوں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دو سابق اعلیٰ مشیر بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جمال خاشقجی جن کا تعلق ایک با اثر سعودی خاندان سے تھا وہ ایک عرصے سے ملک سے باہر تھے اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کی طرز حکمرانی کے شدید ناقد تھے۔

استنبول میں سعودی سفارت خانے میں ان کی ہلاکت پر ایک مقدمہ سعودی عرب میں چلایا گیا تھا جس کو عالمی سطح پر نامکمل قرار دیتے ہویے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا تھا اور اسی پس منظر میں استنبول میں ان کے قتل کے مقدمے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر بھی اس قتل کے بعد انگلیاں اٹھائی جانے لگی تھیں جس کی بنا پر سعودی عرب میں علیحدہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔

ترکی میں حکومتی وکلاء سعودی عرب کے سابق نائب سربراہ احمد العسیری اور شاہی خاندان کے میڈیا امور کے مشیر سعود القتانی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اس قتل میں ملوث سعودی اہلکاروں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ دیگر اٹھارہ ملزمان نے خاشقجی کو گلا گھنوٹ کر مار دیا اور ان کی لاش کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا گیا تھا۔

جمال خاشقجی جن کے پاس امریکی شہریت بھی تھی وہ ترکی میں سعودی سفارت خانے میں اپنی شادی کے سلسلے میں کچھ ضروری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے گئِے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز اقوام متحدہ کے ماورائے عدالت ہلاکتوں کو قلم بند کرنے والے خصوصی نمائندے ایگنس کالامرڈ کے ہمراہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران موجود تھیں۔

سعودی عرب کی حکومت نے ابتدا میں اس میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی اور بعد میں اسے ایسی کارروائی قرار دیا جو ہاتھ سے نکل گئی۔

گزشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب میں ایک عدالت نے پانچ افراد کو موت اور تین کو قید کی سزا سنائی تھی لیکن یہ تمام مقدمہ انتہائی راز داری میں چلایا گیا اور ملزماں کے نام تک ظاہر نہیں کیے گئے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور بعض مغربی حکومتوں کو یقین ہے کہ یہ قتل سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کے حکم پر کیا گیا ہے جو عملاً اس وقت سعودی عرب کے حکمران ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کالامرڈ کا کہنا ہے کہ خاشقجی کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ تھا اور ایک ماورائے عدالت قتل ہے جس کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے۔

جمال خاشقجی کی عمر 59 برس کی تھی اور وہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کر رہے تھے۔

ترک استغاثہ نے احمد الانصادی اور سعود القتانی پر اس قتل کی سازش کرنے اور اس پر عمل کروانے کا الزام عائد کیا ہے۔

خدیجہ چنگیز کو امید ہے کہ اس مقدمے میں نئے اور اہم شواہد سامنے آئیں گے اور یہ معلوم ہو گا کہ خاشقجی کے ساتھ کیا کیا گیا۔

جس دن سعودی سفارت خانے میں خاشقجی کو قتل کیا گیا وہ سفارت خانے کے باہر ان کا انتظار کر رہی تھیں۔