آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران شراب خانوں کی بندش، قیمت میں اضافہ اور خطرناک متبادل زیر استعمال
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب خانے بند تھے۔ اس لیے ہم نے بازار سے سپرٹ خریدی اور پانی میں ملا کر چیک کرنے کے لیے پی جس کے بعد ہماری طبیعت خراب ہوگئی۔‘
یہ کہنا ارسلان کا ہے۔ وہ واحد خوش نصیب ہیں جو کچی شراب پینے کے بعد زندہ بچ گئے۔ جبکہ ان کے چار دوست کچی شراب پینے سے دم توڑ چکے ہیں۔
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں گذشتہ ہفتے یہ واقعہ پیش آیا جب کچی شراب پینے کے باعث پانچ افراد کو سول ہسپتال لایا گیا۔ لیکن دو بھائیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ارسلان کا کہنا ہے کہ وہ روز شراب پیتے تھے لیکن دکانیں بند تھیں اس لیے انھوں نے یہ تجربہ کیا۔
پاکستان میں لاک ڈاؤن کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات میں شراب خانے بند رکھے گئے ہیں۔ اس کے ردعمل میں کچھ لوگوں نے نشہ آور گولیاں، ہومیوپیتھک ادویات یا سپرٹ کو اس کا متبادل بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاک ڈاؤن اور شراب خانوں کی بندش
اس حوالے سے سندھ کی مثال لی جاسکتی ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں صوبائی حکومت نے ایک دن کے نوٹس پر شراب خانے بند کر دیے تھے۔
اس بندش میں توسیع ہوتی رہی اور موجودہ حکم نامے کے مطابق یہ بندش 30 اپریل تک جاری رہے گی۔
سندھ کے محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کے مطابق صوبے بھر میں 21 ہول سیلرز ہیں جو شراب خانوں، ہوٹلوں اور تقریبات میں شراب فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ 159 لائسنس یافتہ شراب خانے ہیں جن کی اکثریت کراچی میں واقع ہے اور ان شراب خانوں میں غیر مسلمان افراد کو شراب فروخت کی جاتی ہے۔
بین الاقوامی سطی پر مانگ میں اضافہ
دنیا کے مختلف ملکوں میں لاک ڈاؤن اور لوگوں کے گھروں تک محدود ہونے کی وجہ سے شراب کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر کچھ ممالک میں شراب خانے کھلے ہیں تو بعض میں بند ہیں۔ بار بند ہونے کے باوجود کچھ ملکوں میں شراب خریدی جاسکتی ہے لیکن شراب کی محفلیں سجانے سے گریز کی ہدایت ہے۔
اس دوران صرف امریکہ میں شراب کی فروخت میں 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فوربز میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق وبا کے دنوں میں جب تمام کاوبار زوال اور مندی کا شکار ہیں تو وہیں شراب کا کاروبار نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوا ہے۔
’سندھ میں کھپت زیادہ‘
پاکستان میں مری بیوری، کوئٹہ ڈسٹلری اور مہران ڈسٹلری کے نام سے شراب کے کارخانے موجود ہیں۔ مری بیوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ نے بتایا ہے کہ صرف ان کی بیوری کی پیداوار کی 60 فیصد کھپت صوبہ سندھ میں ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق صوبہ سندھ میں ہندو ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسری بڑی اقلیت مسیحی برادری ہے جبکہ اس کے علاوہ پارسی اور سکھ بھی آباد ہیں۔ صوبے میں شراب خانوں کے لائسنس زیادہ تر ہندوؤں کے پاس ہیں جبکہ کراچی میں بعض مسیحی افراد بھی شراب فروخت کرتے ہیں۔
کراچی میں شراب خانوں کے مالکان اور منیجرز سے لی گئی معلومات کے مطابق ملیر پندرہ پر قائم شراب خانے سے یومیہ 300 لیٹر شراب فروخت ہوتی ہے۔ عیسیٰ نگری جہاں مسیحی آبادی زیادہ ہے وہاں 500 سے 600 لیٹر تک یومیہ فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح میمن گوٹھ کے شراب خانے سے 300 لیٹر یومیہ تک شراب لی جاتی ہے۔
شہر کے اہم تجارتی مرکز میں قائم شراب خانے کے مالک کے مطابق مزدور طبقے اور غریب آبادیوں کے قریب جو شراب خانے ہیں وہاں فروخت زیادہ ہے۔ صارفین زیادہ تر اپنے لیے خریداری کرتے ہیں جس کی وجہ سے ’پوے اور پِنٹ‘ یعنی ہاف لیٹر بوتل کی زیادہ فروخت ہوتی ہے۔
شراب خانوں کے مالکان کے مطابق شراب کے برانڈز کی فروخت موسم کے حساب سے ہوتی ہے۔ اب جیسے گرمی ہے تو اس میں ’جِن‘ کے برانڈ اور ’بیئر‘ زیادہ فروخت ہوں گے جبکہ سردی میں ’ووڈکا‘ کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
رمضان سے قبل ذخیرہ اندوزی کا رجحان
پاکستان میں ماہ رمضان میں تمام شراب خانے بند ہوجاتے ہیں۔ مالکان کے مطابق رمضان کی آمد سے قبل سیل 40 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ بندش کے ڈر سے لوگ پہلے ہی شراب سٹاک کر لیتے ہیں۔
رمضان کے دوران ’بوٹ لیگرز‘ یا شراب فروش کے ذریعے بھی فراہمی جاری رہتی ہے لیکن عام قیمتوں سے قیمت زیادہ وصول کی جاتی ہے۔
لاک ڈاؤن اور روزانہ والے صارفین
لاک ڈاؤن میں ایک روز کی پیشگی اطلاع پر شراب خانوں کو بند کیا گیا۔ ایک صارف کے مطابق ان کے بوٹ لیگر نے انھیں آگاہ کیا تو انھوں نے کچھ سامان منگوا لیا۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ لاک ڈاؤن طویل ہوجائے گا۔
ایک دوسرے صارف کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی سمجھا کہ چند روز میں دکانیں کھل جائیں گی۔ لیکن یہ بندش طویل ہوتی گئی۔
ایک صارف نے بتایا کہ پاکستانی ’جِن‘ کی ایک لیٹر کی بوتل، جو 1500 سے 1700 روپے میں دستیاب ہوتی تھی، اس وقت سات ہزار روپے تک میں فروخت ہو رہی ہے۔ جبکہ غیر ملکی برانڈ کم از کم 10 ہزار سے 18 ہزار روپے لیٹر تک فروخت ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول ’ماضی میں شراب کی قیمتوں میں کبھی اس قدر اضافہ نہیں ہوا۔‘
بعض صارفین نے بتایا کہ وہ ’متبادل‘ استعمال کر رہے ہیں جن میں ادوایات شامل تھی۔
پاکستان کے سب سے بڑے شراب کے کارخانے مری بیوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ کا کہنا ہے کہ جس طرح دیگر دکانیں کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے ویسے ہی وائن شاپس کھولنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ ’جو ایس او پیز ہیں ان پر عمل کیا جائے یعنی لوگ سماجی فاصلہ رکھیں۔ چار، پانچ کر کے (شراب خانوں میں) آئیں۔‘
ان کا کہنا ہے ’شراب کی فروخت مکمل طور پر بند نہیں ہونی چاہیے ورنہ لوگ اس کا خطرناک متبادل اختیار کر لیں گے۔۔۔ اس کو اسی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے سندھ اور پنجاب کو کروڑوں روپے کا ٹیکس ملتا ہے۔‘
پاکستان میں دیگر کئی صنعتوں اور کارخانوں کی طرح مری بیوری کا کارخانہ بھی بند ہے۔ اسفن یار بھنڈارہ کے مطابق 20 مارچ سے پیداوار بند ہے۔ ’جب دیگر صنعتیں کھلیں گی تو ہم بھی پیداوار بحال کریں گے۔ دباؤ کا سامنا تو کرنا پڑے گا لیکن ہمارے پاس خام مال دستیاب ہے۔‘
حکمران مذہبی جماعتوں سے ’خوفزدہ‘
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کالم نگاروں اور سینیئر صحافیوں سے ملاقات کی اور اس دوران حیدرآباد میں چار افراد کی ہلاکت اور مستقبل میں ان حادثات میں اضافے کے خدشات پر بات کی گئی۔ تاہم مراد علی شاہ نے شراب خانے کھولنے سے متعلق سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
حکومت میں شامل فریقین کا کہنا ہے کہ شراب خانے کھولنے سے مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید رد عمل آسکتا ہے اس لیے حکومت محتاط ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہی مسلمان اکثریت ملک میں شراب کے استعمال اور شراب خانوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
آکسفرڈ کی شائع کردہ کتاب ’سٹی سکیپس آف وائلنس اِن کراچی‘ میں شراب پر پابندی کے نام سے ایک مضمون میں کالم نویس فاروق ندیم پراچہ لکھتے ہیں کہ
1971 میں مشرقی پاکستان گنوانے کے بعد جماعت اسلامی نے جرنیلوں پر الزام عائد کیا کہ ملک کو ’وائن اینڈ وومین‘ (شراب نوشی اور خواتین میں دلچسپی) کی وجہ سے جنگ میں شکست ہوئی۔
’1974 میں وزیرا عظم ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی میس میں شراب کے استعمال پر پابندی عائد کر دی لیکن ملک میں شراب خانوں، نائٹ کلب اور کافی شاپس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔‘
مصنف کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور میں جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ ونگ شراب خانوں کے خلاف مہم چلاتے رہے لیکن عوامی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکی۔
ندیم فاروق پراچہ نے وسیم حیدر اور محمد اسلم چوہدری کی تحقیق ’الکوحل ازم ان پنجاب‘ کا حوالہ دیا ہے کہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو نے شراب خانوں اور شراب کے استعمال پر پابندی عائد کی اور 1979 میں جنرل ضیاالحق اس میں مزید سختی لائے۔ ’لیکن ان پابندیوں کے باوجود شراب کی فروخت جاری رہی۔ بوٹ لیگر اور غیر قانونی ڈسٹلریز کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔‘
الکوحل سے اچانک دوری کے اثرات
یاد رہے کہ طبی جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک وسیع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی ہر لحاظ سے مضر صحت ہے اور کم یا زیادہ پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ کہ کم شراب نوشی بھی بلند فشارِ خون اور فالج کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الکوحل کے صارفین اگر اس کے استعمال کو ایک دم ترک کرتے ہیں تو ان کے صحت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ہیرا لال لوہانہ کا کہنا ہے کہ وہ صارف کو آہستہ آہستہ مرحلہ وار شراب نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ان کے مطابق ترکِ شراب سے صارف میں بے چینی، سر کا چکرانا اور بعض اوقات قہہ آنا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ بے خوابی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں انھیں ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
منشیات اور ماہر نفسیات لاک ڈاؤن کی موجودہ صورتحال کو شراب کا استعمال کم یا اسے مکمل طور پر ترک کرنے کا ایک موقع قرار دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر ہیرا لال کے مطابق اگر کوئی رضاکارانہ طور پر شراب چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے اچھی نیند، متوازی اور صحت مند غذا، پانی اور جوس وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے۔ جبکہ واک (چہل قدمی) اور ورزش جیسی عادات ایسے افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔