کورونا وائرس: افریقی ممالک میں کورونا کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ دوا کا چرچہ

تنزانیہ کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ مڈغاسکر ایک طیارہ روانہ کریں گے جس میں کورونا کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ دوا (ہربل ٹانک) لائی جائے گی۔

اس ہربل ٹانک کو مڈغاسکر کے صدر نے کورونا کا ممکنہ علاج قرار دیا ہے۔ کانگو کے صدر نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لیے اس ہربل ٹانک کو مڈغاسکر سے درآمد کریں گے۔

یہ دوا ’آرٹیمیسیا‘ نامی پودے سے کشید کیا جاتا ہے۔ اس پودے سے حاصل ہونے والے اجزا ملیریا سے بچاؤ کی دوا میں بھی استعمال ہوتے ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک کورونا کی کوئی تصدیق شدہ دوا سامنے نہیں آ سکی ہے۔ عالمی ادارے نے لوگوں کو خود سے تجویز کردہ ادویات استعمال کرنے کے حوالے سے متنبہ بھی کیا ہے۔

مڈغاسکر کے صدر کی چیف آف سٹاف لوا حسینیرینا رانو رومارو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ہربل ٹانک کا نام ’کووڈ اورگینکس‘ ہے اور اسے تین ہفتوں تک 20 سے کم افراد پر تجرباتی طور پر استعمال کرنے کے بعد اس کی فروخت کا آغاز کیا گیا ہے۔

کووڈ اورگینکس کے اجرا کے بعد عالمی ادارہ صحت نے بی بی سی کو ارسال کیے گئے بیان میں لکھا کہ عالمی ادارے نے کورونا وائرس سے بچاؤ یا اس میں مبتلا ہونے کی صورت میں علاج کے لیے ’سیلف میڈیکیشن‘ یعنی خود سے کسی بھی دوا کے ذریعے علاج کی تجویز نہیں دی۔

اس جواب میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس کے اس بیان کو دہرایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی مؤثر دوا کی تلاش کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر طریقہ علاج معلوم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مارچ میں امریکہ میں صحت کے ادارے نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں، تھراپی اور مختلف اقسام کی چائے کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔

ادارے کا کہنا تھا کہ وبا سے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

اس ہربل ٹانک کو دیگر افریقی ممالک بھی تنزانیہ سے لے رہے ہیں۔

سنیچر کو مڈغاسکر نے مغربی افریقہ کے ملک گنیا بساؤ میں اس ٹانک کی ایک کھیپ بھجوائی ہے۔ ملک کے صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں تصدیق بھی کی کہ گنیا بساؤ کے خصوصی ایلچی نے اس دوا کی کھیپ وصول کی ہے۔

ٹی وی پر خطاب میں تنزانیہ کے صدر جان میگوفولی نے کہا ہے وہ پہلے ہی مڈغاسکر کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دوا کی درآمد کے لیے وہ طیارہ بھجوائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں ’مڈغاسکر کے ساتھ رابطے میں ہوں اور انھوں نے پہلے ہی ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایک دوا دریافت کی ہے۔ ہم ایک پرواز کے ذریعے اس دوا کو لائیں گے تاکہ تنزانیہ کو بھی فائدہ حاصل ہو۔ بطور حکومت ہم دن رات کام کر رہے ہیں۔‘

کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ردعمل پر صدر میگوفولی کو پہلے ہی بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انھوں نے لوگوں کو اس بات پر تلقین کی ہے کہ وہ اجتماعی عبادات جاری رکھیں تاہم دوسری جانب دنیا کے زیادہ ترحصوں میں لاک ڈاؤن ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تنزانیہ کی جانب سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پابندیوں میں تعطل کی وجہ سے مثبت کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تنزانیہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 480 ہے جبکہ کونگو میں یہ تعداد 229 اور مڈغاسکر میں 135 افراد متاثر ہوئے ہیں۔