آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماؤنٹ ایورسٹ: چین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی کی پیمائش کا دوبارہ آغاز کر دیا
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین کی ایک سروے ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ پر پہنچ چکی ہے، جو کورونا وائرس کے وبائی مرض کے دوران دنیا کی بلند ترین چوٹی پر جانے والی واحد ٹیم ہے۔
یہ سروے ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی دوبارہ ماپنے کے لیے وہاں پہنچی ہے۔
بی بی سی کے ماحولیاتی نامہ نگار نوین سنگھ کھڑکا کے مطابق سنہ 2005 کی پیمائش کے بعد سے چین یہ کہتا رہا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 8,844.43 میٹر ہے لیکن نیپال برطانوی نوآبادیاتی دور کے دوران سروے آف انڈیا کے ذریعہ مقرر کردہ 8،848 میٹر کے اعداد و شمار کا استعمال کرتا ہے۔
نیپال نے سنہ 2017 میں ایورسٹ کی اونچائی کی پیمائش کے اپنے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔
گذشتہ برس اکتوبر میں چینی صدر کے دورہ نیپال کے دوران دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کی اونچائی کا اعلان مشترکہ طور پر کریں گے۔
یہ واضح نہیں کہ اگر دونوں ملکوں کی پیمائش مخلتف آتی ہے تو وہ اس کا کیا حل تلاش کریں گے۔
سنہ 2015 میں آنے والے ایک بڑے زلزلے کے اس پہاڑ پر آنے والے اثرات کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ انڈیا اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے اور دونوں طرف سے اس پر چڑھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صرف چین نے ہی اپنے شہریوں کو کورونا وائرس کی وبا میں اپنے شہروں کو اس چوٹی پر چڑھنے کی اجازت دی ہے جبکہ نیپال نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر اپنی تمام مہمات کو منسوخ کر دیا ہے۔
۔