کورونا وائرس: اگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد بننے والا ’ورلڈ آرڈر‘ بدل گیا تو کیا ہو گا؟

    • مصنف, جوناتھن مارکس
    • عہدہ, تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور

کسی بھی چیز سے زیادہ وہ جنگ ہی تھی جس نے ہماری دنیا کو نئی شکل دی تھی۔

وکٹری ان یورپ یا 'وی ای' ڈے، واضح طور پر لڑائی کا آخری باب نہیں تھا۔ جاپان کو مکمل طور پر شکست دینا باقی تھا۔ لیکن پھر بھی وہ ایک اہم سنگِ میل تھا جو نئی طرح کے گلوبل آرڈر یا عالمی نظم کی طرف ایک اہم قدم تھا۔

امریکہ اس جنگ کے بعد ایک فوجی سپر پاور کے طور پر ابھرا، اس نے جوہری ہتھیار بنانے میں بھی ماسکو سے سبقت حاصل کر لی تھی جو کہ عالمی سپر پاور کی اہم شناخت بن چکی تھی۔

لیکن روس بھی پیچھے نہیں رہا۔ اس کے مشرقی یورپ کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول کے فیصلے نے کم محاذ آرائی والے نئے آرڈر کی امیدوں پر کچھ حد تک تو پانی پھیر دیا۔

اس سے نیٹو کا جنم ہوا اور امریکہ اور مغربی یورپ کے درمیان بظاہر مستقل فوجی اور سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ اس ہفتے صحافی اور تاریخ دان این ایپل بام نے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر ایک ویبینار میں کہا کہ 'اس نے 'مغرب' کے خیال کو جنم دیا: ایسی اقدار کا اتحادی نظام جو نہ صرف سرحدوں بلکہ خیالات پر بھی مشتمل ہو۔'

لیکن یہ صرف نیٹو نہیں تھا۔ جیسا کہ پروفیسر مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ وہاں مختلف اداروں کا ایک مکمل نیٹ ورک تھا۔

ان کے مطابق ’بین الاقوامی اداروں کا جنگ سے پہلے کا بہت کم ڈھانچہ باقی رہ گیا تھا۔ اور 1919 سے بھی زیادہ ایک شعوری سوچ تھی کہ ’ملبے‘ سے دوبارہ عالمی آرڈر بنانے کی ضرورت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اس کے بعد بریٹن ووڈز کا اقتصادی نظام، دی آئی بی آر ڈی (ورلڈ بینک) اور آئی ایم ایف۔ برطانیہ کا اس میں کافی اثر و رسوخ تھا لیکن امریکی طاقت فیصلہ کن تھی۔

اس بارے میں

پروفیسر مائیکل کلارک کہتے ہیں ’تقریباً سبھی بین الاقوامی اداروں نے اپنے استحکام کے لیے امریکی مفاد اور اس کی حمایت پر انحصار کیا۔ 50 اور 60 کی دہائی میں مغربی غلبے والے اداروں کے چنگل سے ایک انتہائی قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کا ارتقا ہوا۔ ان قواعد پر مبنی آرڈر پر اب انتہائی دباؤ ہے کیونکہ اس کے سیاسی سہارے اب نمایاں طور پر بدل رہے ہیں۔‘

اس کی کیا وجہ ہے، یہ ہمارے ہر دن کے نیوز ایجنڈے کا ایک ضروری حصہ ہے۔

یہ رائزنگ (ابھرتا ہوا) چین ہے، ایشیا اور مشرق بعید میں اقتصادی طاقت کا منتقل ہونا ہے، اور یہ کئی مغربی جمہوریتوں میں بڑھتے ہوئے عوامی رجحانات بھی ہیں۔

مثال کے طور پر نیٹو میں ہی واضح تناؤ دیکھ لیں، جس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ سوالات ہی ںکہ آخر امریکہ کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے، اور ترکی اور ہنگری جیسے اتحادی ممالک میں آمرانہ طرز کی حکومتوں کا ابھرنا ہے۔

صحافی اور تاریخ داں این ایپل بام کہتی ہیں کہ امریکہ کی ریپبلکین جماعت میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک تنہائی پسند سوچ نے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مغربی اقدار کے نظام میں کچھ دراڑیں آ گئی ہیں اور نسلوں میں تبدیلی (جنریشنل چینج) کا مطلب ہے کہ بہت کم سیاستدانوں کا جنگ کے فوری بعد کے دور سے کوئی تعلق ہے۔

آج کے دور کی تاریخ سے لاعلمی ایک اور مسئلہ ہے۔

چین حالیہ وقتوں میں ہی ابھر کر سامنے نہیں آیا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے ہی اس کے مستقبل ممبران میں سے ایک تھا۔

مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ ’امریکہ کو ہمیشہ چین کے متعلق خاص تشویش رہی ہے، جنگ سے پہلے بھی اور اس کے دوران بھی۔‘

اگرچہ اس کے متعلق زیادہ بات نہیں ہوتی لیکن مائیکل کلارک کے مطابق ’امریکہ ہمیشہ کمیونسٹ دور سے پہلے والے چین کو نئے ورلڈ آرڈر میں ایک اہم طاقت کے طور پر دیکھتا تھا جو کہ قدرتی طور پر فرانس اور برطانیہ جیسی قدیم شاہی سلطنتوں کی موجودی میں توازن لا سکے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس لیے ہی امریکہ کو بہت پریشانی ہوئی تھی جب 1949 میں چین کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ وہ 1972 تک اس دکھ سے نہیں نکل سکا اور اب شاید دنیا میں چین کے کردار پر وہ دوبارہ ’سِنڈروم آف ڈس ایلوژنمنٹ‘ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔‘

کِنگز کالج کے پروفیسر لارنس فریڈمین اس سے اتفاق کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے دوران ’چین کا ایک مختلف مسئلہ تھا۔‘ 20 ویں صدی میں چین کو ایک اقتصادی اور ٹیکنیلوجیکل خطرہ نہیں سمجھا جاتا تھا، جس طرح آج سمجھا جاتا ہے۔

مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ واشنگٹن کا یہ ’زوال‘ جنگ کے بعد کے آرڈر کے خاتمے کی وجہ سے زیادہ اس کی علامت بن گیا ہے۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے ’واشنگٹن اب اس کوشش میں ہے کہ جتنا ممکن ہے اس میں مزید تیزی لائی جائے‘۔

وہ کہتے ہیں ’نیا ابھرتا ہوا ورلڈ آرڈر اس سادہ سی حقیقت پر قائم ہے کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اب اس دائرے کے اندر رہتی ہے جسے انڈیا، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے گرد کھینجا جا سکتا ہے۔

’اس سے دنیا کا معاشی جغرافیہ چلتا ہے، اور اس کی وجہ سے قومی سیاسی طاقت وقوع پذیر ہوتی ہے اور اس کے بعد بین الاقوامی سیاسی ڈھانچے۔‘

سو کووڈ 19 کے بحران کی وجہ سے کیا بدلے گا، اگر کچھ بدلہ بھی تو؟

مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ وبا کے بعد کی دنیا ’ایشیئن سنچری‘ یا ایشیا کی صدی نہیں ہوگی، لیکن اس کے اثرات آنے والی دہائیوں میں ممکنہ طور پر حقیقی عدم تسلسل پیدا کریں گے۔

ان کے خیال میں بحران کی وجہ سے ’چین کو طویل مدت تک نقصان ہوگا۔ اس مسئلے سے نمٹنے پر ہونے والے سیاسی ردِ عمل کی وجہ سے اور ابھرنے کی قوت اور سپلائی چینز کے متعلق قومی اندازوں پر بھی جو چین پر بہت انحصار کرتے ہیں۔‘

یہ اندازہ لگانا شاید قبل از وقت ہو کہ کووڈ۔19 کے بعد کا بین الاقوامی نظام کیسا لگے گا۔

لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سامنے آنے والی پبلک سروس اور یکجہتی جنگ کے بعد کی زندگی میں بھی پیوست رہی تھی۔ کیا اچھا ہو کہ اس طرح کا احساس اب بھی قائم رہے، لیکن بدقسمتی سے سبھی اشارے اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔