آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فتح کا دن آٹھ مئی: جب برلن میں نازی دور کا اختتام ہوا
16 اپریل سنہ 1945 کو سویت فوج نے چار سال کی شدید لڑائی کے بعد برلن پر حملے کا آغاز کیا تھا
نازی جرمنی نے جون 1941 میں سویت یونین پر حملہ کیا تھا جس میں ایک اندازے کے مطابق سوویت یونین کے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں سویلین اور فوجی شامل تھے۔
لیکن اب ایڈولف ہٹلر کا جرمنی گھٹنے ٹیک چکا تھا، جنگ سے تھکی ہاری اور بکھری ہوئی 95 ہزار فوجیوں پر مشتمل جرمن فوج کو مشرق اور جنوب دونوں جانب سے سویت فوج کے حملوں کا سامنا تھا۔
سویت فوج میں شامل کل پندرہ لاکھ فوجیوں نے جرمنی کے دارالحکومت برلن کو چاروں جانب سے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور پھر وہ برلن پر حملہ آور ہوئے تھے۔
یہ یورپ میں ان کا آخری بڑا جنگی معرکہ تھا۔
ایڈولف ہٹلر نے اپنی زندگی کے آخری ایام برلن شہر کے وسط میں ایک فیورر بنکر (لیڈر کی زیر زمین مخصوص پناہ گاہ) میں گزارتے ہوئے دارالحکومت چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
وہ آخری مرتبہ 20 اپریل 1945 کو اپنی 56ویں سالگرہ کے موقعہ پر منظر عام پر آئے تھے جب انھیں نے شہر کا دفاع کرنے والوں کو تمغوں سے نوازا تھا۔
اسی دن سویت فوجوں نے شہر کے وسط پر حملہ آور ہوتے ہوئے گولے داغنے کا آغاز کیا تھا، 23 اپریل تک برلن کا مکمل محاصرہ کیا جا چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نازی فوج سویت فوج کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم تھی اور اس کے پاس گولہ بارود اور اسلحہ بھی ختم ہو چکا تھا۔
وہ سویت فوجوں کی شہر کی جانب پیش قدمی کو سست کرنے کے علاوہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔
ایڈولف ہٹلر نے ایوا براؤن سے شادی کے ایک روز بعد ہی 30 اپریل 1945 کو خودکشی کر لی تھی۔ ان کی لاشوں کو زیر زمین بنکر سے نکال کر قریبی ایک بموں کے نتیجے میں جل رہی آگ میں جلا دیا گیا۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد سویت فوجوں نے جرمنی کی تاریخی عمارت رائشٹاگ، جو اس وقت تباہ شدہ حالت میں تھی، پر قبضہ کر لیا تھا۔ ایک مشہور تصویر میں ایک سویت فوجی کو سویت یونین کا پرچم اس تاریخی عمارت پر لہراتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سرکاری طور پر برلن دو مئی کو فتح ہو گیا تھا البتہ آٹھ مئی تک یورپ میں جنگ کہ اختتام تک لڑائی جاری رہی تھی۔
اگر صرف برلن کی بات کی جائے تو اس جنگ کے نتیجہ میں برلن مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، شہر میں صرف کھنڈرات بچے تھے۔
قابض سویت فوجیوں نے شہریوں کو اشیا خوردو نوش فراہم کی تھیں مگر سپاہیوں نے شہریوں پر تشدد بھی کیا تھا۔ ہزاروں خواتین کو ریپ کیا گیا تھا۔
جنگ کے بعد برلن پر فاتح اتحادی افواج نے قبضہ کر لیا تھا۔
شہریوں نے شہر کی صفائی کا آغاز کر دیا تھا اور جنگ کے خاتمے کے چند ماہ بعد امریکہ، برطانیہ اور سویت یونین کے رہنماؤں کا برلن کی مضافات میں مستقبل میں امن کے لائحہ عمل کے لیے ایک اجلاس ہوا تھا۔
تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔